03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ماموں کی طرف سے ہبہ کی گئی زمین پراڑتالیس سال بعد ان کےبیٹے کا دعوی کرنا
87665دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

میرے والد جمعہ گل اور میرے چچا  کو ان کے ماموں نے اپنی زمین میں مکان بنانے کے لئے جگہ دی تھی،اس  جگہ پر ہمارے خاندان کا تقریبا اڑتالیس سال سے قبضہ چلا آرہا ہے،اس عرصے میں زلزلے کی وجہ سے دو تین بار مکان گرنے کے بعد دوبارہ بھی تعمیر کیا گیا،لیکن کسی کی جانب سے کوئی دعوی سامنے نہیں آیا،اب اتنے عرصے بعد میرے والد کے ماموں کے بیٹے نے دعوی کیا ہےکہ یہ جگہ میری ہے۔

ہمارے پاس گواہ بھی موجود ہیں اور ہمارے گاؤں کے معتبر اور بڑے لوگ بھی ہمارے حق میں ہیں کہ یہ جگہ ہمارے والد اور چچا کو ان کے ماموں نے مکان بنانے کے لئے دی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ میرے خاندان کو کوئی فرد اس جگہ پر دعوی نہیں کرے گا، گاؤں کے معززین جنہوں نے ہمارے حق میں گواہی دی ہے، ان میں سردار خان،موسی خان،شیرین خان،طاؤس بابا اور نوروہاب شامل ہیں۔

اب جبکہ ماموں کی وفات کو بھی تیس سال کا طویل عرصہ گزرچکا ہے ان کے ایک بیٹے نے اس جگہ کی ملکیت کا دعوی کردیا ہے ،سوال یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے کے قبضے،گواہوں کی موجودگی اور مالک کی رضامندی کے بعد اس دعوی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب آپ کو اس زمین میں تصرف کرتے ہوئے اڑتالیس سال کا طویل عرصہ گزرچکا ہے،جس میں سےتیس سال کا عرصہ ماموں کی وفات کے بعد کا ہےاور اس طویل دورانیہ کے درمیان  ان کے بیٹےنے  کسی معقول وجہ کے بغیر اس زمین کے حوالے سے ملکیت کا دعوی نہیں کیا،تو اب اتنے طویل عرصے کے بعد اس زمین کے حوالے سے اس کےمذکورہ دعوی کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

حوالہ جات

"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية "(2/ 15):

"(سئل) في رجل تصرف في دار معلومة زمانا تصرف الملاك في أملاكهم من غير معارض له في ذلك ولا في شيء منه ثم باعها من زيد وباعها زيد من عمرو ومضى للتصرف المذكور أكثر من عشرين سنة وللرجل قريب مطلع على التصرف المذكور هو وورثته من بعده ولم يدعوا بشيء من الدار والكل في بلدة واحدة ولم يمنعهم من الدعوى مانع شرعي قام الآن ورثته يريدون الدعوى بشيء من الدار فهل تكون دعواهم بذلك غير مسموعة؟

(الجواب) : نعم لا تسمع دعواهم في ذلك وتترك الدار في يد المتصرف قطعا للأطماع الفاسدة؛ لأن السكوت كالإفصاح قطعا للتزوير والحيل والمسألة في كثير من المعتبرات كالتنوير والكنز والملتقى في مسائل شتى آخر الكتاب والبزازية الولوالجية وعبارتها رجل تصرف زمانا في أرض ورجل آخر رأى الأرض والتصرف ولم يدع ومات على ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوى ولده فتترك في يد المتصرف؛ لأن الحال شاهد اهـ لا سيما بعد صدور المنع السلطاني عن سماع الدعوى بعد خمس عشرة سنة والمسألة في فتاوى الأنقروي مفصلة وكذا في الخيرية في كتاب الدعوى في عدة أسئلة".

"رد المحتار" (6/ 742):

"ثم اعلم أنه نقل العلامة ابن الغرس في الفواكه البدرية عن المبسوط إذا ترك الدعوى ثلاثا وثلاثين سنة، ولم يكن مانع من الدعوى، ثم ادعى لا تسمع دعواه لأن ترك الدعوى مع التمكن يدل على عدم الحق ظاهرا اهـ ومثله في البحر وفي جامع الفتاوى وقال المتأخرون من أهل الفتوى: لا تسمع الدعوى بعد ست وثلاثين سنة إلا أن يكون المدعي غائبا أو صبيا أو مجنونا ليس لهما ولي، أو المدعى عليه أميرا جائزا يخاف منه كذا في الفتاوى العتابية".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

28/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب