| 87640 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
جناب مفتی صاحب فتوی نمبر 86940/64 میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات موصول ہوئے ۔ فتوے کی دوسری لائن میں لکھا ہے " قضاء تو شوہر اضافی مقدار (5. 6تولے سونا) دینے کا پابند ہے ، لیکن بیوی اور اس کے اولیاء کے لئے اضافی مقدار وصول کرنا حرام ہے"۔از راہ کرم اس جملے کی آسان فہم وضاحت فرما دیجئے کہ کیا اس سے مطلب یہ ہے کہ لڑکی والوں کو اضافی اشیا لوٹانا لازم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جملہ قضاء تو شوہر اضافی مقدار (5. 6تولے سونا) دینے کا پابند ہے ، لیکن بیوی اور اس کے اولیاء کے لئے اضافی مقدار وصول کرنا حرام ہے "کا مطلب یہ ہے کہ قاضی ، جج یا پنچایت کے سامنے جب آپ کا یہ مسئلہ پیش ہوگا توچونکہ قاضی ، جج یا پنچایت ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اور اس مسئلے میں نکاح نامے کے اندر سونے کی اضافی مقدار لکھی ہوئی ہے ،یہ بطور ثبوت عدالت کے سامنے کافی ہے ،لہٰذا اس ثبوت کی بنیاد پر تو فیصلہ یہی ہوگاکہ شوہر اضافی مقدار ادا کرے،جب عدالت اضافی مقدار دینے کا فیصلہ کرے گی تو شوہر کو مجبور ہوکر وہ مقدار دینی ہوگی اور عدالت اس کو دینے کا پابند بنائی گی ۔
لیکن چونکہ یہ مقدار در حقیقت مروت کے دباؤ میں لاکر شوہر کی رضامندی کے بغیر لکھوائی گئی ہے اور رضامندی کے بغیر کسی سے کوئی بھی مال لینا حرام ہے،اس لئے لڑکی والوں کے لئے یہ مقدار حلال نہ ہوگی ۔مگر یہ بات عدالت میں ثابت نہیں کی جاسکتی کہ رضامندی نہیں تھی،اس لئے عدالت کا فیصلہ لڑکی کے حق میں ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر لڑکا عدالتی فیصلے سے مجبور ہوکر یہ اضافی مقدار دیدے تو بھی لڑکی والوں کے لئے لینا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
23/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


