| 87788 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
31 اکتوبر 2019 کو تبلیغی اجتماع کے لیے رائیونڈ جاتے ہوئے تیزگام ایکسپریس میں آگ لگنے کے المناک واقعے میں میرے دو جوان بیٹے شہید ہو گئے۔ ان میں سے ایک 26 سالہ حافظِ قرآن عدیل اقبال ولد محمود اقبال تھا، جس کی بیوی اُس وقت سات ماہ کی حاملہ تھی۔عدیل اقبال شہید کی بیوہ نے عدت پوری نہ کی، بلکہ صرف چار دن بعد اپنے والدین کے ہمراہ لاہور چلی گئی۔ ہم نے اُسے بہت سمجھایا کہ ایسا مت کرو، یہ تمہارے شوہر کا تم پر آخری حق ہے، بروزِ قیامت وہ تمہیں گریبان سے پکڑے گا۔ ہم نے کہا کہ جب دو یا ڈھائی ماہ بعد بچے کی ولادت ہو جائے گی تو تمہاری عدت بھی مکمل ہو جائے گی۔ اس کے بعد اگر لاہور جانا چاہو تو ہم خود تمہیں چھوڑ آئیں گے۔ پھر تم اپنی مرضی سے آتے جاتے رہنا، لیکن وہ بضد رہی۔ اس کی ساس نے بھی ساری رات اُسے سمجھایا، منتیں کیں لیکن وہ نہ مانی اور لاہور چلی گئی۔
سانحۂ تیزگام کے دو ماہ اور اٹھارہ دن بعد یعنی 18 جنوری 2020 کو بیٹا پیدا ہوا ۔ اب وہ شہید کا بیٹا پانچ سال اور دو ماہ کا ہو چکا ہے، اور اس کی ماں نے 14 فروری 2024 کو کسی اور شخص سے نکاح کر لیا ہے۔ اب وہ بچہ کبھی اپنی ماں کے پاس ہوتا ہے، کبھی نانا نانی کے پاس، جبکہ جن کا خون ہے یعنی اس کے دادا دادی، اُن سے اُس بچے کو دور رکھا جا رہا ہے۔برائے کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس بچے کی پرورش کا حق نانا نانی کو حاصل ہے یا دادا دادی کو؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عدّت کے دوران مرحوم کی بیوی کا شوہر کے گھر سے نکلنا شرعاً ممنوع ہے۔ اس پر لازم تھا کہ وہ بچے کی پیدائش تک عدّت کے دن شوہر کے گھر میں ہی گزارتی، لہذا اس شرعی حکم کی خلاف ورزی پر ان کے لئے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔
باقی حق پرورش سے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ سات سال تک بچے کی پرورش کا حق ماں کو ہے، بشرطیکہ ماں نے بچے کے کسی نامحرم سے نکا ح نہ کیا ہو ۔ اگر ماں نے ایسا نکاح کرلیا ہو تو نکاح سے عورت کا حقِ پرورش ساقط ہو جاتا ہے اور یہ حق نانی کومنتقل ہوجاتا ہے ،اگروہ نہ ہویا اس پرورش پر راضی نہ ہو تو پھر دادی، پھر بہن، پھر خالہ اور پھر پھوپھی کوحق پرورش حاصل ہو تا ہے،پرورش کے حق میں اس ترتیب کا لحاظ ضروری ہے۔لہٰذا جب بچے کی ماں نے کسی نامحرم مرد سے نکاح کرلیا ہے تو بچے کی پرورش کا حق نانی کو اس وقت تک حاصل ہے کہ وہ لڑکا استغناء یعنی خود کھانے پینے،لباس پہننے اور طہارت واستنجاء کے قابل ہو جائے،اوریہ عموما سات سال کی عمر تک ہوتا ہے۔
اس کےبعد عورتوں کا یہ حق ختم ہو کر والد کو حاصل ہوجاتا ہے، کیونکہ اس عمر میں بچے کو تربیت، اخلاق، علم اور مردانہ کردار سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ والد بہتر طریقے سے انجام دےسکتا ہے۔اگر والد موجود نہ ہوتو پرورش کا حق مردوں میں سے قریبی نسبی رشتہ داروں کو حاصل ہوتا ہے ، جنہیں "عَصَبہ" کہا جاتا ہے ۔ ان عصبہ میں ترتیب یہ ہوتی ہےکہ والد کے بعد سب سے پہلے دادا، پھر سگا بھائی، پھر باپ شریک بھائی، پھر سگا چچا، پھر باپ کی طرف سے چچا، پھر چچازاد بھائی (جو باپ اور ماں دونوں کی طرف سے ہو)، اور پھروہ چچازاد بھائی جو صرف باپ کی طرف سے ہو۔ لہذامسئولہ صورت میں حق پرورش تو سات سال تک نانی کے پاس ہے البتہ اگر دادا دادی اور رشتہ دار وغیرہ بچے سے ملنا چاہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ مناسب وقفے سے بچے سے ملاقات کروائیں ملاقات سے نہ روکیں ۔
حوالہ جات
شرح مختصر الطحاوي» للجصاص (5/ 327):
قال: وإذا استغنى الغلام أو الجارية، وخرجا من الحضانة: فالأب أحق بهما بغير تخيير للغلام والجارية؛وذلك لأنه لا قول لهما في حال الصغر، واختيارهما كلا اختيار، ألا ترى أنهما لا قول لهما في سائر الأحكام، فكذلك في اختيار أحد الأبوين.
ترتيب الأحق بالحضانة ،قال أبو جعفر: ثم الجدة التي من قبل الأم، ثم الجدة من قبل الأب، ثم الأخت من الأب والأم، ثم الأخت من قبل الأم، ثم الخالة، ثم الأخت من الأب، ثم العمة.قال أبو بكر: وروى بشر بن الوليد عن أبي يوسف عن أبي حنيفة: أن الأخت من الأب أولى من الخالة، وهو أيضًا قول زفر.ووجهه: أنها أقرب إلى الصبي من الخالة.والأصل في هذه المسائل: أن الأم لما كانت أولى بولاية الحضانة من الأب، وجب أن يكون من كان جهة الأم أقرب إلى الصبي، فهو أولى بالولاية منه، فكانت الجدة من قبل الأم أولى من الجدة من قبل الأب، لأن لها ولادًا من جهة الأم، فكانت أولى. وقال النبي الله عليه وسلم للأم: "أنت أحق به ما لم تزوجي"، يعني: بالولد الصغير.
تحفة الفقهاء» (2/ 230):
فَأَما الْجَارِيَة فَهِيَ أَحَق بهَا حَتَّى تحيض ،وَالْقِيَاس أَن يكون لَهُنَّ حق الْحَضَانَة فِي الْغُلَام إِلَى وَقت الْبلُوغ لحَاجَة الصغار إِلَى التربية فِي الْجُمْلَة إِلَى وَقت الْبلُوغ إِلَّا أَنا استحسنا فِي الْغُلَام لِأَنَّهُ يحْتَاج إِلَى التَّأْدِيب وَالْأَب أقدر،ثمَّ عندنَا لَيْسَ للصَّغِير الْعَاقِل اخْتِيَار أحد الْأَبَوَيْنِ فِي الْحَضَانَة.وَعَن الشَّافِعِي يُخَيّر الصَّبِي .وَالصَّحِيح قَوْلنَا: لِأَنَّهُ لَا يعرف الأنظر مِنْهُمَا وَأما من لَا أَوْلَاد لَهَا من النِّسَاء فَلَا حق لَهُنَّ فِي الْجَارِيَة والغلام بعد الِاسْتِغْنَاء بأنفسهما فِيمَا ذكرنَا»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (4/ 42):
وأما وقت الحضانة التي من قبل النساء فالأم والجدتان أحق بالغلام حتى يستغني عنهن فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده كذا ذكر في ظاهر الرواية، وذكر أبو داود بن رشيد عن محمد ويتوضأ وحده يريد به الاستنجاء أي ويستنجي وحده ولم يقدر في ذلك تقديرا وذكر الخصاف سبع سنين أو ثمان سنين أو نحو ذلك.وأما الجارية فهي أحق بها حتى تحيض كذا ذكر في ظاهر الرواية وحكى هشام عن محمد حتى تبلغ أو تشتهي.وإنما اختلف حكم الغلام والجارية؛ لأن القياس أن تتوقت الحضانة بالبلوغ في الغلام والجارية جميعا؛ لأنها ضرب ولاية ولأنها ثبتت للأم فلا تنتهي إلا بالبلوغ كولاية الأب في المال إلا أنا تركنا القياس في الغلام بإجماع الصحابة رضي الله عنهم لما روينا أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه قضى بعاصم بن عمر لأمه ما لم يشب عاصم أو تتزوج أمه وكان ذلك بمحضر من الصحابة رضي الله عنهم ولم ينكر عليه أحد من الصحابة فتركنا القياس في الغلام بإجماع الصحابة رضي الله عنهم فبقي الحكم في الجارية على أصل القياس؛ ولأن الغلام إذا استغنى يحتاج إلى التأديب والتخلق بأخلاق الرجال وتحصيل أنواع الفضائل واكتساب أسباب العلوم والأب على ذلك أقوم وأقدر مع ما أنه لو ترك في يدها لتخلق بأخلاق النساء وتعود بشمائلهن وفيه ضرر، وهذا المعنى لا يوجد في الجارية فتترك في يد الأم بل تمس الحاجة إلى الترك في يدها إلىوقت البلوغ لحاجتها إلى تعلم آداب النساء والتخلق بأخلاقهن وخدمة البيت ولا يحصل ذلك إلا وأن تكون عند الأم ثم بعد ما حاضت أو بلغت عند الأم حد الشهوة؛ تقع الحاجة إلى حمايتها وصيانتها وحفظها عمن يطمع فيها لكونها لحما على وضم فلا بد ممن يذب عنها والرجال على ذلك أقدر.
وفی الدر المختار مع رد المحتار ،ج:۳،ص: ۵۶۵:
والحاضنۃ یسط حقھا بنکاح غیر محرمہ أی الصغیر ۔۔۔۔الخ۔
فی الھندیۃ کتاب الطلاق الباب السادس عشر فی الحضانۃ ،ج:۱،ص:۵۴۱ :
وان لم یکن لہ أم تستحق الحضانۃ بأن کانت غیر أھل للحضانۃ أو متزوجۃ بغیر محرم أو ماتت فأم الأم أولیٰ من کل واحدۃ وان علت ۔۔۔۔الخ۔ وفی تنویر الابصار مع الدر المختار ، ج:۳،ص:۵۶۲،۵۶۳ (طبع سعید)
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
28/ذی الحج /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


