| 87651 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اگر ہمیں شریعہ پر مبنی اسٹاک پر تجارت کرنی ہو تو جہاں تک میں نے تحقیق کی اس میں دو شرائط پر عمل کیا جائے گا،یعنی ایک ملکیت کا منتقل ہونا اور دوسرا رسک ٹرانسفرہونا ضروری ہے،تو میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم بروکر کی ایپ سے باقاعدہ مارکیٹ میں اسٹاک خریدتے ہیں تو اسے فوری طور پر لاگو کیا جاتا ہے،تو کیا اس سے ملکیت کی شرط پوری ہوئی؟ جیسا کہ یہ آپ کے پروفائل پر بھی ظاہر ہوتا ہے یا یہ ملکیت اس وقت تک نہیں ثابت ہوگی جب تک کہ T+2 دن کا وقت نہ گزر جائے۔
دوسرا یہ ہے کہ ہمارا آرڈر ایک ہی وقت میں ہمارے پروفائل پر دکھایا جاتا ہے اور اسٹاک ہمارے پروفائل پر دکھائے جاتے ہیں، اس لیے اس وقت کا تمام فائدہ/نقصان بھی ہمارے پروفائل پر دکھایا جاتا ہے، تو کیا اسی دن/اسی گھنٹے یا کچھ منٹ کے بعد بھی جب ہمیں کچھ منافع مل سکتا ہو تو فروخت کرنا ٹھیک ہے،یا ہمیں T+2 دن کا انتظارکرنا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذ کورہ بالاسوال کے مطابق جب آپ کسی بروکر کی ایپ کے ذریعے مارکیٹ سے کوئی اسٹاک خریدتے ہیں تو آپ کا آرڈر فوری طور پر مکمل ہو جاتا ہے، اور وہ اسٹاک آپ کے پروفائل میں ظاہر ہو جاتا ہے، لیکن شرعی اصول کے مطابق صرف یہ ظاہر ہونا کافی نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ اسٹاک کی ملکیت کے ساتھ ساتھ قبضہ بھی خریدار کو حاصل ہو۔
قبضہ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ کو نفع و نقصان کا سامنا ہو رہا ہے یا یہ کہ اسٹاک آپ کے اکاؤنٹ میں نظر آرہا ہے، بلکہ شریعت میں قبضہ اس وقت مکمل سمجھا جاتا ہے جب وہ اسٹاک آپ کے یا آپ کے وکیل (مثلاً بروکر) کے مکمل تصرف میں آ جائے، جس کے بعد آپ شرعی طور پر اس کو فروخت کر سکتے ہیں۔
اسٹاک مارکیٹ میں عام طور پر T+2 کا نظام رائج ہے، یعنی ٹریڈنگ کے دو دن بعد اسٹاک کی مکمل ڈیلیوری ہو جاتی ہے۔ اس سے پہلے وہ اسٹاک حقیقت میں آپ کے قبضہ میں شمار نہیں ہوتا، چاہے وہ آپ کے پروفائل پر ظاہر بھی ہو رہا ہو۔لہٰذاجب تک اسٹاک کی ڈیلیوری مکمل نہ ہو ،یعنی CDC(سنٹرل ڈپازٹری کمپنی) میں وہ شیئر باقاعدہ آپ کے نام درج نہ ہو جائے جوکہ T+2میں مکمل ہوتا ہے ،اس وقت تک شرعی طور پر آپ کو وہ اسٹاک آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔اگر آپ T+2 سے پہلے فروخت کرتے ہیں تو یہ "بیع ما لم یقبض" یعنی ایسے مال کی بیع ہوگی جو کہ آپ کے قبضے میں نہیں، اور ایسی بیع سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
حوالہ جات
اللباب في شرح الكتاب» (2/ 35):
نهى عن بيع مالم يقبض) فأما محمد بن الحسن رحمه الله فأخذ بظاهره، وقال: إن الحديث لم يفرق بين العقار والمنقول؛ فيكون بيع كل منهما قبل قبضه منهيا عنه وأما أبو حنيفة وأبو يوسف فقالا: إن العلة في هذا النهي كون المبيع قبل قبضه يعرض الهلاك فيكون العقد على شفا الانفساخ إذا تبين هلاك المبيع، ولما كان الهلاك في المنقول قريب الاحتمال والهلاك في العقار نادرا حملنا الحديث على خصوص المنقول؛ رجوعا إلى العلة التي من أجلها ورد النهي. ولم نجعل العقار مما يتناوله النهي لأن الشيء البادر لا يحفل به؛ فلا يكون له حكم الشيء المتكرر القريب الوقوع»
الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 59):
ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه"؛لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك. "ويجوز بيع العقار قبل القبض عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمه الله. وقال محمد رحمه الله: لا يجوز" رجوعا إلى إطلاق الحديث واعتبارا بالمنقول وصار كالإجارة، ولهما أن ركن البيع صدر من أهله في محله، ولا غرر فيه؛ لأن الهلاك في العقار نادر، بخلاف المنقول، والغرر المنهي عنه غرر انفساخ العقد، والحديث معلول به عملا بدلائل الجواز والإجارة، قيل على هذا الخلاف؛ ولو سلم فالمعقود عليه في الإجارة المنافع وهلاكها غير نادر.
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
26/ذی قعدہ/6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


