| 87574 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے دادا کا انتقال ء2002 میں ہوا ، ان کے لواحقین میں ایک بیوی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔ترکہ میں ایک گھر ہے، جس میں ان کی بیوی اور بیٹے کی رہائش ہے،جبکہ بیٹی شادی شدہ ہے۔ اب تک اس گھر کی تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اِس سال میری دادی کا بھی انتقال ہوگیا۔ اب وراثت کی تقسیم کا کیا طریقہ ہوگا ؟دادی چونکہ دادا کے انتقال کے وقت حیات تھیں اور اصولاً ان کا بھی حصہ تھا ،تو کیا وہ اب بھی باقی ہوگا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے جو کچھ چھوٹابڑا سازوسامان،رقم اور جائیداد چھوڑی ہے،سب اس کا ترکہ ہے ۔اس میں سے پہلے مرحوم کی تجہیز وتکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالےجائیں ،پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو (بیوی کا مہرادا نہ کیا ہوتو وہ بھی دَین یعنی قرض میں شامل ہے) تووہ ادا کیا جائے ،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس کےبعدجوترکہ بچ جائے اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ ( ایک بیوہ، ایک بیٹے اورایک بیٹی )میں تقسیم کیاجائےگا، چونکہ اس تقسیم سے پہلے بیوہ کا بھی انتقال ہوچکا، لہٰذا اس کا حصہ بھی میراث میں شامل کرکے والدین کی میراث ان دونوں کےانتقال کےوقت موجودورثہ (ایک بیٹے اورایک بیٹی ) میں تقسیم کی جائے گی ۔
تقسیم میراث کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ ترکہ کے تین حصے کر دیے جائیں گے ، جن میں سے 2 حصے بیٹے کو ، جبکہ 1حصہ بیٹی کو دے دیا جائے گا ۔
ذیل میں تقسیم میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں :
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
مکان کی قیمت میں حصہ کا تناسب |
|
1 |
بیٹا |
2 |
66.6666% |
|
2 |
بیٹی |
1 |
33.3333% |
حوالہ جات
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


