03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیجیٹل تصویر کا  حکم
87748جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

موبائل یا کیمرے سے تصویر بنانا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈیجیٹل تصویر کےے بارے میں علمائےکرام کاا ختلاف ہے،جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1. ڈیجیٹل تصویر اصل میں آئینہ میں دکھائی دینے والے عکس کی مانند ہے۔ناجائز تصویر کے حکم میں داخل نہیں ہے،لہٰذا جس  چیز کا عکس دیکھنا جائز ہے اس کی تصویر یا ویڈیو بھی جائز ہےاور جس کا عکس دیکھنا جائز نہیں اس کی تصویر یا ویڈیو بھی جائز نہیں ہے۔
  2. ڈیجیٹل تصویر عام پرنٹ  کی گئی تصویر کے حکم میں ہے،لہٰذاصرف ضرورت کے وقت جائز ہے۔
  3. ڈیجیٹل تصویر کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں چونکہ ایک سے زائد فقہی آراء موجود ہیں۔اس لئے صرف شرعی ضرورت اور معتبر دینی یا دنیوی مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی تصویر اور ویڈیوبنانے کی گنجائش ہے جن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلاً عریانیت،موسیقی یا غیر محرم کی تصاویر وغیرہ نہ ہوں۔

یہی تیسرا موقف ہمارے دار الافتاء کا ہے۔)ماخوذ از تبویب: 79465)

حوالہ جات

تكملة فتح الملهم (4/96) :

أما الصور الشمسيةالتي تسمي الصور الفوتو غرافية،فھل لھا حكم الصور المرسو مة أو لا ؟ اختلف فيه المعاصرون.وقد ألف العلامةالشيخ محمد بخيت مفتي مصري رحمه اللہ رسالةبإسم "الجواب الشافي في إباحةالتصوير الفوتو غرافي"ذھب فيها إلى أن الصورة بالفوتو غرافيا:الذي هو عبارة عن حبس الظل بالوسائط المعلومةلإرباب ھذه الصناعة،ليس من التصوير المنھي عنه.

الجواب  الکافي في إباحۃ التصویر الفوتوغرافي( 23) :

و علی کل حال فأخذ الصورۃ بالفوتغرافیا  الذی ھو عبارۃ عن حبس الظل بالوسائط  المعلومۃ لأرباب ھذہ الصناعۃ،  لیس من التصویر المنہي عنہ في شيء ؛لأن التصویر المنہي عنہ ھو إیجاد صورۃ و صنع صورۃ  لم تکن موجودۃ  و لا مصنوعۃ من قبل ،یضاھي بھا  حیوانا خلقہ اللہ تعالی.

فتاوی معاصرۃ(1/740):

فھذہ العملیۃ ،عملیۃ  حبس الظل  أو عکسہ ، لیس کما یفعل النحات أو الرسام ، و لذا فھو لا یدخل في الحرمۃ و إنما ھو مباح .  ھذا التصویر کما ذکرت  (التصویر بالکامیرا )لا شيء فیہ ،بشرط أن تکون الصورۃ نفسھا التي یلتقطھا أو یعکسھا  حلالافلا  یصور امرأۃ عاریۃ أو شبہ عاریۃ أو مناظر لا تجوز شرعا 

       ارسلان نصیر

  دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

   04 /ذی الحج/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب