03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا منی اور مزدلفہ مکہ کی حدود میں ہیں؟
87801حج کے احکام ومسائلحج کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا اب منیٰ اور مزدلفہ مکہ مکرمہ کا حصہ شمار ہوتے ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ یہ علاقے مکہ کا حصہ ہیں، اس لیے اگر کل قیام (بشمول 5 ایام حج) 15 دن ہو جائیں تو آپ "مقیم" شمار ہوں گے۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہماری رائے یہ ہے کہ چونکہ منی اب  مکہ شہر کی آبادی میں داخل ہوگیا ہے، لہذا بحیثیت مجموعی  اگر کوئی صاحب  مکہ اور منی میں پندرہ روز یا اس سے زائد قیام کریں گے  تو وہ مقیم شمار ہوں گے،نیز قصر کے بجائے اتمام (پوری نماز پڑھنا) ضروری ہوگا اور یہی حکم مزدلفہ کا بھی ہے،اسی طرح عرفات اگرچہ مکہ کی آبادی سے خارج ہے،لیکن مکہ میں مقیم حضرات کے لیے صرف عرفات تک کے سفر کی وجہ سےاس میں قصر جائز نہ ہوگا،بلکہ وہاں بھی اتمام ضروری ہوگا۔بعض حضرات  اہل علم کی رائے یہ ہے کہ مکہ ،منی    الگ الگ مقامات ہیں لہذا  مکہ اور منی میں مجموعی طور پر پندرہ روز کے قیام سے  آدمی مقیم  شمار نہیں  ہوگا بلکہ مسافر ہی رہے گا۔مقیم ہونے کیلئے منی جانے سے پہلے مکہ  میں پندرہ دن یا زیادہ قیام ہونا ضروری ہے۔

باقی اہل حق علماءکے اختلاف کی صورت میں جن اہل علم کے علم وتقوی پر آپ کو اعتمادہو ان کے مسئلہ وموقف پر عمل کرنےکے آپ مکلف ہیں۔ اس پر آپس میں بحث و مباحثہ کرکے اختلاف و انتشاز کی فضا پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔(مستفاد از تبویب جامعۃ الرشید:77338)

حوالہ جات

.

   حمادالدین قریشی

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

16/ذی القعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب