03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تیل بردار گاڑیوں کو سفری خطرات سے بچانے پر اجرت کا حکم
87664اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

ہمارے ہاں بلوچستان میں ایرانی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ حکومت بلوچستان کی طرف سے اس کی اجازت ہے اور سرکاری طور پر اس کاروبار پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ البتہ انتظامیہ پولیس و لیویز اہلکار اپنے اپنے چیک پوسٹوں پر تیل بردار گاڑیوں سے بھاری رقم بطور بھتہ وصول کرتے ہیں ۔ دوسری جانب بعض قبائلی لوگ اسلحہ کے زور پر بھی بھتہ وصول کرتے ہیں ۔بندہ کا علاقہ میں اثر و رسوخ ہے،تو بعض گاڑیوں کو چیک پوسٹوں سے اور دیگر قبائلی اسلحہ بردار لوگوں سے چھڑا کر راہداری فراہم کرتا ہے۔ کبھی کبھار پوری رات اسی میں بسر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ سرکاری اور نجی بھتہ خوری اور راستے کے سفری خطرات سےمحفوظ رہتے ہیں۔میں ان سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرتا کہ مجھے اتنی رقم دیدو۔کوئی ایک ہزار ،کوئی دو ہزار، کوئی اس سے زیادہ اپنے مرضی سے دے دیتا ہے ۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ جو آپ دیدیں مجھے اعتراض نہیں۔کیا اس رقم کا میرے لیئے لینا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر واقعی سائل کی طرف سے صرف ہمدردی کا عمل ہوتا ہےاورگاڑی والےبھی  اپنی مرضی سے دیدیتے ہیں،اگرنہ دیں  تو سائل مطالبہ نہیں کرتا تو یہ ان لوگوں  کی طرف سے تبرع ہے اور سائل کے لئے اس کو قبول کرنا جائز ہے۔

تاہم اگر ابتداء میں اجرت متعین کردی جائے  مثلاگاڑی والا یہ کہے کہ اگر آپ نے ہماری گاڑی بحفاظت نکلوائی تو آپ کو اتنی (کوئی متعین)  اجرت  ملی گی وگرنہ نہیں تو یہ بہتر صورت ہوگی ،کیونکہ ایسا معاملہ جعالہ(کسی مجہول یا معلوم کام کی بنیاد پر انعام دینا) کی بنیاد پر بلاشبہ   جائز ہے۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية (15/ 77):

الجعل: لغة ما يجعل للعامل على عمله، وهو أعم من الأجر والثواب

واصطلاحا: المال المعلوم سمي في الجعالة لمن يعمل عملا مباحا ،ولو كان مجهولا في القدر أو المدة أو بهما، فالفرق بينه وبين الجائزة أن الجائزة عطية بلا مقابل.

‌‌الحكم التكليفي:

6 - الأصل إباحة الجائزة على عمل مشروع سواء أكان دينيا أو دنيويا، لأنه من باب الحث على فعل

الخير والإعانة عليه بالمال وهو من قبيل الهبة.

الموسوعة الفقهية الكويتية (15/ 216):

‌‌معلوميته: - قال المالكية والشافعية والحنابلة: يشترط لصحة عقد الجعالة أن يكون الجعل مالا

معلوماجنسا وقدرا؛ لأن جهالة العوض تفوت المقصود من عقد الجعالة، إذ لا يكاد أحد يرغب في العمل مع جهله بالجعل، هذا فضلا عن أنه لا حاجة لجهالته في العقد، بخلاف العمل والعامل حيث تغتفر جهالتهما للحاجة إلى ذلك.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 27/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب