03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیوچر ٹریڈنگ کے ذریعے غیر مسلم سرمایہ کار کو کماکر دینے،کمیشن لینےاور ایسی کمپنی میں ملازمت کا حکم
87648اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

 (1)فیوچر ٹریڈنگ(Future Trading)کے بارے میں کوئی بھی ابھی تک بلاتفاق اور حتمی طور پر فتویٰ نہیں آیا، لیکن اکثر لوگ اس کو حرام کہتے ہیں،کن وجوہات کی وجہ سے یہ حرام ہے؟(2)ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایک کمپنی ہے جس کے 98٪سے زیادہ غیر مسلم گاہک ہیں،(غیر مسلم کے لیے تو future trading حرام ہونے کا کوئی مسئلہ نہیں)ان کو future trading میں مدد کرتی ہے تو اس کمپنی کی آمدن کا کیا حکم ہے؟(3)ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا کیسا ہے؟ تفصیل سے بیان کر دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)سب سے پہلے فیوچر ٹریڈنگ اور اس سے متعلق  مختلف اصطلاحات ملاحظہ فرمائیں:

فیوچر ٹریڈنگ یعنی مستقبل کی تاریخ پرخریدوفروخت/عقود المستقبلیات(Future sale)

انویسٹوپیڈیا کے مطابق فیوچرز ایک معاہدہ ہوتا ہے، جس کے تحت مخصوص بنیادی اثاثہ(A Specific underlying asset ) کو کسی مستقبل کی تاریخ پر خریدنے یا بیچنے کاعقد(contract)کیا جاتا ہے۔ بنیادی اثاثہ کسی بھی قسم کی اشیاء(commodity)، سیکیورٹی(security)، یا دیگر مالیاتی آلہ(Financial Instrument) ہو سکتا ہے۔ فیوچرز کی تجارت میں خریدار کوعقدکے مطابق طے شدہ قیمت پر اثاثہ خریدنا ہوتا ہے یا بیچنے والے کو عقدکے مطابق طے شدہ قیمت پر اثاثہ بیچنا ہوتا ہے، خواہ مارکیٹ میں اس اثاثے کی قیمت کچھ بھی ہو، اور یہ عمل عقد کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ پر انجام پاتا ہے۔

مستقبل کی خریدوفروخت(Future Trade) میں بطور مبیع/معقود علیہ (subject matter)درج ذیل اشیاءکا رواج ہے:

  1. کموڈیٹی فیوچرز(Commodity futures)یعنی بنیادی اجناس جیسے مکئی، اور گندم وغیرہ
  2. کرپٹو کرنسی فیوچرز(Crypto currency futures) جیسے بٹ کوائن یا ایتھریم
  3. کرنسی فیوچرز(Currency futures): مختلف ممالک کی کرنسیز
  4. توانائی فیوچرز(Energy futures): بنیادی اثاثے یعنی خام تیل، قدرتی گیس، پٹرول، اور ہیٹنگ آئل (heating oil)
  5. ایکویٹی فیوچرز(Equities futures):اسٹاک مارکیٹ میں مستقبل کی کسی متعین تاریخ اور متعین قیمت پر شیئرز کی خریدوفروخت۔
  6. شرح سود فیوچرز(Interest rate futures):ٹریژریز(Treasuries) اور دیگر بانڈز(Bonds)کی شرح سود میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق ،تخمین(speculate) یا نقصان سے حفاظت(Hedge) کرنے کے لیے فیوچرزیعنی مستقبل کے سودے کرنا۔
  7. قیمتی دھاتوں کے فیوچرز(Precious metal futures) جیسے سونا اور چاندی۔
  8. اسٹاک انڈیکس فیوچرز(Stock index futures ):جن میں بنیادی اثاثے انڈیکس ہوتے ہیں،انڈیکس کے پوائنٹس میں تبدیلی  کے ذریعے نفع یا نقصان طے کیا جاتا ہے۔

شرعی حکم

یاد رہےشریعت کی نظر میں "کسی قابل قیمت(Permissible and valuable) چیز کا دوسری قابل قیمت چیز کے ساتھ جانبین کی رضامندی سے تبادلہ "عقد خریدوفروخت (sale)کہلاتا ہے۔

عقدِخریدوفروخت کی بنیادی شرائط میں سے ایسی شرائط جن کا تعلق مبیع (subject matter) سے ہے،ان میں یہ شرائط بھی ہیں کہ مبیع (subject matter) عقد بیع کے وقت موجود (existence of goods)ہو،بائع (seller)کی ملکیت (ownership)میں ہو،بائع (seller)کےقبضہ حقیقی یا حکمی (Possession either physical or constructive) میں ہو،مقدور التسلیم (Transferable at the time of contract without any barrier) ہو۔

فیوچر ٹریڈنگ خواہ کسی بھی چیز کی ہو،اس میں مبیع(subject matter) سے متعلق شرائط نہیں پائی جاتیں،کیوں کہ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ عقد کے وقت (At the time of contract)وہ چیز بائع(seller)کی ملکیت میں نہیں ہوتی،یا ملکیت میں ہوتی ہے لیکن قبضہ نہیں ہوتا،یا کسی حد تک قبضے کا تحقق ہوجاتا ہےلیکن مقدور التسلیم نہیں ہوتی،یا مقدور التسلیم بھی ہوتی ہے لیکن عاقدین(seller & buyer)کا ارداہ نہیں ہوتا کہ مبیع(subject matter)خریدار کےقبضے میں دی جائے،اس لیے کہ عام طور پر فیو چر ٹریڈ میں مبیع کا لین دین مقصود نہیں ہوتا ،بلکہ عقد کی انتہاء قیمتوں کے مابین فرق کی برابری پر ہوتی ہے،لہٰذا عقدِخریدوفروخت کی بنیادی شرائط میں سے ایسی شرائط جن کا تعلق مبیع (subject matter) سے ہے،وہ شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے فیوچر ٹریڈنگ خواہ کسی بھی چیز کی ہو،ناجائزہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔

شرعی نقطہ نظر سے  فیوچر ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ شریعت کی نظر میں عام خریدوفروخت کا عقد،ان عقود میں سے ہے ،جنہیں فوری طور پر مؤثر قرار دیاجانا ضروری ہے،یعنی مستقبل کی کسی تاریخ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں،بلکہ فوری طور پر کم ازکم مبیع(subject matter)خریدار کے حوالے کرناضروری ہے،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ میں بوقت عقد، مبیع (subject matter)خریدار کے حوالے نہیں کی جاتی اورنہ ہی متعاقدین (seller & buyer) کا یہ ارادہ ہوتاہے۔

اسی طرح شرعی نقطہ نظر سے  فیوچر ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عقد بیع(sale contract)میں عوضین(subject matter & price)میں سے ہر ایک کا مؤجل (deferred) ہونا جائز نہیں،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ میں عوضین میں سے ہر ایک مؤجل ہوتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ فیوچر ٹریڈنگ خواہ  کسی بھی چیز(شیئرز،انڈیکس،کموڈٹی،کرنسی وغیرہ) میں ہو،شرعاً ناجائز ہے،اس سے اجتناب لازم ہے،اس سے حاصل شدہ آمدن حرام اور واجب التصدق ہے۔

(2)ایسے کام جن کا کرنا خودمسلمان کے لیے جائز نہیں ہے،ان کاموں کو غیر مسلم کے لیے کرنا بھی جائز نہیں ہے،لہٰذا جیسے خودایک مسلمان کے لیے فیوچر ٹریڈنگ جائز نہیں ہے،ویسے ہی غیر مسلم کے لیے فیوچر ٹریڈنگ کرنا اور اس کی اجرت یا کمیشن لینا بھی جائز نہیں ہے۔اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کمپنی کے لیےفیوچر ٹریڈنگ کے ذریعے  کمانا خواہ اپنے لیے ہو یا غیر مسلم کے لیے بطور کمیشن ایجنٹ ہو،ناجائز ہے۔

(3)اگر یہ کمپنی صرف فیوچر ٹریڈنگ ہی کا کام کرتی ہے تو ایسی کمپنی میں ملازمت جائز نہیں ہے،البتہ اگر یہ کمپنی فیوچر ٹریڈنگ کے علاوہ جائز کام بھی کرتی ہو تو ایسی کمپنی میں ملازمت کی گنجائش ہے،لیکن بطور ملازم ناجائز کام کرنا جائز نہیں ہے،لہٰذا ناجائز کام سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے،البتہ دوران ملازمت جائز کاموں کے ساتھ مجبوراً اگرناجائز کاموں کے لیے بھی خدمات دینی پڑیں تو ایسی صورت میں توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ ناجائز کام  کرنےکے بقدر اپنی تنخواہ میں سےصدقہ کرنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)

 وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)

ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.

١٦٨ - البيوع المستقبلة للأسهم

فأما البيوع المستقبلة، فالمراد منها البيوع المضافة إلى المستقبل، بمعنى أن البائع فيها يعقد في يوم العقد بيع أسهم شركة معينة في تاريخ لاحق. وفيه عدة محظورات من الناحية الشرعية:

الأول: أنه بيع مضاف إلى المستقبل، وسيأتي في شروط البيع التي ترجع إلى صلب العقد) أنه محظور شرعاً في غير السلم، وشروط السلم منتفية في مثل هذا البيع.

الثاني: أنه يستلزم تأجيل البدلين، وبيع الكالئ بالكالئ، لأن ثمن البيع لا يدفع عادةً عند العقد، بل عند حلول التاريخ المعقود عليه.

الثالث: أن المبيع في معظم هذه العقود لا يكون مملوكاً للبائع عند العقد. وفي معظم الحالات، لا يقصد بهذا البيع تسليم المبيع وتسلّمه، وإنما ينتهى العقد بتسوية فروق الأسعار، وهو نوع من المضاربات والمقامرة.

وقد حاول بعض الناس تخريجه على أساس الوعد الملزم. ولكنه غير صحيح، لما قدمنا في مبحث الوعد أن الأصل في الوعد أنه غير لازم قضاء، ولكنه قد يلزم قضاء للحاجة العامة، أو لدفع حرج عام. ولاحاجة هنا، لأن العقود المستقبلة في الأسهم ليست مما تحتاج إليه التجارة الحقيقية، بل إنها تفتح باب المضاربات على أساس التخمين (speculation) وإن مفاسدها في النظام الاقتصادي واضحة لا تحتاج إلى تدليل. (

القرآن الکریم :

} وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2[

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 391)

(و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر) .

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 391)

(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل (قوله وحمل خمر ذمي)قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه - عليه الصلاة والسلام - «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره.وفي المحيط لا يكره بيع الزنانير من النصراني والقلنسوة من المجوسي، لأن ذلك إذلال لهما وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافا أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة اهـ

حاشية ابن عابدين (7/ 153(

وما كان سببا لمحظور فهو محظور ا .

الموسوعة الفقهية الكويتية (40/ 217، بترقيم الشاملة آليا)

لا يجوز الاستئجار على المعاصي لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب على المستأجر أجر من غير أن يستحق هو على الأجير شيئا ، إذ المبادلة لا تكون إلا باستحقاق كل واحد منهما على الآخر ، ولو استحق عليه للمعصية لكان ذلك مضافا إلى الشارع من حيث أنه شرع عقدا موجبا للمعصية، تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا , وبناء على هذا الأصل : لا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير وشيء من اللهو , ولا إجارة الدار لتجعل كنيسة أو بيت نار , أو لبيع الخمر أو للقمار .

المبسوط للسرخسي (16/ 38)

والاستئجار على المعاصي باطل.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 481)

وفي «العيون» : لو استأجر رجلاً ينحت له أصناماً أو يزخرف له بيتاً بتماثيل والأصباغ من رب البيت فلا أجر؛ لأن فعله معصية، وكذلك لو استأجر نائحة أو مغنية فلا أجر لها؛ لأن فعلها معصية.

(فقہ البیوع:۲/۱۰۳۱)

قال الشیخ المفتی محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ :وقد اشتھر علی الألسُن أن  حکم التعامل مع من کان مالُہ مخلوطا بالحلال والحرام أنہ اؔن کان الحلال فیھا أکثر،جاز التعامل معہ بقبول ھدیتہ وتعاقد البیع والشراء معہ،وبذٰلک صدرت بعض الفتاوی،ولکن مایتحقق بعد سبر کلام الفقہاء الحنفیۃ فی ھذا الموضوع أن اعتبار الغلبۃ انما ھو فیما اذا کان الحلال متمیزا عن الحرام عند صاحبہ،ولا یعلم المتعامل معہ أن مایعطیہ من الحلال أو من الحرام ،فحینئذ تعتبر الغلبۃ،بمعنی انہ ان کان اکثر مالہ حلالا،یفرض أن مایعطیہ من الحلال،والعکس بالعکس،کما قدمنا نصوصہ فی الصورۃ الاولی.

أما اذا کان مخلوطا بالحرام دون تمییز أحدھما بالآخر،فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ، بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال، سواء اکان الحلال قلیلا ام کثیرا.

 (الاختیار لتعلیل المختار:۳/۶۱)

والملک الخبیث ،سبیلہ التصدق بہ

المعاملات المالية أصالة ومعاصرة (9/ 158)

 الراجح:

أرى جواز عمل المسلم عند الكافر بثلاثة شروط:

الأول: أن تكون الإجارة على عمل مباح للمسلم أن يفعله، أما إذا كانت الإجارة على عمل يتضمن تعظيم دينهم أو شعائره، أو كانت على عمل محرم في دين الإِسلام فلا يجوز له إجارة نفسه لذلك.

الثاني: ألا يمنعه الكافر من أداء عبادة واجبة عليه أثناء العمل كالصلاة والصيام ونحوهما.

الثالث: ألا يعينه على ما يعود ضرره على المسلمين، والله أعلم.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 23)

 وكذا الذمي لو استأجر مسلما ليرعى له الخنازير ويجوز عند الإمام خلافا لهما استأجر ذمي مسلما ليحمل له ميتا أو دما يجوز؛ لأن نقل الميت والدم لإماطة الأذى عن الناس مباح مات ميت من المشركين فاستأجروا مسلما ليحمله إلى بلدة أخرى قال أبو يوسف لا أجر له، وقال محمد إن علم الأجير أنها جيفة لا أجر له؛ لأنه نقل ما لا يجوز له وإن لم يعلم فله الأجر وفي الخانية الفتوى على قول محمد اهـ.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

24.ذوالقعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب