| 87642 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب کا انتقال 31سال قبل ہو چکا ہے ، انھوں نے تحفے میں ایک گھر والدہ کو دیاتھا ۔ان کے انتقال کے وقت میں 15سال کا تھا ۔میں والد صاحب کا بڑا بیٹاہوں، مالی حالات بہتر کرنے اور چھوٹے بھائی بہنوں کی کفالت کرنے میں خوش دلی سے کوشاں رہا ۔ ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ الحمد الله میری والدہ بھی حیات ہیں۔ اس وقت (2002) مالی حالات کی پریشانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امی نے ابو کا بنایا ہوا جو گھر ابو نے امی کو ہد یہ کیا فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اور تمام بھائی بہن مجھ سمیت راضی تھے۔ 2003 میں گھر فرخت کرکے بدلے میں اس سے چھوٹا گھر لیا گیا جس میں میری والدہ اور دو بھائی رہائش پزیر ہیں اور باقی کچھ پیسے گھر کے کاموں میں (رنگ و روغن کھڑکیاں، وغیرہ )لگے اورکچھ میرے کاروبار میں لگے،اس دوران میں نے گھر کی ضروریات اورچار بہنوں اور دو بھائیوں کی شادی کرائی۔
اتناعرصہ گزرنے کے بعد ایک وارث نے میری والدہ سے گھر میں حصے کا مطالبہ کیا ہے ،اس لیے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کا حل جاننا چاہتا ہوں۔
سوال -1: کیا کوئی بھی بھائی یا بہن مجھ سے یا امی سے اس گھر کے فروخت ہونے کے بعد اپنا حصہ مانگ سکتے ہیں ؟
سوال -2 : کیا مجھے تمام بھائی بہنوں کو حصہ دینا چاہیے ، جب کہ 22سال پہلے سب گھر والوں نے با خوشی گھر کو فروخت کرنے میں رضا مندی ظاہر کی تھی۔
سوال- 3 : 22 سال پہلے وہ گھر ساڑھے پچیس لاکھ کا فروخت کیا گیا تھا تو حصہ میں اُس وقت کے حساب سے لوٹاؤں یا اس میں کیا حکم ہے؟
برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا حل بتائیں ، کیا والدہ پر یا مجھ پر اس کا کوئی عذاب ہوگا؟ جب کہ سب بھائی بہن باخوشی راضی تھے ۔ مجھے ایک ڈر یہ بھی ہے کہ ابھی تو میں حیات ہوں ،کل کو کوئی بھی میری اولاد سے یہ مطالبہ نہ کرے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مذکورہ بالا سوال میں، جب آپ کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں گھر کو ہدیہ کے طور پر آپ کی والدہ کو دے دیا تھا، اور آپ کی والدہ نے اس گھر پر قبضہ بھی کر لیا تھا یعنی اس میں اپنا تصرف شروع کر دیا، تو ایسی صورت میں شریعت کے مطابق یہ گھر آپ کے والد کے انتقال کے وقت ان کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا، بلکہ یہ مکمل طور پر آپ کی والدہ کی ذاتی ملکیت بن چکا تھا۔لہٰذا اگر کوئی وارث اس پر دعویٰ کرے تو اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
اسی طرح جب ایک مرتبہ یہ گھر آپ کی والدہ کی ملکیت بن چکا، تو بعد میں گھر فروخت ہونے کے بعد کسی بھی بھائی یا بہن کو شرعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے حصے کا مطالبہ کریں۔اور نہ ہی آپ پر اور نہ ہی آپ کی والدہ پر شرعاً کوئی ذمہ داری ہے کہ آپ انہیں اس میں سے کوئی حصہ دیں،کیونکہ گھر آپ کی والدہ کی ملکیت تھا، اور اس کو فروخت کرنے کا فیصلہ بھی مالک یعنی والدہ کا مکمل اختیار تھا۔
نیز یہ گھر جو کہ تقریباً 25 سال پہلے ساڑھے پچیس لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا تھا، وہ بھی شرعاً آپ کی والدہ کی ملکیت تھا۔لہٰذا فروخت سے حاصل شدہ رقم بھی ان ہی کی ذاتی ملکیت شمار ہو گی۔اسی لیے اس میں کسی اور کا شرعی طور پر کوئی حصہ نہیں بنتا۔۔ لہذا آپ اور آپ کی والدہ پر اس کا کوئی عذاب نہیں ہوگا ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(5/ 690):
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 218):
وتتم) عطف على تصح (بالقبض) قال الإمام حميد الدين ركن الهبة الإيجاب في حق الواهب؛ لأنه تبرع فيتم من جهة المتبرع أما في حق الموهوب له فلا يتم إلا بالقبول ثم لا ينفذ ملكه فيه إلا بالقبض (الكامل) الممكن في الموهوب والقبض الكامل في المنقول ما يناسبه وفي العقار ما يناسبه فقبض مفتاح الدار قبض لها والقبض الكامل فيما يحتمل القسمة بالقسمة حتى يقع القبض على الموهوب بالأصالة من غير أن يكون بتبعية قبض الكل وفيما لا يحتمل القسمة بتبعية الكل
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
/26 ذی قعدہ/ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


