03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیچنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر وجوبِ قربانی
87811قربانی کا بیانوجوب قربانی کانصاب

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے پاس پلاٹ ہے جس کی مالیت تقریباً چار لاکھ روپے ہے ، جو اس نیت سے لیا ہے کہ آئندہ کبھی اس کو فروخت کر کے رہائشی مکان لیں گے۔اسکے سوا کوئی ذاتی مکان بھی نہیں، مزید کوئی ایسا مال بھی موجود نہیں جس پر زکاۃ واجب ہو ، کیا ایسے شخص پر قربانی واجب ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسا پلاٹ جسے بیچنے کی نیت سے رکھا ہو ا ہو  وہ مال تجارت ہے، لہذا  نصاب سے زائد مالیت ہونے کی وجہ سے  قربانی واجب ہوگی۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 179):

الزكاة واجبة في ‌عروض ‌التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 292):

(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة... ومنها الإسلام فلا تجب على الكافر ... ومنها الحرية فلاتجب على العبد .. ومنها الإقامة فلا تجب على المسافر.

حمادالدین قریشی

 دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

22/ذی القعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب