03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو مختلف ملکوں کی کرنسی کے تبادلے کا حکم
87603جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

میں ایک بندہ سےدس ہزال ریال ایک سال کے مدت پر خریدتا ہوں، ابھی ریال کی قیمت  پاکستانی کرنسی کے حساب سے75 روپے  پر ریال ہے، جبکہ ایک سال بعد میں اس کو 100 روپے پر ریال ادا کروں گا۔  تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دو مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا آپس میں تبادلہ دو شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1۔دونوں میں سے کسی ایک پر معاملہ کی مجلس میں فوری قبضہ ہو۔

2۔معاملہ مارکیٹ ریٹ پر کیا جائے،مارکیٹ ریٹ سے کمی بیشی جائز نہیں،کیونکہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر تبادلے کی اجازت سے سود کا دروازہ کھلنے کا اندیشہ ہے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں معاملہ مارکیٹ ریٹ پر نہ ہونے کی وجہ سے  جائز نہیں۔

حوالہ جات

مشروع القانون الاسلامی للبیوع والدیون 22،23):

النقود الورقیۃ لایجوز مبادلتھا بالتفاضل اوالنسیئۃ فی جنس واحد،اما اذااختلف جنسھما مثل ان تباع الربیات الباکستانیۃ بالریالات السعودیۃ فیجوز فیھا التفاضل وتجوز فیہ النسئۃ بشرط ان یقبض احدالعاقدین مااشتراہ وان کان الآخر مؤجلا وبشرط ان یکون التبادل بسعر یوم العقد ۔

(بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ:1/178،179):

"ولکن جواز النّسیئۃ فی تبادل العُملات المختلفۃ یمکن أن یتّخذ حیلۃ لأکل الربا،فمثلا:إذا أراد المقرض أن یطالب بعشر ربیّات علی المئۃ المقرضۃ،فإنہ یبیع مئۃ ربیۃ نسیئۃ بمقدار من الدولارات التی تساوی مئۃ وعشر ربیّات.وسدّاً لہذا الباب،فإنہ ینبغی أن یُقیّد جواز النّسیئۃ فی بیع العُملات أن یقع ذلک علی السّعر السّوق السّائد عند العقد.

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   23  /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب