| 87595 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
شوہر نے خود کو کافر کہا، بیوی پر غصہ کی وجہ سے، اب کیا اسکی بیوی اس کے ساتھ رہ سکتی ہے؟ یا اگر انکا رشتہ باقی نہیں رہا تو عورت پر عدت لازم ہے؟
تنقیح : سائل سے زبانی بات چیت کرنے پر یہ بات معلوم ہوئی کہ شوہر نے یہ جملہ"میں کافر ہوں" بیوی کو خاموش کرانے کے لئے کہا تھا۔شوہر کا مقصد استخفاف یا تکفیرنہیں تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ خود کو کافر بتلانا انتہائی خطرناک جملہ ہے ، ایسا جملہ بنیت کفر نہ بھی کہا جائے تو بھی کہنا جائز نہیں، ایسا کہنے والا گناہ گارہوگا۔
صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے یہ جملہ "میں کافر ہوں" بیوی کو خاموش کرانے کے لئے کہا ہے، جیسا کہ اس کا دعوی ہےتو اس کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوا۔ لہذا ایمان اور نکاح کی تجدید كی ضرورت نہیں ۔
تاہم شوہر پر لازم ہے کہ اس خطرناک جملہ پر اللہ کے حضور خو ب گڑگڑا کر توبہ واستغفار کرےاور آئندہ کے لئے ایسا کہنے سے مکمل اجتناب کرے۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 277):
رجل ضرب امرأة فقالت المرأة: لست بمسلم فقال الرجل: هبي أني لست بمسلم قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - لا يصير كافرا بذلك.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
23/ذی القعده/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


