03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق دینےکے بعد مہر روک لینے کا حکم
87597طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

ایک فیملی نے  اپنی لڑکی کی شادی ایک لڑکے سے کی ،لڑکی والوں کا عمومی رواج اور مہر بیس سے پچیس لاکھ ہوتا ہے جو لڑکے والے دیتے ہیں اور لڑکی والے اسے لڑکی کی شادی پہ خرچ کرتے ہیں، لیکن لڑکی کے والد نے لڑکے والوں کو بولا کہ 5 لاکھ دےدو، اس سے میں ہلکا پھلکا سامان خرید کر کے لڑکی کو رخصت کرتا ہوں ،باقی 20 لاکھ کا سامان لڑکے والے خریدیں  گے جس میں سونا فرنیچر وغیرہ یعنی سب کچھ شامل ہوگا، یہ  زبانی طے  ہوا تھا ،دونوں فریقین نے تحریری طور پہ نہیں لکھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کسی وجہ سے یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی ۔ لڑکی کا والد یہ جاننا چاہ رہا ہے کہ جو 20 لاکھ  اور  5 لاکھ کا سامان ہے ، کیا وہ لڑکی کا حق ہے اور وہ اسے ملنا چاہیے؟ شادی کے بعد  کہیں سے بھی کوئی سامان یا گولڈ خریدا  تھا وہ اب لڑکے والوں کے قبضے میں ہے، 20 لاکھ کا سامان بھی اور وہ 5 لاکھ کا سامان بھی۔نیز  جو چیزیں  طے کی گئیں تھیں مثلاً سونا اس کی تصاویر بھی لڑکی والوں کو دکھائی گئی تھی اور لڑکی کے حوالے بھی کردیا تھا ،لیکن بعد میں سونے سمیت ہر چیز روک لی گئی۔ اب اس مسئلہ کا کیا حل ہے ؟ سارے سامان پر  لڑکی کا حق ہے یا نہیں ؟

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ نکاح کے وقت زبانی طور پر مہر پچیس لاکھ (25,00,000) روپے مقرر کیا گیا تھا۔ یہ بات چیت صرف زبانی ہوئی تھی، اور اُن کی طرف سے دو افراد موجود تھے۔ پانچ لاکھ (5,00,000) روپے لڑکی کے کپڑوں وغیرہ کے لیے دیے گئے تھے۔  جو سونا وغیرہ اُن کی طرف سے لڑکی کے لیے بنوایا گیا تھا، اس کی تصاویر لڑکی والوں کو دکھا کر اُن سے منظوری بھی لی گئی تھی، اور شادی کے بعد وہ تمام زیورات لڑکی کے حوالے بھی کر دیے گئے تھے،لیکن  تقریبا  تین مہینے  میاں بیوی ساتھ رہے اور پھر طلاق ہو گئی ۔جس دن لڑکی اپنے گھر آ رہی تھی اس وقت انہوں نے سب کچھ اپنے پاس روک لیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  نکاح کے وقت مقرر کردہ حق مہر اگر ابھی تک ادا نہ کیا  گیا ہو تو طلاق کے بعد طے شدہ مکمل مہر عورت  کا حق ہے ،جس کی ادائیگی شرعااس     کے شوہر پر لازم ہے ،  حق مہر کی جس صورت پر اتفاق ہوا تھا ،چاہے زیور ہو ،سامان ہو یا نقدی ،بہر صورت یہ بیوی کا حق ہے بیوی کا حق مہر ادا نہ کرنا  اور طلاق کے بعد اسے اپنے پاس روک لینا سراسر ظلم ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 100):

‌ثم ‌عرف ‌المهر ‌في ‌العناية بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد،

البحر الرائق : (3/ 152)

(قوله: وأقله عشرة دراهم) أي أقل المهر شرعا للحديث «لا مهر أقل من عشرة دراهم» وهو وإن كان ضعيفا فقد تعددت طرقه والمنقول في الأصول أن الضعيف إذا تعددت طرقه فإنه يصير حسنا إذا كان ضعفه بغير الفسق ولأنه حق الشرع وجوبا إظهارا لشرف المحل فيقدر بما له خطر وهو العشرة استدلالا بنصاب السرقة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 303):

(الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع،

المبسوط للسرخسي (5/ 63):

‌والدليل ‌عليه ‌أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، ولا تحبس المبدل إلا ببدل واجب وإن بعد الدخول بها يجب.ولا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن،

    ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

  23 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب