03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چاندی کے نصاب کو معیار بنانے کی وجہ
87730قربانی کا بیانوجوب قربانی کانصاب

سوال

سوال یہ ہے کہ سونے اور چاندی کے موجودہ نصاب کے درمیان قیمت کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہے، اور چاندی کو معیارِ نصاب بنانے سے اکثر لوگوں کو شدید حرج کا سامنا ہوتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ سونے کو نصاب کے لیے معیار کیوں نہیں بنایا جاتا؟
الیاس گھمن صاحب نے بھی قربانی کے مسائل میں اسی طرف ترجیح دی ہے کہ سونے کو معیار بنایا جائے، کیونکہ عہدِ نبوی میں دونوں کے درمیان جو  تناسب تھا، اب وہ تناسب باقی نہیں رہا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوٰۃ اور قربانی کی نصاب  کے سلسلے میں احتیاط اسی میں ہے کہ اموال  کی قیمت لگانے میں سونےاور چاندی میں سے اس کو معیار ٹھہرایا جائے جس سے نصاب مکمل ہوتا ہو، کیوں کہ عبادات، معاملات سے زیادہ احتیاط کے متقاضی ہوتے ہیں اور  ’’أنفع للفقراء‘‘والی روایت میں احتیاط ہے، لہٰذا اسی پر فتویٰ دیا جائے گا۔

چاندی کا نصاب  ساڑھے باون تولہ ہے، اگر کسی شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی ہو تو وہ شریعت کی نظر میں مالدار ہے۔ اب اگر اس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا مالِ تجارت ہو یا اتنی مالیت کی نقدی (کرنسی)ہو تو اُسے مالدار شمار نہ کرنا خلافِ شروع ہے۔اور آج کل ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تقریبا ایک لاکھ اسّی ہزار(180000) ہے ۔ لہذا یہ ضروری نہیں کہ جس شخص کے پاس  ایک لاکھ  اسّی ہزار(180000)  روپے ہو وہ اس بات پر مجبو ر ہو کہ آدھی رقم سے قربانی کرے، ، بلکہ وہ گائے میں حصہ دار بن کر بھی یہ واجب ادا کرسکتا ہے۔  شمالی علاقہ جات میں بعض مقامات پر  گائے کے ایک حصہ کی قیمت 10سے 12 ہزار  روپے  ہے ۔ لہذا  جس شخص کےپاس ضرورت سے زیادہ  اتنا مال ہو  جن کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی   کے برابر بنتی ہو تو  اس کےلیے قربانی کرنے  میں کوئی حرج نہیں ۔

اورسونے کا نصاب آج کل تقریباً   چھبیس لاکھ بیس ہزار(2620000)بنتا ہے، جو بہت زیادہ ہے، اگر اُسے معیار بنایا گیا تو بہت سے ان لوگوں پر زکاۃ و  قربانی واجب نہیں ہوگی جوزکاۃ و  قربانی کی وسیع قدرت رکھتے ہیں، یوں یہ عبادات  صرف بہت زیادہ امیر لوگوں پر ہی واجب ہو کر رہ جائیں گی۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 312):

«وشرعا (ذبح حيوان مخصوص بنية القربة في وقت مخصوص. وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر۔۔۔قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه.

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (1/ 279):

«قال رحمه الله (وفي عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) يعني في عروض التجارة يجب ربع العشر إذا بلغت قيمتها من الذهب أو الفضة نصابا ويعتبر فيهما الأنفع أيهما كان أنفع للمساكين وهو معطوف على قوله في أول الباب في مائتي درهم وعشرين دينارا ربع العشر واعتبار ‌الأنفع ‌مذهب أبي حنيفة ومعناه يقوم بما يبلغ نصابا إن كان يبلغ بأحدهما ولا يبلغ بالآخر احتياطا لحق الفقراء»

  جمیل الرحمن

 دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

/3  ذی الحجۃ /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمن بن عبدالودود

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب