03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سن رائز (sunrise) ایپلیکیشن میں انویسٹمنٹ  کا حکم
87512اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

 sunrise ایک انویسٹمنٹ ایپلیکیشن ہے، جس کے مختلف پلان ہیں، میں اپ کو پلان بی کے بارے میں بتاتا ہوں۔پلان بی میں 20 ہزار روپے انویسٹ کرنے ہیں اور دن کے 800 روپے آپ کو ملیں گے ، 800 روپے آپ کو تب دئے جائیں گے جب آپ اس کے اٹھ ٹاسک مکمل کریں گے ۔ ہر دن آپ کو آٹھ ٹاسک دئے جاتے ہیں ، جس کو آپ مکمل کریں گے تب ہی آپ کو دن کے پیسے     ملیں گے ۔ آٹھ ٹاسک میں سے سات ٹاسک مکمل کر لیتے ہیں اور آٹھواں نہیں کرتے تب بھی اپ کو پیسے نہیں دئے جاتے ۔ جو دن کے آٹھ ٹاسک ہیں وہ کمپلیٹ کرنا لازمی ہے، تب ہی آپ کو پیسے ملیں گے ۔ اگر آپ مثال کے طور پر تین دن ٹاسک نہیں کرتے ہیں تو اپ کو پیسے نہیں دئے جاتے ۔

 اس ایپلیکیشن میں انویسٹ کرنا کیسا ہے  ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 درج ذیل وجوہ کی بناء پر اس ایپ میں انویسمنٹ کرکے نفع حاصل کرنا جائز نہیں:

1۔مذکورہ ایپ  کی جانب سے روزانہ کچھ پراڈکٹ شیئر کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں،جنہیں شئیر کرنے پر بطورِمعاوضہ پیسے دیے جاتےہیں، یہ اجارے کا معاملہ ہے ،لیکن شرعا اجارے میں اجیر سے ابتداءً کوئی  معاوضہ نہیں لیا جاسکتا، بلکہ اجیر کو ایک عمل دیا جاتا ہے،جس کی تکمیل پر اس کو اجرت دی جاتی  ہے، جب کہ اس ایپ  سے جڑ کر کام کرنے میں اجیر کو پہلے کچھ رقم (فیس کی مد میں) دیکر ممبر شپ لینی پڑتی ہے،بغیر ممبر شپ لیے آپ کو پراڈکٹ شئیر کرنے کا کام نہیں دیا جاتا،یہ درحقیقت اس کمپنی کی ملازمت کا حق خریدنے کی طرح ہے اورچونکہ حق اجارہ حقوق مجردہ میں سے ہے،لہذا اس کاخریدنا شرعا جائز نہیں۔

اس قسم کے  ایپ میں عموما جو ٹاسک دئے جاتےہیں وہ اشیاء کی  مصنوعی طریقے سےتشہیر ہوتی ہےاور اس  سے   مقصود پراڈکٹ کی ریٹنگ کو بڑھانا ہوتا ہے جو کہ حقیقت میں دھوکہ ہے۔

ایسے تمام کاروباری سلسلوں میں درحقیقت لوگوں سے رقم حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے ، لوگوں کو منافع کی لالچ دے کرکر وڑوں  روپے ہتھیالئے جاتے ہیں اور ان کو استعمال کرتے ہیں ، چونکہ اکثر لوگ اپنی رقوم اکھٹی واپس نہیں کرتے تو ان کے پاس بھاری سرمایہ جمع رہتا ہے۔ حقیقت میں شرینگ مقصود نہیں ہوتی۔

مندرج بالا وجوہات کی بنا پر اس ایپ میں انویسٹ کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (4/ 518):

"مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل".

"الدر المختار " (6/ 4):

(هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء".قال العلامة ابن عابدین رحمہ ﷲ:" (قوله: مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر ،لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

15/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب