03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر اور پلاٹ ملکیت میں ہونے پر  قربانی کا حکم
87709قربانی کا بیانوجوب قربانی کانصاب

سوال

میرے پاس اپنا ایک گھر اور ایک پلاٹ ہے ،مگر میں اپنے والد کے گھر میں رہائش پذیر ہوں ۔ابھی میرے گھر میں کافی کام کرنا باقی ہے، اس کی دیواریں اور واش روم کافی خراب  حالت میں ہیں، یعنی رہائش  کے قابل نہیں ۔  جو پلاٹ لیا ہے، اس کی مارکیٹ ویلیو اچھی نہیں ہے اور نہ بیچنے کی نیت سے لیا ہے،اس کے علاوہ میں نے کمپنی سے 7000 ریال قرضہ لیا تھا جس کی آدھی رقم ابھی  ادا کرناباقی ہے ،کمپنی مجھ سے 750 ریال  ماہانہ لیتی ہے ۔

 اب سوال یہ ہے کہ میرے پاس پلاٹ اور گھر ( جس تفصیل اوپر بیان کر دی ) ہے ،کیا مجھ پر قربانی واجب ہے؟ 

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ پلاٹ کی موجودہ قیمت تقریبا 10 لاکھ ہے۔

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں،ضرورت سےزائد اتنا مال موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ پلاٹ حاجت اصلیہ (ضروریات زندگی)سے زائد ہے اور قرضے کی مد میں  ایک سال تک کی اقساط  منہا کرنا ہوتی ہیں،  چونکہ بقایا قرضہ 3500 ریال  آپ کے ذمہ واجب   ہیں ، جو تقریبا  5مہینوں میں پورےہو جائیں گے،  لہذا سارا  قرضہ3500 ریال  (موجودہ قیمت کے مطابق پاکستانی تقریبادو لاکھ باسٹھ  ہزار (262,000 )روپے) منہا  کرنے کے بعد    پلاٹ  کی قیمت تقریبا  سات لاکھ اڑتیس ہزار (738,000) روپے بنتی ہے ،جو کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے ،لہذاصاحب نصاب ہونے کی وجہ سے آپ پر  قربانی کرنا واجب  ہے۔

 

حوالہ جات

الفتاوى الهندية : (1/ 191)

وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان

الفتاوى الهندية : (42/ 225)

(وأما) (شرائط الوجوب): منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 312):

وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية۔۔۔۔(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا        

            ارسلان نصیر      

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

    27 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب