03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی طرف سے زکوٰۃ اداکرکےاپنی ملازمت کے ادارے سے ان پیسوں کی واپسی کرانا
87673زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنی بیوی کی طرف سے ہر سال زکواۃ ادا کرتا ہوں اوراپنے قریبی رشتہ دار کودیتا ہوں ۔اب میں یہ چاہتا ہوں کہ زکوٰۃ کی رقم اس سال کسی فلاحی ادارے مثلاً شوکت خانم یا ایدھی وغیرہ کسی فلاحی ادارے کو  دوں ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ میں جس کمپنی میں ملازم ہوں، اس کمپنی کی طرف سے تمام ملازمین کے لئے یہ قانون ہے کہ پورا سال جو ملازم کوئی ٹیکس ادا کرے یا زکواۃ ادا کرےاوروہ ان تمام ادائیگیوں کی رسید کمپنی کو فراہم کرے، تو وہ ادا کی گئی رقم ادارہ ہمیں  واپس دے دیتا ہے تو کیا یہ رقم ہمارے لئے لینا جائزہے؟اگر کمپنی زکوٰۃ کی رسید کی بنیاد پر رقم واپس کرے تو کیا اس سے زکوٰۃ کی ادائیگی پر کوئی اثر پڑے گا ؟

تنقیح :سائل نے بتایا کہ یہ سہولت ملازم کو حاصل ہے اس کی فیملی کو نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید دو باتيں سمجھ لیجئے ۔

پہلی بات:جو شخص صاحب نصاب ہو زکوٰۃ ادا کرنا بھی اسی پر واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا بیوی اگر صاحب نصاب ہے تووہ خود زکوٰۃ ادا کرے گی۔ البتہ اگر شوہر بیوی کی اجازت سے زکوٰۃ ادا کردے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

دوسری بات:زکاۃ کی ادائیگی  کے لیے  زکاۃ کی رقم  کی تملیک    یعنی مستحقین کے  حوالے  کرنا بنیادی شرط ہے  ،اس  کے بغیر زکاۃ کی ادائیگی درست  نہیں ۔ بااعتماد فلاحی تنظیم کو زکاۃ دینا فی نفسہ جائز ہے ،لیکن اس  کی انتظامیہ کے ذمہ واجب ہے کہ زکاۃ   کی رقم مستحقین کو بطور تملیک  حوالہ کرے ۔ زکاۃ کے پیسوں سے مسجد  ،مدرسہ ،اسکول ،سڑک وغیرہ بنانا جائز نہیں ۔اسی  طرح  فلاحی تنظیم کے  عملہ اور ملازمین کو    زکاۃ  کے پیسوں   سے تنخواہ دینا  بھی درست نہیں  ۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ادارے کا اپنے ملازمین کو ادائیگیوں کی واپسی کی سہولت دینا  تبرع اور احسان ہے ،گویا ادارہ ملازم کی طرف سے ادا شدہ زکوٰۃ کی رقم کے بقدر اپنی طرف سے بطور تعاون ادا کرنا چاہتا ہے،لیکن چونکہ یہ سہولت صرف ادارے کے ملازم کے لئے ہے ،اس لئے آپ کا بیوی کی طرف سے زکوٰۃادا کرکے اپنی زکوٰۃکی  مد میں ادارےسے واپسی کرانا دھوکہ ہے جو کہ جائز نہیں ۔ البتہ زکوٰۃپر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (1/ 69):

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا

فليس منا .

البحر الرائق (227/2):

ولو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز؛ لأنها وجدت نفاذا على المتصدق؛ لأنها ملكه، ولم

يصر نائبا عن غيره فنفذت عليه ،ولو تصدق عنه بأمره جاز ويرجع بما دفع عند أبي يوسف، وإن لم يشترط الرجوع كالأمر بقضاء الدين وعند محمد لا رجوع له إلا بالشرط.

رد المحتار (269/2):

قال في التتارخانية: إلا إذا وجد الإذن أو أجاز المالكان اه أي أجاز قبل الدفع إلى الفقير، لما في البحر: لو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز لأنها وجدت نفاذا على المتصدق لأنها ملكه ولم يصر تائبا عن غيره فنفذت عليه اه لكن قد يقال: تجزي عن الآمر مطلقا لبقاء الإذن بالدفع. قال في البحر: ولو تصدق عنه بأمره جاز ويرجع بما دفع عند أبي يوسف. وعند محمد لا يرجع إلا بشرط الرجوع اه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 39):

وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه وهو المصدق والملك للفقير يثبت من الله تعالى وصاحب المال نائب عن الله تعالى في التمليك والتسليم إلى الفقير .

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 27/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب