03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
كپڑے کو مطلوبہ قیمت سے زیادہ پر بکواکر اضافی رقم بطور کمیشن رکھنے کا حکم
87601اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

میرا ایک دوست کپڑے کا کاروبار کرتا ہے ۔ وہ مجھے کہتا ہےکہ میں تمہیں یہ کپڑا مثلاً 200 روپے فی میٹر کے حساب سے دوں گا، تم  گاہک تلاش کرکےاُنہیں جتنے میں چاہو بیچو۔ مجھے صرف 200 روپے فی میٹر دے دینا ہے، باقی تمہارا منافع ہوگا۔تو کیا اس طرح کا معاملہ میرے لیے شرعاً جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس طرح معاملہ کرنے میں آپ کمیشن ایجنٹ بنیں گےاور کمیشن ایجنٹ کی اجرت کا مقدار یا تناسب کے لحاظ سے تعیین ضروری ہے،لہذاسؤال میں مذکور معاملہ میں چونکہ  اجرت مجہول اور غیر متعین ہے ،لہٰذا یہ معاملہ تو ناجائز ہے، البتہ اگر کچھ تھوڑی سی اجرت لم سم طے کر کے یہ طے کیا جائے کہ  یہ لم سم اجرت بھی دونگا اور اس کے ساتھ  مقررہ حدسے زیادہ جس قیمت پر آپ بیچیں گے  وہ بھی آپ کا ہوگا تو پھر یہ معاملہ جائز ہوجائے گا۔

اسی طرح یہ صورت بھی جائز ہے کہ کمیشن ایجنٹ کے لئے متعین رقم یا کل قیمتِ فروخت کا متعین فیصدی حصہ بطورِ کمیشن مقرر کریں، مثلاً یہ کہ فی میٹر   پچاس روپے یا 5%فیصد آپ کو کمیشن کے طور پر دونگا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 63):

قال في التتارخانية: وفي ‌الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

(النتف في الفتاوى للسغدي(2/575):

والخامس اجارة السمسار لايجوز ذلك وكذلك لو قال بع هذا الثوب بعشرة دراهم فما زاد فهو لك وان فعل فله اجر المثل ولو استأجر السمسار شهرا ليبيع له أو ليشتري بكذا من الاجر جاز ذلك.

(مرشد الحيران ( 85):

 إذا باع الدلال متاعاً لأحد بثمن أزيد من الثمن الذي أمره به فالزيادة لصاحب المتاع وليس للدلال سوى الأجرة.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 662):

(المادة 578) لو أعطى أحد ماله لدلال، وقال بعه بكذا دراهم فإن باعه الدلال بأزيد من ذلك

فالفضل أيضا لصاحب المال، وليس للدلال سوى الأجرة. لو أعطى أحد مالا للدلال، وقال بعه اليوم بكذا قرشا فإن باعه الدلال بأزيد من ذلك فالفضل أيضا لصاحب المال؛ لأن هذا الفضل بدل مال ذلك الشخص، فكما أن ذلك المبدل كان ماله فالبدل يلزم أن يكون كذلك، وليس للدلال سوى أجرة الدلالة (علي أفندي بزيادة) وإذا لم تسلم له أجرة فله أجر المثل بالغا ما بلغ، وإذا أعطى أحد مالا للدلال قائلا: إذا بعت المال بزيادة عن كذا فلك الزيادة فالإجارة فاسدة انظر المادة (450) (النتيجة) وحكم هذا الدلال كالأجير المشترك (البزازية).

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 23/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب