03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلیجی ممالک میں تابی یا تمارا(TABBY&TAMARA)کے ذریعہ قسطوں پر چیز خریدنے کا حکم
87586خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 سعودی عرب میں اگر کوئی بندہ قسطوں پر کوئی چیز خریدتا ہے تو گورمنٹ شریعہ کمیٹی کی نگرانی میں (تابی یا تمارا ) کے ذریعہ خرید سکتا ہے۔ تابی یا تمارا کے ذریعے قسطوں پر کوئی چیز خریدنا کیسا ہے؟ یہ دو الگ ادارے ہیں، بائع اور مشتری کے درمیان قسطوں پر خرید و فرخت کے معاملہ کو یہی دو ادارے سر انجام دیتےہیں، یہاں اکثر کاروبار قسطوں پر ہے مگر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حرام ہے، کیونکہ یہ ادارے کٹوتی کرتے ہیں۔ براہ کرم تفصیل سے جو ا ب مرحمت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  تابی اور تمارا سعودی عرب  اور دیگر خلیجی ممالک میں آن لائن  قسطوں پر خریداری میں سہولت فراہم کرنے والی کمپنیاں ہیں۔ ان کمپنیوں کا مختلف  پروڈکشن کمپنیوں  سے تعلق ہو تا  ہے۔ پروڈکشن کمپنیاں  ان کے توسط سے اپنی اشیاء   مارکیٹ میں فروخت کرتی ہیں اور ان کو  ہر خریداری پر مخصوص اجرت دیتی  ہیں ۔ دوسری طرف  یہ  کمپنیاں مشتری کی طرف سے پروڈکشن کمپنی کو     یکمشت ادائیگی کرتی ہیں اور مشتری  قرض کی رقم قسطوں میں اداء کرتا ہے، اس کے علاوہ  مشتری سے کسی قسم کا نفع نہیں لیتے ۔اس میں دیگر کمپنیاں قسط کی تاخیر کی صورت میں مشتری پر مخصوص جرمانہ لگاتی ہیں جو شرعا جائز نہیں ہے، لیکن ہماری معلومات کے مطابق  سعودی عرب کی مذکورہ کمپنیاں  جرمانہ  نہیں لگاتیں ۔

لہذا  سعودی عرب میں  موجود تابی اور تمارا کمپنی سے قسطوں پر کوئی چیز خریدناشرعاجائز ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (6/ 63):

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة".

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

17 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب