| 87704 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے ایک گروپ کے ساتھ (جو چار پانچ لڑکوں پر مشتمل تھا) کچھ پیسے انویسٹ کیے تھے۔ پچھلی عیدالاضحیٰ کے بعد انہوں نے پلان کیا تھا کہ ہم کچھ جانور خریدیں گے۔ یہ سب بکرے تھے۔ ان بکروں کو پورا سال پالیں گے اور اگلی عیدالاضحیٰ (یعنی موجودہ سال) پر انہیں فروخت کریں گے۔ ان جانوروں کی کل تعداد تقریباً چالیس سے کچھ زیادہ ہے، جو اب تک زندہ ہیں۔ بیچ میں کچھ جانور ہلاک بھی ہو گئے۔ میں نے اس کاروبار میں ڈیڑھ لاکھ روپے انویسٹ کیے تھے۔ بعد میں یہ طے ہوا تھا کہ جو بھی منافع ہوگا، وہ انویسٹمنٹ کے لحاظ سے تقسیم کر دیا جائے گا۔ جس کی جتنی انویسٹمنٹ ہوگا، اسی کے مطابق اسے منافع ملے گا۔
اب مجھے یہ دریافت کرنا تھا کہ کیا انہی جانوروں میں سے میں خود کوئی جانور خرید کر قربانی کر سکتا ہوں؟ کیونکہ مجھے اس میں یہ خدشہ محسوس ہو رہا ہے کہ جس جانور کو میں قربانی کے لیے خریدوں گا، اس کی قیمت بھی بالواسطہ طور پر منافع میں شامل ہو جائے گی، کیونکہ جو پیسے میں دوں گا، وہ بھی منافع کے اندر شمار ہو سکتے ہیں، جو کہ بعد میں مجھے واپس ملنا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ جانور قربانی کے لیے خریدنا جائز ہے؟ کیا یہ نفع اٹھانے کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں سائل کا ا ن مشترکہ جانوروں میں سے اپنے لئے قربانی کا جانور خریدنا جائز ہے ، البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس ریٹ پر دوسروں کو جانور فروخت کئے جاتے ہیں اسی حساب سے اپنے لئے جانور خریدا جائے ، اس لئے کہ مذکورہ صورت میں مشترکہ کاروبار سے اپنے لیے جانور خریدنے کی صورت میں کہ اس جانور میں جتنا حصہ سائل کا بنتا ہے تو سائل نے جانور خرید کر اس کے بقدر سرمایہ مشترک کھاتے میں جمع کروا دیا تاکہ اس کا سرمایہ کم نہ ہو اور باقی حصہ یعنی کاروبار میں شریک دوسرے شرکاء کا اس جانور میں حصہ ،ان کی اجازت سے خرید لیا، جو کہ جائز ہے۔ باقی اس خریداری میں جو نفع ہوگا وہ کاروبار سے حاصل شدہ باقی نفع میں شامل کرکے طے شدہ تناسب کے مطابق شرکاء میں تقسیم کردیا جائے گا ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (8/454) :
ولو شرى من رب المال بألف عبدا شراه) رب المال (بنصفه رابح بنصفه) وكذا عكسه لانه وكيله، ومنه علم جواز شراء المالك من المضارب وعكسه
تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر (8/ 454):
قوله: (ومنه علم جواز شراء المالك من المضارب وعكسه) أما شراء المالك من المضارب مال المضاربة فإنه وإن كان مال المالك لكنه لا يملك التصرف فيه بعد صيرورته عرضا، وصحة العقد تحتمل حصول الثمرة وقد حصلت بملكه التصرف.
وأما شراء المضارب من رب المال فهو صحيح، لان ما شراه لا يملك فيه العين ولا التصرف، وهو وإن شراه للمالك لانه وكيل عنه، لكن في شرائه فائدة وهو حصول الربح له. وفيه فائدة للمالك أيضا لانه ربما يعجز عن بيعه بنفسه.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
30/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


