03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اے آئی (AI)کے ذریعے عورت کی تصویر  بنانے کا حکم
87749جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

اے آئی کے ذریعے فی میل(عورت) کی تصویر بنانا اور اس کو سوشل میڈیا وغیرہ پر اپلوڈ کرنا کیسا ہے ،جبکہ حقیقت میں اسکا وجودنہیں ہے بلکہ صرف تصوراتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح ہو کہ جاندار کی جن تصاویر کو خارج میں دیکھنے کی اجازت ہے، اگر ان کی تصاویر صرف اسکرین کی حد تک محدود ہوں اور  ان کو باقاعدہ پرنٹ نہ کیا جائے تو ایسی تصاویر کو اے آئی(AI)کے ذریعہ بنانا اور اسے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنا جائز ہوگا، البتہ عورت کی تصویر کو اے آئی(AI) کے ذریعہ بنانا اور اس کو اکاؤنٹ پر اپلوڈ کرنا جائز نہیں ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

تكملة فتح الملهم (4 / 162):

أما التلفزون و الفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعۃ والمجون ، والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات ، و ما الی ذلک من اسباب الفسوق ،ولکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا ، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا؟ فان لھذا العبد الضعیف ۔عفااللہ عنہ۔ فیہ وقفۃ : وذلک لان الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیء ،وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادہ ،أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار و ليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فانها بالظل اشبه منها بالصورة و يبدوا أنَّ صورة التلفزون و الفديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل.

       ارسلان نصیر

  دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

   04 /ذی الحج/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب