03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی زمین میں سے اپنا حصہ بیچنے کے بعدقابض کا استحقاق کا دعوی کرنا
87613میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک بندے کی زمین   اس کی چار بیٹیوں کو بطور وراثت ملی، لیکن اس کا قبضہ   چچا زاد بھائیوں کے پاس تھا ،جب ان چچا زاد بھائیوں کا انتقال ہوا توان چار بہنوں میں سے  دو بہنوں  کے  وکیل مسمی شاہ فیصل(  دو بہنوں میں سے ایک کا بیٹا اور دوسری کا داماد لگتا ہے)   نےاپنی ماں اور ساس  کے حصوں کو   آج سے تقریبا 25 سال پہلے ایک آدمی کو  بیچ دیا تھا۔  مشتری(شیر باز)     کامطالبہ   ہے کہ اس کے خریدے ہوئے حصے کو الگ کر کے حوالے کر دیا جائے ،لیکن  مذکورہ بہنوں کے چچا زاد بھائی    کا بیٹامحمد ایوب(جس کے پاس زمین کا قبضہ ہے)کا کہنا ہے کہ یہ میرے والد کی زمین ہے اور 49 سال سے میرے پاس ہے ،اس میں کسی اور  کاحصہ   نہیں ہے ،   شیرباز(مشتری) مجھ سے زبردستی لینا چاہتا ہے۔

   اب پوچھنا یہ ہے کہ اس خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

   خرید فروخت کے بعد جو فریق ثانی  محمد ایوب زمین کی ملکیت کا دعوی کر رہا ہے، اس کا شرعی حکم کیا ہے  ؟

تنقیح :ورثہ میں مرحوم کی  ان چار بیٹیوں  کے ساتھ مرحوم کی دو  بیویاں اور تین چچا  کے بیٹے   بھی  تھے۔مدعی ایوب ان میں سے ایک کا بیٹا ہے۔مزید یہ کہ احسان کا معاملہ کرتے ہوئے مشتری نے اس وقت زمین کے حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا تھا ،چند سال قبل جب مطالبہ کیا تو اولاً ٹال مٹول سے کام   لیتا رہا  اور اب  مطلقاً انکار کردیا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مذکورہ میں اگر یہ  زمین  واقعتاً ان لڑکیوں کے مرحوم والد کی ملیکت تھی،تو وفات کے وقت موجود ورثہ میں یہ زمین شرعا  اس طرح   تقسیم ہوگی  کہ زمین   کے کل144 حصے بنیں گے  ،جن میں  ہر بیٹی کو 24،ہر بیوی کو9 اور ہر چچا کے بیٹے کو10 حصے ملیں گے۔محمد ایوب اس  تقسیم میں صرف10  حصوں کا وارث ہے۔

جہاں تک زمین بیچنے کا معاملہ ہے تو  جب وکیل شاہ فیصل نے   فقط اپنی ماں  اور ساس کا حصہ ان کی اجازت سےان کے حصوں کی حد تک فروخت کردیاتو عقد نافذ ہوگیا ہے۔ محمد ایوب کا حصہ فروختگی میں شامل نہیں ہوگا ۔ لہٰذا فروخت شدہ زمین میں صرف دو بہنوں کا حصہ مشتری شیر باز کا ہے ،اس سے  زیادہ حصے میں شیر باز دعوی نہیں کرسکتااوراس حصہ کا دعوی کرسکتا ہے۔محمد ایوب کو چاہئے کہ فروخت شدہ حصے کے برابر زمین شیر باز کو حوالے   کردے۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 154):

ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط

والاختلاط فإنه لا يجوز إلا بإذنه، وقد بينا الفرق في كفاية المنتهى(وقد بينا الفرق في كفاية المنتهى) وحقيقة الفرق ما أشار إليه في الفوائد الظهيرية وهو أن الشركة إذا كانت بينهما من الابتداء بأن اشتريا حنطة أو ورثاها كانت كل حبة مشتركة بينهما فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي.....فإذا باع نصيبه من غير الشريك لا يقدر على تسليمه إلا مخلوطا بنصيب فيتوقف على إذنه، بخلاف بيعه من الشريك للقدرة على التسليم والتسلم.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 22/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب