| 87763 | خرید و فروخت کے احکام | خریدی ہوئی چیز میں خرابی )عیب( نکلنے کے متعلق احکام |
سوال
سوال یہ ہے کہ باغ خرید کر پھلوں کو کاٹن میں اس طرح رکھنا کہ نیچے خراب پھل اور اوپر صحیح پھل رکھے جائیں، اور پھر ان کاٹنوں کو منڈی بھیج دینا، کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟جبکہ منڈی میں نیلامی (بولی) کے وقت ایک شخص کی طرف سے بھیجے گئے کئی کاٹنوں میں سے صرف ایک کاٹن کھول کر دیکھا جاتا ہے کہ اس میں اوپر اور نیچے کیسے پھل رکھے گئےہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ایسا خراب پھل جو تاجروں اور دکانداروں کے نزدیک عیب دار شمار ہوتا ہو، اُسے بغیر بتائے گاہک کو فروخت کرنا یا اسےچھپا کر صحیح پھلوں میں ملا کر بیچنا دھوکہ دہی ہے، اور شریعت میں ایسا کرنا ناجائز ہے ۔اس سے حاصل شدہ آمدنی کا استعمال اس کے لیے جائز نہیں اور اس پر لازم ہے کہ گاہک کو رقم واپس کر کے اپنا پھل لے لے۔ اگر پھل موجود نہ ہو تو عیب کے سبب گاہک کو جو نقصان ہوا ہے وہ واپس کرےاور واپسی بھی ممکن نہ ہو تو اس کی طرف سے وہ رقم صدقہ کریں ۔ البتہ اگر پھل میں معمولی سی خرابی ہو جو عرف میں عیب شمار نہ ہوتی ہو، تو اس کا حکم عام اشیاء کی طرح ہوگا، یعنی گاہگ کو بتانا ضروری نہیں ہوگا۔
حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی عیب دار چیز کسی کو فروخت کی اور خریدار پر اس کا عیب ظاہر نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ غضب رہے گا، اور فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔
حوالہ جات
سنن ابن ماجه (2/ 755):
(2246)عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ۔
(2247)عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُبَيِّنْهُ، لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللَّهِ، وَلَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ۔
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 47):
«لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام إلا في مسألتين.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 47):
«قلت: وفيه نظر؛ لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة… بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة كما في شرب المسكر»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 38):
«والحاصل: أنه لو وجد العيب قبل قبض شيء من المبيع أو بعد قبض البعض فقط فليس له رد المعيب وحده بلا رضا البائع، وكذا لو بعد قبض الكل إلا إذا كان متعددا غير متحد حكما كثوبين وطعام في وعاءين على ما ذكرنا، بخلاف ما لو كان في وعاء واحد فإنه بمنزلة المبيع الواحد وهذا ظاهر لو كان الطعام كله باقيا، فلو باع بعضه أو أكل بعضه فقدمنا في هذا الباب أن المفتى به قول محمد أن له أن يرد الباقي ويرجع بنقصان ما أكل لا ما باع۔
«البناية شرح الهداية» (8/ 116):
(وعنهما) ش: أي وعن أبي يوسف ومحمد -رحمهما الله- م: (أنه يرد ما بقي؛ لأنه لا يضره التبعيض) ش: فهو قادر على الرد في البعض كما قبضه ويرجع بنقصان العيب فيما أكله، وفي " المجتبى ": أكل بعضه يرجع بنقصان عيبه ويرد ما بقي، وبه يفتى.
جمیل الرحمن
دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
/3 ذی الحجۃٰ /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


