03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کے لئے وقف کی گئی زمین پر مدرسہ بنانے کا حکم
87672وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

 ایک  عورت نے اپنی زندگی میں ایک زمین مسجد کیلئے وقف کی تھی۔ پھر اس نے ایک آدمی کو متولی بنایا کہ آپ اس پر مسجد بنوا دیں۔  اس آدمی کا بیٹامدرسہ کا فاضل تھا۔ دونوں نے مشورہ سے  وقف کی زمین پر  مسجد کی جگہ  مدرسہ کی تعمیر شروع کروائی۔ جس عورت (وہ اب وفات ہوچکی)نے  زمین وقف کی تھی، اس کی ایک بیٹی ہے ،جو شارجہ میں رہتی ہے۔ وہ جب وہاں سے واپس آئی تووقف  زمین پر مسجد  کی بجائے مدرسے کی تعمیر شروع تھی۔ جب انہوں نے پوچھا کہ یہ نقشہ ایسا کیوں ہے؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ ہم اس جگہ پر  مدرسہ اور طلباء کیلئے ہاسٹل بنوارہے ہیں۔ تو اس عورت نے کہا کہ ہماری زمین ہمیں واپس کردو، کیونکہ میری ماں نے یہ مسجد کیلئے وقف کی تھی ۔اس پر متولی اور اس کے بیٹے  نے انکار کردیا  اور کہا کہ  اس تعمیر پر ہماری بہت لاگت آئی ہیں، ہمیں پیسے دے دو، تو  ہم وقف زمین  چھوڑ دیں گے، حالانکہ مدرسے کی تعمیر پر  صرف ہونے والی  رقم  چندےکی ہیں۔جن لوگوں نے چندہ دیا تھا، انہوں نے بھی چندہ مسجد کی تعمیر کی نیت سے دیا تھا  اور وہ سب کہتے ہیں کہ ہم نے متولی کو مسجد کی تعمیر  کی مد میں  چندہ دیا تھا، مدرسہ کی نیت سے نہیں، کیونکہ اس محلے میں مدرسہ سے زیادہ مسجد کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ  ایک اور  آدمی نے مسجد کی زمین کی توسیع کیلئے تھوڑی اور  زمین بھی وقف  کردی تھی، وہ بھی کہتا ہے کہ میں نے زمین مسجد کی نیت سے وقف كی ہے۔

اب سوالات یہ  ہیں :

۱۔مسجد کیلئے وقف کی گئی زمین پر مدرسہ بنانا جائز ہے؟

۲۔ مدرسہ کی تعمیر پر عوام کے چندوں کی رقم صرف ہوئی  ہے اور  مدرسہ اب بھی زیر تعمیر ہے ۔ مسجد میں تبدیل ہو سکتا ہے، یعنی گرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔کیا اس تعمیر کے عوض رقم کا مطالبہ کرنا صحیح ہے، جبکہ صرف ہونے والی رقم وقف تھی اور انہوں نے وقف بھی مسجد کے لئے کی تھی ؟

۳۔ وہ عورت (واقفہ کی بیٹی) عدالت میں مقدمہ  چلا رہی ہے،تو اس میں حکومت کو کیا  کردار ادا کرنا چاہئے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ  واقف  جس  مقصد کے لئےکوئی چیز وقف کردے  تو  اس کا اسی مصرف میں خرچ کرنا ضروری ہے۔لہذا اگر کسی نے زمین مسجد کے لئے وقف کردی تو اس پر مسجد  ہی بنائی جائے، مدرسہ کی تعمیر جائز نہیں ۔

اس تمہید کے بعد سوالات میں درج  تفصیلات اگر حقیقت پر مبنی ہیں تو اس کا حکم درج ذیل ہے:

۱۔ مسجد کے لئے وقف  کی گئی زمین  پر مدرسہ بنانا جائز نہیں ہے، بلکہ اس زمین پر مسجد بنانا ہی لازمی ہے۔صورت مسئولہ میں متولی نے مسجد کے لئے وقف کی گئی زمین  پر مدرسہ کی تعمیر شروع کروا کر غلط استعمال کیا، جس کی وجہ سے وہ ضامن ہوگا۔لہذا  متولی کو چاہئے کہ زمین پر مسجد ہی بنائے، مدرسہ کی تعمیر درست نہیں۔البتہ اگر مسجد بنادی جائے اور اس کے تابع مدرسہ بھی بنادیا جائے تو یہ درست ہوگا۔

۲۔چندہ دینے والے اگر خاص مصرف کی تعیین کرکے چندہ دے دیں ، تو پھر متولی پر اس کا اسی  خاص مصرف میں خرچ کرنا لازم ہے ۔ لہذا اگر گاؤں کے لوگوں نے متولی کو چندہ مسجد بنانے کے لئے دیا تھا اور دیتے وقت اس بات کی صراحت بھی کی تھی  تو اس صورت میں متولی ضامن ہوگا۔لہذا   متولی کے لئے مطلوبہ جگہ چھوڑنے کے بدلے عوض لینا شرعا جائز نہیں ہے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو اسی بلڈنگ کو مسجد میں تبدیل کردی جائے۔

۳۔ اہل علاقہ کو چاہئے کہ خوش اسلوبی کے ساتھ اس معاملہ کو حل کردیں،اور جرگہ کے ذریعے  اس کو قائل کریں کہ وقف زمین پر مسجد ہی تعمیر کی جائے۔ البتہ اگر وہ پھر بھی نہ مانے تب عدالت کے ذریعے جگہ واپس لی جائے۔

البتہ یہ بات واضح رہے کہ متولی سے زمین واپس لینے کے بعد بھی وہ جگہ وقف ہی رہے گی۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 220):

(قوله وإذا صح الوقف) أي لزم، وهذا يؤيد ما قدمناه في قول القدوري ‌وإذا ‌صح ‌الوقف ‌خرج عن ملك الواقف. ثم قوله (لم يجز بيعه ولا تمليكه) هو بإجماع الفقهاء (إلا أن يكون مشاعا فيطلب شريكه القسمة عند أبي يوسف فتصح مقاسمته، أما امتناع التمليك فلما بينا) من قوله عليه الصلاة والسلام تصدق بأصلها لا يباع ولا يورث ولا يوهب» ومن المعنى وهو أن الحاجة ماسة إلى آخره، ولأنه باللزوم خرج عن ملك الواقف وبلا ملك لا يتمكن من البيع.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 362):

‌البقعة ‌الموقوفة ‌على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز.

(الدر المختار :4 / 443):

وقد صرحوا بأن ‌شرط ‌الواقف ‌كنص الشارع فأشبه الإرث في عدم قبوله الإسقاط.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 490):

ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 445):

مطلب مراعاة غرض الواقفين واجبة والعرف يصلح مخصصا.

وهكذا رأيته في نسخة أخرى بلفظ الأول أقرب إلى الصواب، فهدا نص صريح في التفرقة بين الهبة والوقف فتكون الفريضة الشرعية في الوقف هي المفاضلة فإذا أطلقها الواقف انصرفت إليها لأنها هي الكاملة المعهودة في باب الوقف، وإن كان الكامل عكسها في باب الصدقة فالتسوية بينهما غير صحيحة، على ‌أنهم ‌صرحوا ‌بأن ‌مراعاة غرض الواقفين واجبة.

 محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

28/ذی القعده/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب