03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“تم آزاد ہو” کے الفاظ کا حکم
87551طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

 میری شادی کو ۹ سال ہو چکے ہیں۔ شادی سے پہلے بھی میرا شوہر بیمار تھا۔ لیکن شادی کے بعد اس کی ذہنی بیماری کا مسئلہ بڑھ گیا لیکن مجھے اس کی بیماری کا علم نہیں تھا۔ پھر تین چار مہینے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ بیمار ہے۔ عام صورت حال میں یا خوشی میں اس نے مجھ سے یہ کبھی نہیں کہا کہ آپ مجھ سے آزاد ہیں۔ لیکن ان 9 سالوں میں جب بھی جھگڑا ہوتا تھا تو یہ بار بار کہتا تھا کہ آپ مجھ سے آزاد ہیں، البتہ اس نے ایک بار طلاق کا بھی تذکرہ کیا تھا، اگرچہ  یہ  بیمار ہیں لیکن اسے سب کچھ کی تمیز ہیں۔ اگر کھانے میں نمک زیادہ ہو جائے تو اسے پتہ چلتا ہے۔ اپنے مال و جائیداد اور ماں، بہن اور دیگر رشتہ داروں  کو پہچانتے ہیں۔ کبھی بھی اس نے اپنے ماں بہن کو یہ نہیں کہا کہ آپ آزاد ہو، بس صرف مجھے جھگڑے کی حالت میں یہ کہتا ہے۔ دو مہینے پہلے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ یہ ٹھیک ہیں بس تھوڑا سا ذہنی مسئلہ ہے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ پچھلے سات آٹھ سالوں سے رمضان کا روزہ نہیں رکھ رہے ہیں ۔ اگر کھانے کی چیز  کمرے میں رکھ دوں تو یہ  کھا لیتے ہیں،   بیمار ی کی  وجہ سے ان کی باتوں کو توجہ نہیں دی۔

 یہ بات کہ "آپ آزاد ہیں" اس نے بار بار کہی ہے لیکن مجھے تعداد یاد نہیں۔ ایک بار اس نے کہا کہ آپ آزاد ہیں پھر واش روم گیا پھر باہر نکل کر اس نے دوبارہ کہا کہ جاؤ آپ آزاد ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ آپ میری خدمت نہیں کر سکتی، کپڑے نہیں دھو سکتی، زیادہ وقت ماں کے ساتھ گزارتی ہو، صرف رات کیلئے آتی ہو، مجھے ایسی بیوی نہیں چاہئیے۔

 اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کاکیاحکم ہے؟ کیا طلاق واقع ہوئی ہے  ؟ 

سوال کی تنقیح:ایک مرتبہ صریح طلاق بھی دی اس درمیان لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ عدت میں تھی ،اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ "تم آزاد ہو"  کے الفاظ  استعمال  کئے ہیں اور اس درمیان کافی وقت گزرگیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  "تم   آزاد ہو " ان الفاظ کا مدار عرف(رواج )  پر ہے، اگر    عرف میں ان الفاظ کو طلاق کے لئے استعمال کیا جاتا ہو تو اس سے ایک طلاق  صریح واقع ہوگی ،   اور اگر  عرف میں ان الفاظ کو طلاق کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا ہے توبھی یہ طلاق کے ان کنائی الفاظ میں سے ہوتا ہے جن سے مذاکرہ طلاق یا غصے کی حالت میں بلا نیت  ایک  بائن طلاق     واقع  ہوتی ہے۔صورت مسؤولہ میں شرعی حکم کے لحاظ سے دو صورتیں بنتی ہیں ، اپنے علاقے کے کسی مستند عالم دین سے  معلوم کرکےدرجہ ذیل تفصیل پر عمل کیا جائے۔

1۔صورت مذکورہ میں  "تم آزاد ہو "  اگر شوہر کی برادری یا اھل زبان کے عرف میں طلاق کے لئے استعمال کیا جاتا ہو

تو ان الفاظ  کو  تین دفع مختلف موقع پر کہنے سے  تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،جیسے کہ صورت

مذکورہ سے معلوم ہوتا ہے۔ اب نہ رجوع ہو سکتا ہے، نہ دونوں کا  آپس میں دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔لہذا  شوہر کا تین مرتبہ "تم آزاد  ہو" کہنے کے بعد سے  تین ماہواریاں گزرنے پر   آپ کی عدت گزرچکی ہے، اب آپ کہیں اور نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں۔ خاتون کے لیے طلاق کے بعد عدت گزرنے تک شوہر کے گھر میں رہنا شرعا درست ہے؛ کیونکہ عدت شوہر کے گھر میں گزارنا لازم ہے، البتہ اس دوران اس سے پردہ  کرنااور دور رہنا ضروری ہے، لیکن عدت مکمل ہونے کے بعد سابق شوہر کے ساتھ گھر میں رہنا جائز نہیں۔ چونکہ آپ کی عدت مکمل ہوگئی ہے  ،لہذااب آپ کے لیے یہاں ٹھہرنا جائز نہیں، بلکہ فوری طور پر والدین یا کسی محرم رشتہ دار کے گھر منتقل ہونا لازم ہے۔

2۔اگر  شوہر کی براداری یا اھل زبان میں   " تم آزاد ہو "  کے الفاظ،  طلاق کے لئے استعمال نہیں ہوتے ، تو صرف ایک طلاق بائن واقع ہوئی ہےاور درمیان میں ایک طلاق صریح سے طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ طلاق بائن کے بعد طلاق صریح   واقع ہونے کے لئے عدت کا ہونا ضروری ہے اور یہاں عدت کا پتہ نہیں، لہذا صرف ایک طلاق بائن ہی شمار کریں گے۔ ایک طلاق بائن ہونےکی وجہ سے دوبارہ نکاح ضروری ہے بغیر نکاح کے تعلق رکھنا شرعا حرام ہے، اب تک جو تعلقات رکھے ہیں اس پر بھی  اللہ تعالی سے توبہ اور استغفار کریں  ۔  آئندہ نکاح ہونے کی صورت میں شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

رد المحتار :باب صریح الطلاق(3/ 252)

ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف، (قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."

رد المحتار :باب صریح الطلاق(3/ 308)

(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 306):

«(قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة. وقال أيضا: قيدنا الصريح اللاحق للبائن بكونه خاطبها به وأشار إليها للاحتراز عما إذا قال كل امرأة له طالق فإنه لا يقع على المختلعة إلخ وسيذكره الشارح في قوله ويستثنى ما في البزازية إلخ ويأتي الكلام فيه (قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق،»

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

20/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب