| 87625 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
ایک شخص دوسرے سے فریج خرید رہا ہے اور اس کی قیمت نوے ہزار ہے ۔اب بائع یہ کہتا ہے کہ مجھے نوے ہزار نہیں دو ،بلکہ جب مجھے ضرورت ہو تو فریج لے کر دے دینا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مذکورہ میں چیز کے بدلے چیز کو بیچا جا رہا ہے، اس معاملے کو بیعِ مقایضہ کہا جاتا ہے۔ بیعِ مقایضہ میں دونوں چیزوں کو ایک دوسرے کے بدلے فروخت کیا جاتا ہے، اور ہر چیز بیک وقت مبیع (یعنی جس کو خریدا جا رہا ہے)اور ثمن (یعنی جو قیمت کے طور پر دی جا رہی ہے)بن سکتی ہے۔ اس لئے ایسی صورت میں کسی بھی ایک چیز کو اُدھار پر دینا جائز نہیں ہے۔اس کے علاوہ اگر ایک جیسی دو چیزوں کا آپس میں تبادلہ ہو تو ضروری ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کی فوری ادائیگی کی جائے۔ اگر ایک چیز فوراً دی جائے اور دوسری اُدھار رکھی جائے، تو یہ سود (ربا) کی ایک قسم بن جاتی ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔
لہٰذا، صورتِ مسؤلہ میں چونکہ دونوں فریج مبیع اور ثمن کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، اور دونوں ایک ہی نوع (یعنی ایک جیسی چیزیں) سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے کسی ایک کو اُدھار رکھنا شرعاًناجائز ہے ۔
حوالہ جات
«شرح الزيادات - قاضي خان» (5/ 1858):
«إذا أسلم أحدهما قبل القبض، يفسد البيع، والخلع لا يبطل وإن أسلما جميعا؛ لأن البيع يحتمل الانفساخ، فإذا تعذر قبض الثمن على التأبيد، يفسد، كما لو هلك أحد العوضين قبل القبض في بيع المقايضة،»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 172):
(قوله أي القدر وحده) كالحنطة بالشعير (قوله أو الجنس) أي وحده كالهروي بهروي مثله (قوله حل الفضل إلخ) فيحل كر بر بكري شعير حالا وهروي بهرويين حالا، ولو مؤجلا لم يحل.»
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
22/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


