| 87681 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
اگرکسی کو دوسری شادی کرنے کی وجہ سے پہلے سسرال کی طرف سے یقینی لڑائی اور کیس کروا کر ایک سال تک جیل اور پانچ لاکھ تک جرمانہ اور اس طرح کے مزید سنگین نقصانات، جیسا کہ جیل میں جانے سے نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھنا، میری خالہ میری بیوی کے چاچو سے شادی شدہ ہے اور اس کو بھی طلاق دینے کی یقینی دھمکی دی گئی جس کی وجہ سے مجھے مجبوراً پہلے بیوی سے عدالتی کیس سے بچنے کے لیے جھوٹ بولنا پڑا کہ:آج سے چار دن پہلے میں نے اپنی پہلی بیوی کو تیسری طلاق دے دی تھی۔تو کیا ایسا بولنے یا لکھنے سے طلاق ہو جاتی ہے؟ جبکہ دل سے میری طلاق کی نیت بالکل نہیں تھی، میں نے بس ڈر،خوف اور جیل کے کیس سے بچنے کے لیے جھوٹ بولا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرکسی شخص کوقتل ،قیدیاغیر معمولی مار پیٹ کرنے کی دھمکی کے ذریعہ طلاق دینے پرمجبورکیاجائے تواس صورت میں اگرزبانی طورپرمکرہ (مجبورکیاگیاشخص) طلاق دے دے توطلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگرتحریری صورت میں دےتوطلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مذکورہ میں تحریری طلاق تو واقع نہیں ہوئی ،جہاں تک زبانی طلاق کی بات ہے تو چونکہ سائل نے جھوٹی طلاق كا اقرار كيا ہے اور مجبور ی کی حالت میں طلاق کا اقرار کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی،لہٰذاصورت مذکورہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (24/ 40):
وقالوا: طلاق المكره، واقع سواء كان المكره سلطانا، أو غيره أكرهه بوعيد متلف، أو غير متلف،
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 35):
(وأما) (أنواعه) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد.
وفی رد المحتار (ج 25 / ص 76):
” ( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف
باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 235):
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق.... (قوله لا إقراره بالطلاق) قيد بالطلاق لأن الكلام فيه، وإلا فإقرار المكره بغيره لا يصح أيضا كما لو أقر بعتق أو نكاح أو رجعة أو فيء أو عفو عن دم عمد أو بعبده أنه ابنه أو جاريته أنها أم ولده كما نص عليه الحاكم في الكافي. هذا، وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية، ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.
کما فی احسن الفتاوی (5/165)
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
29/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


