| 87706 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
ہم چار بھائی ہیں ۔ ہم نے اپنے ایک مشترکہ پلاٹ پر ایک مارکیٹ تعمیر کی ہے، جس پر سارا خرچہ صرف ایک بھائی کا ہوا ہے۔ معاہدہ یہ ہوا ہے کہ جب مارکیٹ کرایہ پر دی جائے گی تو اس کے کرایہ میں سے بھائی کے پیسے دیئے جائیں گے، لہٰذا جب تک مارکیٹ کے کرایہ میں سے تعمیر کا خرچہ نہ دیا جائے، تب تک کسی دوسرے بھائی کو کرایہ میں سے کچھ لینے کا حق نہیں ہوگا۔ چنانچہ مارکیٹ کو مکمل ہوئے تین سال ہوگئے ہیں ،لیکن اب تک مارکیٹ کرایہ پر نہیں لگی، اس لیے بھائی کے پیسوں میں سے ایک پیسہ بھی واپس نہیں دیا جا سکا۔ بھائی کی تقریبا 5 کروڑ سے زیادہ رقم تعمیر پر خرچ ہوئی ہے، جس کی ہر سال وہ زکوۃ ادا کر رہا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ مارکیٹ کب کرایہ پر لگے گی؟ پھر بھائی کی رقم پوری ہونے پر کتنا عرصہ لگے گا؟ سوال یہ ہے کہ مارکیٹ پر جو پیسے خرچ ہوئے ہیں کیا ان پر زکوۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں؟ اور ان کی زکوۃ کس کے ذمہ واجب ہوگی؟ جس بھائی کے پیسے لگے ہیں یا اجتماعی طور پر سب بھائیوں کے اجتماعی آمدنی پر؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی عمارت یا مارکیٹ اس نیت سے تعمیر کی جائے کہ اسے کرایہ پر دیا جائے، تو اس عمارت یا مارکیٹ کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، کیونکہ وہ مالِ تجارت کے تحت شمار نہیں ہوتی۔ البتہ جب یہ عمارت کرایہ پر دے دی جائے گی اور اس سے کرایہ کی صورت میں آمدنی حاصل ہوگی، تو اس آمدنی پر زکوٰۃ واجب ہوگی بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے۔
صورت مسئولہ میں کرایہ پر دینے کی نیت سے تعمیر کی گئی مارکیٹ کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ، البتہ جب مارکیٹ سے کرایہ حاصل ہونے لگے گا، تو ہر شریک بھائی اپنے حصے کے مطابق کرایے کی رقم کا حساب کرے گا۔ اس کرایے کی رقم میں سے جو قرض ادا کرنا ہے ،وہ قرض منہا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر باقی ماندہ رقم نصاب کے برابر یا زیادہ ہو، اور اس پر سال بھی گزر جائے، تو اس رقم پر زکوٰۃ دینا واجب ہوگا۔
البتہ جس بھائی نے مارکیٹ کی تعمیر پر مکمل خرچ قرض کی صورت میں کیا ہےاور اسے یہ قرض واپس ملنے کی امید ہے، جو رقم اسے وصول ہوتی جائے ، وہ رقم اگر تنہا یا سونے چاندی یا سائل کے پاس دیگر موجود پیسوں یا مالِ تجارت کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو زکوۃ کا سال پورا ہونے پر اس رقم کی زکوٰۃ فرض ہے،البتہ وصول ہونے سے پہلےزکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے،اگر وصول ہونےسے پہلےزکوٰۃ ادا کردی تو بھی ادا ہو جائے گی،وصول ہونے کے بعد دوبارہ زکوٰۃ دینا لازم نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
الفقه الإسلامي وأدلته - (3 / 292):
المطلب الاوّل ـ زكاة العمارات والمصانع ونحوها :
اتجه رأس المال في الوقت الحاضر لتشغيله في نواحٍ من الاستثمارات غير الأرض والتجارة، وذلك عن طريق إقامة المباني أو العمارات بقصد الكراء، والمصانع المعدة للإنتاج، ووسائل النقل من طائرات وبواخر (سفن) وسيارات، ومزارع الأبقار والدواجن وتشترك كلها في صفة واحدة هي أنها لا تجب الزكاة في عينها وإنما في ريعها وغلتها أو أرباحها.
حاشیہ ابن عابدین (305/2):
(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم.
(قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
28/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


