03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کلائنٹس اور کاروباری تعلقات کو میراث میں شامل کرنا
87696میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک وراثتی تنازعے کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے، جو میرے والد (مرحوم) کے انتقال کے بعد پیدا ہوا ہے۔ کیس کی تفصیل: خاندانی پس منظر: میرے دادا 2004 میں وفات پا گئے، ان کے سات بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ ان کا کاروبار وفات سے پہلے ہی بند ہو چکا تھا اور جائیداد نیلام ہو چکی تھی۔ میرے والد (ان کے سب سے بڑے بیٹے) نے کچھ مؤکلوں کے قرضے اپنی ذاتی کمپنی سے ادا کیے۔ موجودہ تنازعہ: میرے چچاؤں کا دعویٰ ہے کہ ایک مؤکل(کلائنٹ) جو میرے والد نے اپنی محنت سے حاصل کیا تھا، وہ دراصل دادا کے کاروبار کا حصہ تھا۔ وہ اس مؤکل سے ہونے والی آمدنی میں حصہ مانگ رہے ہیں، حالانکہ مؤکل صرف عارضی معاہدے پر کام کرتا تھا، میرے والد نے اسے اپنی محنت سے بحال کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا مؤکل( جو کاروبار بند ہونے کے بعد معاہدہ ختم کر چکا تھا ،میرے والد کی ذاتی کوششوں سے بحال ہوا،جس سے  کوئی مستقل معاہدہ نہیں تھا،) وراثت کا حصہ بن سکتا ہے؟ کیا 20 سال بعد ایسا دعویٰ شرعی طور پر درست ہے؟ کیا میرے والد کی محنت سے حاصل ہونے والے مؤکل پر میرے چچاؤں کا کوئی حق بنتا ہے؟

تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل کے والد اور ان کے دادا کے درمیان تقریباً 13 سال پارٹنرشپ  رہی ، ان کے  مختلف کلائنٹس تھے جن کا کام سائل کے والد اور دادا کیا کرتے تھے ۔ دادا کا کاروبار مندی کا شکار ہوا اور ان پر قرضے چڑھ گئے ، بہت سے کلائنٹس کے پیسے انہوں نے دینے تھے ،نہ دے سکنے پر کلائنٹس نے ان پر کیس کیا اور ان کا لائسنس منسوخ کروادیا ، دادا کی جائیداد بھی نیلام ہوگئی ، سوال میں بتائے گئے  کلائنٹ کو سائل کے والد نے اپنے  ذاتی لائسنس  کے تحت نامزد کمپنی سے قرضہ ادا کیا ، اس کلائنٹ نے پہلے ان کے ساتھ کام روک دیا ، لیکن بعد میں کافی کوشش اور محنت کے بعد اس کلائنٹ نے ان کے والد کی کمپنی  کے ساتھ دوبارہ کام بحال کیا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ترکہ میں وہی چیزیں داخل  کی جاتی ہیں جوبوقت موت میت کی ملکیت تھیں، اس میں کاروباری تعلقات وغیرہ کا حساب نہیں کیا جاتا، البتہ اگر کسی  کے ذمہ میت کا واجب الوصول قرض ہو تو وہ ترکہ میں شامل کیا جاتا ہے ،  نیز موکل یا وکیل میں سے کسی ایک کی موت سے ان کے درمیان عقد وکالت ختم ہوجاتاہے۔

صورت مسئولہ میں  جو کلائنٹ عارضی معاہدے پر آ پ کے مرحوم دادا کے ساتھ کام کرتا تھا اورآپ کے دادا کے انتقال کے وقت اس کے پاس آپ کے دادا کی دی ہوئی کوئی  رقم یا   اس کے ذمہ آپ  کے دادا کا کوئی واجب الادا قرض نہیں تھا، آپ کے دادا  کے ساتھ  اس کی وکالت کا تعلق آپ کے دادا کی وفات کے بعد  ختم ہو گیا ، اس کے بعد آپ کے والد نے اپنی ذاتی کمپنی کے تحت اس کلائنٹ  کو اپنی محنت سے دوبارہ حاصل کیا تو اس کلائنٹ  کو یا اس   سے حاصل ہونے والی آمدنی  کو میراث میں شامل کرنے کا مطالبہ کرنا  درست نہیں ۔

حوالہ جات

شرح المجلۃ :المادة (2 9 0 1) :

كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم

الموسوعۃ الفقہیہ (ج:45،ص:106):

تبطل ‌الوكالة بموت الموكل أو الوكيل باتفاق الفقهاء. وذلك لأن الموت مبطل لأهلية التصرف، فإذا مات الموكل أو الوكيل بطلت أهليته بالموت فتبطل الوكالة.

ولأن الوكيل نائب عن الموكل في ماله، وقد انتقل هذا المال بالوفاة إلى ورثته، فلا يلزمهم ما باع أو اشترى۔

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

30/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب