| 87614 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں بطور سافٹ ویئر انجینئر کام کر رہا ہوں۔ مجھے ایک نیا پروجیکٹ دیا جا رہا ہے جو کہ ایک انشورنس کمپنی سے متعلق ہے۔گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں کہ آیا ایسے پروجیکٹ پر کام کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اصولی جواب یہ ہے کہ اگر کوئی سافٹ ویئر پروجیکٹ ایسا ہو جو صرف ناجائز کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہو، یا وہ سافٹ ویئر جائز و ناجائز دونوں کاموں میں استعمال ہو سکتا ہو، لیکن انشورنس کمپنی اسے صرف ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی نیت سے حاصل کر رہی ہو، یا عقد (معاہدہ) کے وقت اس کے ناجائز استعمال کی صراحت کر دی گئی ہو، تو ایسے سافٹ ویئر پروجیکٹ پر کام کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر وہ سافٹ ویئر پروجیکٹ ایسے معاملات میں بھی استعمال ہو سکتا ہو جو شرعاً جائز ہوں اور معاہدہ کرتے وقت ناجائز استعمال کی کوئی صراحت نہ کی گئی ہواور نہ ہی سافٹ ویئر بنانے والے کی نیت ناجائز استعمال میں معاونت کی ہو، تو ایسے سافٹ ویئر پروجیکٹ پر کام کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے۔(تبویب : 85704)
یاد رہے شریعتِ مطہرہ میں جس طرح سود کا لین دین حرام ہے، اسی طرح سودی معاملات کی کتابت، اس پر گواہی دینا، اور اس میں کسی بھی قسم کا تعاون یا خدمات فراہم کرنا بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
چونکہ انشورنس کا نظام شرعاً سوداورقمار پرمبنی ہےاورقرآنِ کریم نےان دونوں کوصریح الفاظ میں حرام قراردیاہے۔نیزحضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آ پ ﷺنےفرمایا:اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والے، سود دینے والے،سود لکھنےوالےاوراس پرگواہی دینےوالےسب پرلعنت فرمائی ہے"اورفرمایا:یہ سب گناہ میں برابرہیں"۔(صحیح مسلم)
چونکہ انشورنس کمپنیوں میں سافٹ ویئرز کا استعمال زیادہ تر ایسے معاملات میں ہوتا ہے جن میں سود، قمار اور غرر شامل ہوتے ہیں؛ مثلاً انشورنس پالیسیوں کا ڈیٹا محفوظ کرنا، کسٹمرز کے ریکارڈ کا جائزہ لینا، ان کی رپورٹس تیار کرنا اور ان رپورٹس کو سودی معاملات میں استعمال کرنا وغیرہ۔ یہ سب امور شرعاً گناہ کے کاموں میں معاونت کے زمرے میں آتے ہیں۔لہٰذا ایسے پروجیکٹس پر کام کرنا، جن کا تعلق انشورنس کمپنیوں کے سودی یا غیر شرعی نظام سےہو، شرعاً جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال الله تعالى :وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان .(المائدة:02).
قال الشیخ المفتی محمد تقي العثماني حفظہ اللہ :ویتلخص منہ أن الانسان اذا قصد الإعانۃ علی المعصیۃ بإحدی الوجوہ الثلاثۃ المذکورۃ(أن یقصد الإعانۃ علی المعصیہ،بتصریح المعصیۃ فی صلب العقد،بیع اشیاء لیس لھا مصرف إلا فی المعصیۃ)، فان العقد حرام لا ینعقد والبائع آثم .أما اذا لم یقصد ذٰلک، وکان البیع سببا للمعصیۃ، فلا یحرم العقد ،ولکن اذا کان سببا محرکا، فالبیع حرام ،وان لم یکن محرکا ، وکان سببا قریبا بحیث یستخدم فی المعصیۃ فی حالتھا الراھنۃ ، ولا یحتاج الی صنعۃ جدیدۃ من الفاعل کرہ تحریما والا فتنزیھا…
وکذٰلک الحکم في برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربوی، فان قصد بذٰلک الإعانۃ، او کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح الا فی الأعمال الربویۃ،أو الأعمال المحرمۃ الأخری،فان العقد حرام باطل.أما اذا لم یقصد الإعانۃ ،ولیس في البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمۃ ،صح العقد وکرہ تنزیھا.(فقه البيوع:194/1)
«صحيح مسلم» (5/ 50):
عن جابر قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء ».
«تکملۃ فتح الملھم»( 1/575):
«وقال فی تکملۃ فتح الملھم : روی الإمام المسلم رحمہ اللہ عن عبد اللہ ،قال : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا ، ومؤکلہ ،قال : قلت: وکاتبہ وشاھدیہ؟ قال : إنما نحدث بما سمعنا .قولہ : (وکاتبہ) : لأن کتابۃ الربا إعانۃ علیہ ،ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز ، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا ،کالکتابۃ أو الحساب ،فذلک حرام لوجھین :الأول:إعانۃ علی المعصیۃ ،والثانی : أخذ الأجرۃ من المال الحرام .ثم قال : فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال ،جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال ، واللہ أعلم.»
«فقہ البیوع»(2/1032):
«فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبول هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل: التعاقد بالربا أخذاً أو عطاء، أو حسم الكمبيالات، أو كتابة هذه العقود، أو التوقيع عليها، أو تقاضي الفوائد الربوية، أو دفعها، أو قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليها، أو إدارة البنك، أو إدارة فرع من فروعه، فإنّ الإدارة مسؤولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبها حرام.و من کان مؤظفا فی البنک بھذا لشکل ، فإن راتبہ الذی یأخذہ من البنک کلہ من الأکساب المحرمۃ.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


