| 87663 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
جو لوگ یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ پر اس طرح کام کرتے ہیں کہ اجنبی یا غیر اجنبی افراد کی تصاویراور شرعی و غیر شرعی ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں،انہیں شیئر کرتے ہیں اور جب ان ویڈیوز کو بڑی تعداد میں لوگ دیکھتے ہیں تو انہیں اس کے بدلے میں پیسے ملتے ہیں، اس طرح کا کام کرنا اور اس پر اجرت حاصل کرنا شرعاً کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یوٹیوب، فیس بک یا ٹک ٹاک پر کیا جانے والا کام شریعت کے مطابق ہو،یعنی ویڈیوز میں فحش تصاویر، میوزک، ناچ گانے، بے پردگی یا غیر اخلاقی مواد نہ ہو،یہ ویڈیوز جائز اور فائدہ مند معلومات پر مشتمل ہوں تو ایسا کام کرنا بھی جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی حلال ہے،لیکن اگر ویڈیوز میں غیر شرعی مواد ہو، جیسے فحاشی، موسیقی، فلمی کلپس، ناچ یا غیر محرم مرد و عورت کی نمائش تو ایسا کام کرنا بھی نا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی ناجائز ہے۔
حوالہ جات
(أحكام القرآن للجصاص) :
وقوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان لله تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان ،نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى۔
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
27/ذی قعدہ/6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


