| 87650 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا ایک دوست انگلینڈ کی ایک یونیورسٹی کے طلباء کے لئے اسائنمنٹ لکھتا ہے۔ میں ان اسائنمنٹ کی تزئین و آرائش کا کام کرتا ہوں، جس کے عوض وہ مجھے 1200روپے فی اسائنمنٹ دیتا ہے ۔ وہ ایک سرکاری استاد بھی ہے۔ بعض اوقات طلبا نے اسائنمنٹ کے پیسے نہیں دیئے ہوتے جبکہ وہ میرا معاوضہ ادا کردیتا ہے۔ تو کیا میرا یہ کام درست ہے؟ میرے لیے یہ رقم لینا جائز ہے؟
تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل کا کام ان اسائنمنٹس کی تکمیل کے لئے ضروری ہے ، سائل کا کام ان اسائنمنٹس میں ریفرنس شامل کرنا ،ٹیبل آف کانٹینٹ (فہرست ) تیار کرنا اور ضروری ڈیزائن اور فارمیٹنگ کرنا ہوتا ہے ، اگر وہ یہ کام نہ کرے تو مارکنگ کے دوران طلبہ کے نمبرکم کردئے جاتے ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یونیورسٹی کی طرف سے طالب علم کو جو اسائمنٹ دی جاتی ہے، اس سے طالب علم کی صلاحیتوں کاامتحان مقصود ہوتا ہے۔ اسائمنٹ کے نمبرات ڈگری میں شامل ہوتے ہیں، اور اسی بنیاد پر ڈگری بھی جاری ہوتی ہے۔ لہذا طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ازخود اسائمنٹ کرکے جمع کرائے۔ کسی اور سے کام کروا کر اپنے نام سے جمع کروانا جھوٹ ،دھوکہ اور فریب ہے۔ آپ کا دوست چونکہ اس دھوکے کے کام میں معاونت کر رہا ہے،جو کہ حرام ہےلہذا اس کی اجرت بھی جائز نہیں ، اس کام کو فوراً چھوڑنا لازم ہے ۔ اسی طرح آ پ کا کام بھی ان اسائنمنٹس کی تکمیل کے لئے ضروری ہے اور اس کی بنیاد پر طلبہ اچھے نمبرات کے مستحق ہوتے ہیں ، چونکہ یہ بھی دھوکے کے کام میں معاونت ہی ہے ،جو کہ حرام ہےلہذا اس کی اجرت بھی جائز نہیں۔
البتہ اگر اسائمنٹ،مضامین یا مقالہ طالب علم خود لکھے اور اس کی کمپوزنگ یا اور کوئی ثانوی کام مثلاً پروف ریڈنگ وغیرہ آپ سے کروائے تو اس طرح کام کرنا اور اس پر اجرت لینا جائز ہوگا ۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (5/ 2):
وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ
صحيح مسلم(1/ 99 ت عبد الباقي):
حدثنا قتيبة بن سعيد. حدثنا يعقوب (وهو ابن الرحمن القاري). ح وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان. حدثنا ابن أبي حازم، كلاهما عن سهل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة؛أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من حمل علينا السلاح فليس منا. ومن غشنا فليس منا
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 482):
قال: وإذا استأجر الذمي من المسلم بيعة يصلَي فيها فإن ذلك لا يجوز؛ لأنه استأجرها ليصلي فيها وصلاة الذميّ معصية عندنا وطاعة في زعمه، وأي ذلك ما اعتبرنا كانت الإجارة باطلة؛ لأن الإجارة على ما هو طاعة ومعصية لا يجوز.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


