03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا حکم
87669طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میں ایک اہم مسئلہ کے سلسلے میں شرعی رہنمائی کا خواستگار ہوں، جو میرے ایک عزیز دوست کے ساتھ پیش آیا ہے۔ انہوں نے اپنا معاملہ میرے سپرد کیا ہے تاکہ میں اسے واضح اور باادب انداز میں کسی معتبر دارالافتاء کے سامنے پیش کر سکوں۔

چند ماہ قبل مذکورہ شخص (شوہر) نے اپنی زوجہ کے سامنے طلاق کی ایک شرطی عبارت اس انداز سے ادا کی:"اگر میں نے کسی اجنبی عورت کے ساتھ پیار و محبت کی باتیں کیں، یا کسی بدکاری (زنا) میں مبتلا ہوایا اگر میں نے خود اپنے ہاتھ سے شہوت نکالی (مشت زنی کی) تو میری بیوی پر طلاق ہے۔"یہ الفاظ اس نے تین مرتبہ دہرائے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے تین طلاقوں کو ان افعال کے ارتکاب پر معلق کیا۔اب حالیہ ایام میں، جب وہ شخص ملائیشیا میں تنہا مقیم ہے، اس پر شہوت کا غلبہ ہوا، اس نے اپنے بستر پر الٹا لیٹ کر غالباً کسی شہوت انگیز ویڈیو یا تصور کے زیرِ اثر اپنی شرمگاہ کو بستر سے رگڑنے کی حالت میں رکھا، جس کے نتیجے میں انزال (منی خارج) ہو گیا۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ اس نے ہاتھ کا استعمال نہیں کیا۔علاوہ ازیں، اس نے گوگل پر مختلف الفاظ سے تلاش (search) کی، جیسے: "Malaysia girls service" وغیرہ۔ نتیجتاً کچھ واٹس ایپ نمبرز ظاہر ہوئے، جن میں سے ایک پر اس نے یہ سوال بھیجا کہ: "آپ کی لوکیشن کیا ہے؟" نہ اس نے کوئی پیار و محبت کی بات کی، نہ کسی قسم کا جنسی تعلق قائم کیا، صرف لوکیشن سے متعلق سوال ہوا، جواباً ان لڑکیوں کی طرف سے تصاویر اور لوکیشن بھی موصول ہوئیں، مگر وہ شخص نہ تو وہاں گیا، نہ کوئی عملی تعلق قائم کیا، بلکہ بعد میں اس نے وہ تصاویر اور چیٹ ڈیلیٹ کر دی،سوال یہ ہے کہ:

(1)کیا بستر پر لیٹ کر، بغیر ہاتھ کے استعمال کے، شہوت کے ساتھ منی کے اخراج کا یہ عمل "ہاتھ سے شہوت نکالنے" کی شرط میں شامل ہو گا؟

(2)کیا گوگل سرچ کرنا، اور کسی نامعلوم خاتون سے صرف لوکیشن کے بارے میں پوچھنا (بغیر فحش یا پیار و محبت کی بات کیے) اس شرط میں شامل ہو گا کہ "غلط عورتوں کے ساتھ پیار و محبت کی باتیں کیں"؟

(3)اگر نیت شرط لگاتے وقت صرف عملی زنا اور واضح شہوت آمیز باتوں کی تھی، تو کیا مذکورہ افعال (سرچ، لوکیشن معلوم کرنا، وغیرہ) اس میں داخل ہوں گے؟

(4)اگر یہ افعال شرطِ طلاق میں شامل شمار ہوں تو کیا طلاق واقع ہو چکی؟

(5)اگر ہاں، تو ایک ہوئی یا تینوں واقع ہو چکی ہیں؟

(6)اگر طلاق واقع نہیں ہوئی، تو کن حدود میں رہتے ہوئے احتیاط لازم ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے افعال سے نکاح محفوظ رہے؟التماس ہے کہ قرآن و سنت، اور فقہ حنفی کے اصول و قواعد کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔ آپ کی راہنمائی عند اللہ باعثِ اجر و مغفرت ہو گی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)طلاق کو مذکورہ الفاظ یعنی"اگر میں نے کسی اجنبی عورت کے ساتھ پیار و محبت کی باتیں کیں، یا کسی بدکاری (زنا) میں مبتلا ہوا، یا اگر میں نے خود اپنے ہاتھ سے شہوت نکالی (مشت زنی کی)، تو میری بیوی پر طلاق ہے"سے معلق کرنے کے بعدبستر پر لیٹ کر، بغیر ہاتھ کے استعمال کے، شہوت کے ساتھ منی  کا اخراج کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی،اس لیے کہ یہ کیفیت مشت زنی میں شمار نہیں ہوتی،نیز تعلیق، قسم کے حکم میں ہوتی ہے اور قسم کا دارومدار عرفی معنی پر ہوتا ہے اور عرف میں مذکورہ کیفیت کو مشت زنی شمار نہیں کیا جاتا،لہٰذا مذکورہ کیفیت اختیار کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ سخت گناہ گار ہوا،لہٰذاتوبہ و استغفار لازم ہے۔

(2)شامل نہیں ہوگا،لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوئی۔

(3)تعلیق،قسم کے حکم میں ہوتی ہے اور قسم میں نیت اور اغراض کا اعتبار نہیں کیا جاتا بلکہ کہے گئے الفاظ کے عرفی معنیٰ کا اعتبار ہوتا ہے،بہرحال مذکورہ افعال کا ارتکاب کرنے سے شرط نہیں پائی گئی،لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوئی۔

(4) مذکورہ افعال کا ارتکاب کرنے سے شرط نہیں پائی گئی،لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوئی۔

(5) ایک بھی نہیں ہوئی،البتہ اگر آئندہ ایک مرتبہ بھی شرط پائی گئی تو الفاظ تعلیق و طلاق تین مرتبہ کہنے کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔

(6) چونکہ ایک مرتبہ طلاق کو معلق کرنے کے بعد خود بہ خود تعلیق ختم نہیں ہوسکتی اور نہ کی جاسکتی ہے، لہٰذا تعلیق برقرار رہے گی،اس لیے شوہر کو چاہیے کہ تینوں افعال(اگر میں نے کسی اجنبی عورت کے ساتھ پیار و محبت کی باتیں کیں، یا کسی بدکاری (زنا) میں مبتلا ہوا، یا اگر میں نے خود اپنے ہاتھ سے شہوت نکالی (مشت زنی کی)، تو میری بیوی پر طلاق ہے) کے ارتکاب سے ہر ممکن اجتناب کرے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 743)

الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض.

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 743)

(قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله واحترز به عن القول ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله: لا على الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 16)

لأن التعليق يمين.

الفتاوى الهندية (1/ 415)

ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما

الفتاوى الهندية (1/ 420)

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 376)

وقد عرف في الطلاق أنه لو قال: إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق وقع الثلاث.

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 376)

(قوله وقع الثلاث) يعني بدخول واحد كما تدل عليه عبارةأيمان الفتح، حيث قال: ولو قال لامرأته والله لا أقربك ثم قال والله لا أقربك فقربها مرة لزمه كفارتان. اهـ. والظاهر أنه إن نوى التأكيد يدين ح.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 293)

كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين.

الفتاوى الهندية (4/ 209)

ولو قال لها إذا دخلت الدار أو إذا كلمت فلانا أو صليت الظهر أو إذا جاء رأس الشهر فأنت طالق اثنتين، ثم أقرت بالرق، ثم وجد الشرط طلقت اثنتين وملك الزوج رجعتها؛ لأن الرجوع عن التعليق لا يصح فلا يمكنه التدارك.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

28.ذوالقعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب