03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر فروخت کیے بغیر وراثت کی تقسیم
87575میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا بغیر گھر بیچے وراثت کسی طرح تقسیم ہوسکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 گھر اور جائیداد وغیرہ  کی تقسیم کی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ جائیداد فروخت کرکے اس کی قیمت کو تمام ورثاء پر ان کے حصص کے تناسب سے تقسیم کیا جائے، تاہم اگر ورثہ جائیداد کو فروخت کئے بغیر ترکہ کی تقسیم کے خواہشمند ہیں تو اس کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ مکان کو ورثہ کے حصوں  کے مطابق تقسیم کردیا جائے اور ہر وارث کو اس کا حصہ دیا جائے۔پھر  جس وارث کو جو حصہ ملے وہ اپنی مرضی کے مطابق چاہے تو الگ سے تنہا اپنے حصے میں رہائش اختیار کرے ، چاہے تو دوسرے وارث کو اپنے حصے میں ٹھہرا کر اس سے اپنے حصے کے بقدر کرایہ وصول کرتا رہے ۔

حوالہ جات

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب