03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رخصتی سے پہلے ایک طلاق دینے کا حکم
87653طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

اگر کوئی شخص کسی لڑکی سے نکاح کرے اور رخصتی سے پہلے اس کو ایک طلاق دے دے تو کیا ایک طلاق سے وہ لڑکی بائنہ شمار ہوگی؟

تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ابھی تک خلوت صحیحہ نہیں ہوئی تھی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ  میں بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہےاور طلاق بائن کا حکم یہ ہےکہ نکاح فوری ختم ہوجاتا ہےاور رجوع کرنےکے لئے دوبار ہ نکاح کرنالازمی ہوتاہے۔ چونکہ ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی ، اس لئے عورت پر عدت گزارنا لازم نہیں ہے ،البتہ نکاح میں طےشدہ مہر میں سےنصف کی ادائیگی خاوند پرواجب ہے۔اب اگر فریقین دوبارہ تعلق کو بحال کرنا چاہتے ہیں تو باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ کم ازکم دوگواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتے ہیں، حلالہ ضروری نہیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 286):

(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل

الفتاوى الهندية (11/ 193):

أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 199):

 وإن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى " لقوله تعالى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: 237] الآية،

الفتاوى الهندية (10/ 196):

إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها۔

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

26/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب