03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
برطانیہ میں رؤیتِ ہلال کے لیے بصری آلات اور ڈیجیٹل کیمرے کے استعمال کی شرعی حیثیت
87767روزے کا بیانرمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

برطانیہ میں رؤیتِ ہلال کے مسئلے پر عرصہ دراز سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ جدید سائنسی ترقی کے ساتھ، بعض لوگ دوربین (telescope/binoculars) یا ڈیجیٹل کیمروں کے ذریعے چاند دیکھنے کو جائز سمجھتے ہیں، جب کہ بعض اہل علم اس کے خلاف ہیں۔

پس منظر اور وضاحت:

١۔آپٹیکل ایڈز (بصری معاون آلات):

یہ وہ آلات ہیں جو آنکھ سے زیادہ طاقتور انداز میں اشیاء کو دکھاتے ہیں، جیسے telescope یا binocular۔ ان کی مدد سے انسانی آنکھ کو ہی چاند دکھائی دیتا ہے، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ تصویر واضح اور بڑی ہو جاتی ہے۔

۲۔یجیٹل کیمرہ:

ڈیجیٹل کیمرا چاند کی تصویر کو انسانی آنکھ کی بجائے ایک سینسر کے ذریعے ریکارڈ کرتا ہے، اور اسے سکرین پر ظاہر کرتا ہے۔ اس میں اصل رؤیت انسانی آنکھ کی نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈیجیٹل امیج کی ہوتی ہے، جو کئی صورتوں میں آنکھ سے پوشیدہ چاند کو بھی نمایاں کر دیتی ہے۔

بعض علماء کے مطابق:

آپٹیکل آلات کا استعمال جائز ہے کیونکہ یہ انسانی آنکھ کی مدد ہی سے چاند دیکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔لیکن ڈیجیٹل کیمرے کا استعمال اس لیے محل نظر ہے کہ وہ ایسی صورت میں بھی چاند کو دکھا سکتے ہیں جب آنکھ سے دیکھنا ممکن نہ ہو۔ماضی میں بعض فتاویٰ (مثلاً 1930ء کے جنوبی افریقہ کے علماء کا فتویٰ) دوربین کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔لہذا اگر کوئی شخص عینک یا دوربین کے عدسے سے چاند کو دیکھے تو وہ دیکھنا انسانی آنکھ ہی سے شمار ہو گا۔لیکن اگر چاند کی ڈیجیٹل تصویر سکرین پر دیکھی جائے تو یہ تصویر کا مشاہدہ ہو گا، نہ کہ خود چاند کا۔

لیکن بعض دیگرمعاصر علماء کا کہنا ہے کہ:

رؤیتِ ہلال میں "رؤیت" سے مراد براہِ راست انسانی آنکھ سے دیکھنا ہے، نہ کہ کسی ڈیجیٹل پروجیکشن یا تصویر کے ذریعے۔

ہم برطانیہ میں مقیم مسلمان اس مسئلے میں رہنمائی کے طالب ہیں، اس حوالے سےگزارش ہے کہ مفتیانِ کرام درج ذیل امور پر بصیرت افروز رہنمائی فرمائیں:

١۔کیا رؤیتِ ہلال کے لیے آپٹیکل ایڈز (جیسے یک چشمی یا دو چشمی دوربین) اور/یا ڈیجیٹل کیمروں کا استعمال شرعاً جائز ہے؟اور دوربین کے استعمال کی اجازت دینے والا پرانا فتویٰ (مثلاً 1930ء کا)اب بھی برقرارہے؟اوراگر دوربین کے استعمال کی اجازت دینے والا پرانا فتویٰ (مثلاً 1930ء کا) اب منسوخ یا ناقابلِ عمل سمجھا جاتا ہے، تو براہِ کرم اس کی شرعی و فنی وجوہات واضح فرمائیں۔

۲۔اگر وہ فتویٰ اب بھی قابلِ عمل اور مؤثر ہے، تو مختلف گروہوں میں موجودہ تضادات کے خاتمے اور اتحاد کے لیےکیا حکمتِ عملی اپناناچاہئے؟

۳۔اگر پرانے فتویٰ اور موجودہ عملی مشاہدات (مثلاً ڈیجیٹل آلات کے ذریعے رؤیت) میں فرق ہوتوتطبیق  کی کیاصورت ہوگی؟

۴۔اگر ڈیجیٹل کیمروں کا استعمال فقط معاون شہادت کے طور پر ہو (یعنی اصل گواہی انسانی آنکھ سے دیکھنے والوں کی ہو)، تو کیا یہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟

اختتامی گزارش:

ہم برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی طرف سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اس مسئلے پر ایک جامع، مدلل اور واضح فتویٰ صادر فرما کر ہماری دینی رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم رمضان، عیدین اور دیگر شرعی ایام کی تعیین میں یقین، اتحاد اور اعتماد کے ساتھ عمل کر سکیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١١۔ شرعاً وہ رؤیت معتبر ہے جس میں آنکھ براہِ راست چاند دیکھ رہی ہو۔ یک‌چشمی اور دوچشمی دوربین سے نظر آنے والا چاند آنکھ براہِ راست دیکھ رہی ہوتی ہے، اس لیے ایسی رؤیت کا شرعاً اعتبار ہے۔

کمپیوٹرائزڈ ٹیلی اسکوپ میں نظر آنے والے چاند کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ وہ براہِ راست دکھا رہی ہو، دوسری یہ کہ وہ عکس کو پہلے محفوظ کر لے، پھر ہم بعد میں دیکھیں۔ اگر ان آلات سے چاند براہِ راست (Live) نظر آ رہا ہے تو اس کا بھی شرعاً اعتبار ہو گا، اور اگر براہِ راست کے بجائے عکس دکھایا جا رہا ہو تو اس کا شرعاً اعتبار نہیں ہو گا۔

۲۔ سابقہ فتویٰ، جس میں ٹیلی اسکوپ کی رؤیت کے معتبر ہونے کا ذکر ہے، وہ اب بھی قابلِ عمل اور مؤثر ہے۔ اور مختلف گروہوں میں اس حوالے سے موجود اختلافات کو دور کرنے کے لیے یہ کیا جا سکتا ہے کہ تمام مکاتبِ فکر اور اداروں کے مستند علماء، جو فنِ فلکیات میں بھی دسترس رکھتے ہوں، اور دیندار فلکیات دان لوگوں پر مشتمل ایک لجنہ تشکیل دی جائے، اور وہ دُوسرے شریعہ اور فن کے ماہرین کی رائے کو سن کر کوئی قابلِ قبول اور قابلِ عمل متفقہ فیصلہ کریں۔

۳۔  پرانے فتوے اور موجودہ ڈیجیٹل آلات کے ذریعے رؤیت میں کوئی فرق نہیں، لہٰذا تطبیق کی ضرورت نہیں۔

۴۔  ڈیجیٹل کیمرے سے (Live) براہِ راست رؤیت معتبر ہے، اس کی تصاویر کا اعتبار نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ برطانیہ جیسے علاقوں میں، جہاں موسم اکثر ابر آلود ہوتا ہے، وہاں چاند دیکھنے کے لیے یک‌چشمی اور دوچشمی دوربین کا استعمال صحیح ہے،بشرطیکہ ان آلات کے ذریعے چاند براہِ راست (Live) انسانی آنکھ دیکھے۔ لہٰذا اگر عکس کو پہلے ٹیلی اسکوپ وغیرہ میں محفوظ کر لیاجائےاور بعد میں انسانی آنکھ اسے دیکھے تو اس رؤیت کا اعتبار نہیں ہو گا۔

حوالہ جات

وفی بدائع الصنائع :

"النظر من وراء الزجاج إلى الفرج محرم، بخلاف النظر في المرآة. ولو كانت في الماء فنظر فيه فرأى فرجما فيه ثبتت الحرمة، ولو كانت على الشط فنظر في الماء فرأى فرجها لا يحرم ، كان العلة والله أعلم أن المرئي في المرآة مثاله لا هو، وبهذا علموا الحنث فيما إذا حلف لا ينظر إلى وجه فلان فنظره في المرآة أو الماء، وعلى هذا فالتحريم به من وراء الزجاج بناء على نفوذ البصر منه فيرى نفس المرئي، بخلاف المرآة والماء. وهذا ينفي كون الإبصار من المرآة ومن الماء بواسطة انعكاس الأشعة وإلا لرآء بعينه بل بانطباع مثل الصورة فيها، بخلاف المرئي في الماء لأن البصر ينفذ فيه إذا كان صافيا فيرى نفس ما فيه، وإن كان لا يراه على الوجه الذي هو عليه، ولهذا كان له خيار إذا اشترى سمكة رآها في ماء بحيث تؤخذ منه بلا حيلة وتحقيق سبب اختلاف المرئي فيه في فن آخر."(کتاب النکاح، فصل فی بیان المحرمات ج نمبر س ص نمبر ۲۲۴، مكتبة ومطبعة مصطفلى البابي الحلبي)

وفی الدر المختار (3/ 34) :

لا) تحرم (المنظور إلى فرجها الداخل) إذا رآه (من مرآة أو ماء) لأن المرئي مثاله (بالانعكاس) لا هو.

وفی حاشیة ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 34) :

(قوله: إذا رآه) لا حاجة إليه لصحة تعلق الجار بقوله المنظور ط (قوله:؛ لأن المرئي مثاله إلخ) يشير إلى ما في الفتح من الفرق بين الرؤية من الزجاج والمرآة، وبين الرؤية في الماء، ومن الماء حيث قال: كأن العلة والله سبحانه وتعالى أعلم أن المرئي في المرآة مثاله لا هو وبهذا عللوا الحنث فيما إذا حلف لا ينظر إلى وجه فلان فنظره في المرأة أو الماء وعلى هذا فالتحريم به من وراء الزجاج، بناء على نفوذ البصر منه فيرى نفس المرئي بخلاف المرأة، ومن الماء، وهذا ينفي كون الإبصار من المرآة والماء بواسطة انعكاس الأشعة، وإلا لرآه بعينه بل بانطباع مثل الصورة فيهما، بخلاف المرئي في الماء؛ لأن البصر ينفذ فيه إذا كان صافيا فيرى نفس ما فيه، وإن كان لا يراه على الوجه الذي هو عليه، ولهذا كان له الخيار إذا اشترى سمكة رآها في ماء بحيث تؤخذ منه بلا حيلة. اهـ.

في "إمداد الفتاوى" ورد ما يلي:

السؤال: في هذا العام، رأى أحد الأشخاص هلال عيد الفطر في اليوم التاسع والعشرين من الشهر بواسطة المنظار (الدوربين)، فهل تُعتبر هذه الرؤية صحيحة ومعتبرة أم لا؟

الجواب: إن المنظار (الدوربين) لا يزيد إلا في قوة إبصار العين، فالرؤية تتم في الحقيقة بواسطة العين

نفسها، لذا فحكمه كحكم النظارة، وتصدق عليه الرؤية التي تُبنى عليها الأحكام الشرعية. ولذلك، فإن هذه الرؤية تُعد صحيحة ومعتبرة وتُبنى عليها الأحكام الشرعية. نعم، إن ثبت بأدلة فنية أن لهذا المنظار خاصية تجعل القمر يُرى من خلاله مع أنه لا يزال تحت الأفق، أو تُرى الشمس فيه مع أنها لم تطلع بعد من الأفق، ففي هذه الحالة لا تُعتبر الرؤية بالمنظار صحيحة ولا معتبرة. ولكن الواقع ليس كذلك، لذا فإن رؤية الهلال بواسطة المنظار كالرؤية بواسطة النظارة.(إمداد الفتاوى الجديدة، الجزء 4، صفحة 191)

قرار صادر عن مجلس هيئة كبار العلماء في المملكة العربية السعودية يتعلق بمسألة رؤية الهلال بواسطة المنظار. وقد صدر هذا القرار في الدورة الثانية والعشرين للمجلس، المنعقدة بمدينة الطائف، بتاريخ 2/11/1403هـ، تحت رقم (108نص القرار كما ورد:

"إذا رُئي الهلال بالمرصد رؤية حقيقية بواسطة المنظار تعيَّن العمل بهذه الرؤية، ولو لم يُرَ بالعين المجردة؛ وذلك لقول الله تعالى: ﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾، ولقول رسول الله ﷺ: «صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته...»، إذ يصدق أنه رُئِي الهلال، سواء أكانت الرؤية بالعين المجردة أم بها عن طريق المنظار، ولأن المثبت مقدم على النافي.

ویقول ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی فی فتاویہ علی الشبکة:

وأما استعمال ما يسمى (بالدربين) وهو المنظار المقرب في رؤية الهلال فلا بأس به ، ولكن ليس بواجب  لأن الظاهر من السنة أن الاعتماد على الرؤية المعتادة لا على غيرها . ولكن لو استعمل فرآه من يوثق به فإنه يعمل بهذه الرؤية . وقد كان الناس قديماً يستعملون ذلك لما كانوا يصعدون (المنائر) في ليلة الثلاثين من شعبان وليلة الثلاثين من رمضان فيتراءونه بواسطة هذا المنظار .على كل حال متى ثبتت رؤيته بأي وسيلة فإنه يجب العمل بمقتضى هذه الرؤية ، لعموم قول النبي صلى الله عليه وسلم : (إذا رأيتموه فصوموا ، وإذا رأيتموه فأفطروا)" انتهى .[1]ِ

 


[1] https://shamela.ws/book/21528/18

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

1/12/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب