| 87674 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
اگر قربانی کا ارادہ ہو تو کیا چاند نظر آنے کے بعد بال کٹوانے یا ناخن تراشنے سے گناہ ہوتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس شخص کاقربانی کرنےکا ارادہ ہو اس کے لیے یکم ذی الحجہ سے قربانی کا جانور ذبح ہونے تک ناخن اور بال نہ کاٹنا مستحب ہے۔ "مستحب" کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کام کر لیا جائے تو اس پر ثواب ملتا ہے اور اگر نہ کیا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ملتا ،لہٰذا بال نہ کاٹنا اور ناخن نہ تراشنا ایک باعثِ ثواب عمل ہے ، تاہم ایسے شخص کے لیے بال کاٹنا ممنوع نہیں ہے، اگر کسی نے بال یا ناخن قربانی سے پہلے کاٹ لیے تو نہ گناہ گار ہوگا،اورنہ اس سےاس کی قربانی پر کوئی اثر پڑے گا۔البتہ وہ مستحب عمل کے ثواب سے محروم رہ جائے گا۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (6/ 83):
عن أم سلمة ترفعه قال: « إذا دخل العشر وعنده أضحية يريد أن يضحي، فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا ..
عن أم سلمة : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: « إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحي، فليمسك عن شعره وأظفاره .
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 181):
قال في شرح المنية: وفي المضمرات عن ابن المبارك في تقليم الأظفار وحلق الرأس في العشر أي عشر ذي الحجة قال لا تؤخر السنة وقد ورد ذلك ولا يجب التأخير اهـ ومما ورد في صحيح مسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «إذا دخل العشر وأراد بعضكم أن يضحي فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا» فهذا محمول على الندب دون الوجوب بالإجماع۔
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
29/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


