| 87741 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
قربانی کے جانور میں اگر کسی عضو مثلاً کان، دم، زبان، آنکھ وغیرہ کا کچھ حصہ کٹا ہو یا عیب دار ہو،تو کس حد تک عیب قربانی سے مانع ہوتا ہے؟اس بارے میں فقہ حنفی کی معتبر کتب میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے چار مختلف اقوال منقول ہیں، جیسا کہ امام سرخسی رحمہ اللہ نے المبسوط میں تفصیل سے ذکر فرمایا ہے:
قول اول بروایت امام محمد رحمہ اللہ: اگر کسی عضو کا ایک تہائی یا اس سے کم حصہ کٹا ہو تو قربانی جائز ہے، اور اگر ایک تہائی سے زیادہ ہو تو ناجائز۔
قول ثانی بروایت بشر رحمہ اللہ :اگر ایک تہائی یا اس سے زیادہ حصہ کٹا ہو تو قربانی ناجائز، ورنہ جائز۔
قول ثالث بروایت ابن شجاع رحمہ اللہ :اگر ایک چوتھائی یا اس سے زیادہ حصہ کٹا ہو تو قربانی ناجائز۔
قول رابع بروایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ :اگر نصف یا اس سے زیادہ حصہ کٹا ہو تو قربانی ناجائز، ورنہ جائز۔مختلف کتبِ فقہ و فتاویٰ میں مختلف اقوال کو راجح قرار دیا گیا ہے،فتاویٰ عالمگیری اور قاضی خان وغیرہ میں امام محمد رحمہ اللہ کی روایت یعنی قول اول کو راجح قرار دے کر اسی پر فتویٰ دیا گیا ہے،جبکہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول یعنی قول رابع کو راجح قرار دیا ہے،البتہ اردو فتاویٰ جیسے فتاویٰ رحیمیہ، فتاویٰ حقانیہ، بہشتی زیور، آپ کے مسائل اور ان کا حل اور جواہر الفقہ وغیرہ میں بیشتر طور پر قول ثانی بروایت بشرکو اختیار کیا گیا ہے، یعنی اگر ایک تہائی یا اس سے زیادہ حصہ کٹا ہو تو قربانی ناجائز ہے، ورنہ جائز۔
اب ان اختلافات کی روشنی میں درج ذیل امور وضاحت طلب ہیں:امام صاحب رحمہ اللہ سے منقول ان چاروں اقوال میں سے راجح اور مفتیٰ بہ قول کون سا ہے؟
اگر فتویٰ قول ثانی بروایت بشر پر ہو، جیسا کہ اردو فتاویٰ میں زیادہ تر اختیار کیا گیا ہے تو اس قول کو دیگر اقوال خصوصاً قول اول جو ظاہر روایت ہےاور قول رابع جس کو شامی رحمہ اللہ نے راجح قرار دیا پر ترجیح دینے کی فقہی بنیاد کیا ہے؟کیا کسی جانور کے کان، دم یا آنکھ کا ایک تہائی حصہ کٹ جانے کی حالت میں قربانی کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟براہ کرم قرآن، حدیث اور فقہ حنفی کی مستند کتب مثلاً الفتاویٰ الهندیة، الدر المختار، رد المحتار، البدائع، الجامع الصغير، المبسوط وغیرہ کے حوالہ سے اس مسئلہ کی مکمل وضاحت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قربانی کے جانور کے کسی عضو جیسے کان، دم، آنکھ وغیرہ کے کٹے ہونے کی صورت میں فقہ حنفی میں امام اعظم ابو حنیفہؒ سے مذکورہ چار اقوال منقول ہیں۔ ان میں سے راجح اور مفتی بہ قول چوتھا ہے، جس کے مطابق اگر کسی عضو کا نصف یا اس سے زیادہ حصہ کٹ گیا ہو تو ایسی حالت میں قربانی جائز نہیں اور اگر آدھےحصےسے کم حصہ کٹا ہو تو قربانی جائز ہے۔اس قول کو علامہ ابن عابدینؒ نے بھی راجح قرار دیا ہے، اور امام ابو یوسفؒ و امام محمدؒ دونوں کا بھی یہی موقف ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امام اعظمؒ نے بھی اسی قول کی طرف رجوع فرمایا۔اس قول کو ترجیح دینے کی فقہی بنیاد یہ ہے کہ شریعت کے دیگر مسائل میں بھی اکثر یعنی زیادہ حصہ کو ہی اصل قرار دیا گیا ہے۔( مستفاد از قربانی کے مسائل تحریر حضرت مفتی محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ )
یہاں بھی اصول یہی ہے کہ للأكثر حكم الكل یعنی کسی چیز کا اکثر حصہ باقی ہو تو اسے پوری چیز کے قائم مقام سمجھا جاتا ہے۔لہٰذا اگر کسی جانور کا کان، دم یا کوئی اور عضو آدھایااسے زیادہ کٹ گیا ہو تو اس جانور کی قربانی جائز نہیں، اور اگر آدھے سے کم حصے کا نقصان ہو تو قربانی جائز ہے۔یہی بات فقہاء کی بڑی تعداد نے بھی اختیار کی ہے، جبکہ معمولی عیب مثلاً تھوڑا سا کٹا ہونا چونکہ جانوروں میں عام ہوتا ہے اور اس سے بچنا مشکل ہے، اس لیے اسے معاف کہا گیا ہے۔اسی موقف کو علامہ شامیؒ کے علاوہ دیگر متقدمین و متأخرین فقہاء نے بھی پسند فرمایا ہے اور فقیہ ابو اللیثؒ نے بھی یہ موقف اختیار کیا ہے ، نیز فقہ کی معتبر متون جیسے الہدایۃ ،کنزالدقائق ، ملتقی الابحر اورفتاوی ہندیہ وغیرہ میں اسی پر فتویٰ دیا گیا ہے۔
البتہ یہ واضح رہے کہ شامی کی عبارت سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ قربانی ایسی جانور کی جائز ہے ،لیکن خلاف اولی ہے یعنی مکروہ تنزیہی ہے ، بہتر یہ ہے کہ جانور ایسے عیوب سے بھی خالی ہو ۔
قول ثانی براویت بشر جس کو اردو فتاوی میں زیادہ تر اختیار کیا گیا ہے، اس کی وجہ حضرت سعد ابن ابی وقاص کی روایت ہے جس میں حضور نے فرمایا : الثلث و الثلث کثیر، یہاں پر ثلث کو کثیر سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی دم اور کان اگر ثلث یا اس سے زیادہ کٹاہو تو کثیر شمار ہو گا اور اس کی قربانی ناجائز ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ عبادات سے متعلق ہے اور عبادات میں احتیاط برتنا زیادہ بہتر ہے، اسی بنا پر بعض علماء نے کہا ہے کہ اگرچہ فتویٰ چوتھے قول پر ہے تاہم دوسرے قول پر عمل کرنا احتیاطاً مستحب ہے ۔
نوٹ :جب علماء کے درمیان جائز امور میں اختلاف ہو اور سب اقوال شریعت کی روشنی میں معتبر ہوں، تو آپ کو اختیار ہے کہ جس عالم یا دارالافتاء پر آپ کو اعتماد زیادہ ہو، اس کے قول پر اطمینان سے عمل کریں۔
حوالہ جات
(حاشية ابن عابدين، 6/324):
وفي البزازية: وظاهر مذهبهما أن النصف كثير 1هـ. وفي غاية البيان: ووجه الرواية الرابعة ،وهي قولهما ،وإليها رجع الإمام ،أن الكثير من كل شيء أكثره، وفي النصف تعارض الجانبان 1هـ .أي:فقال بعدم الجواز احتياطا (بدائع). وبه ظهر أن ما في المتن كـالهداية والكنز والملتقى هو الرابعة، وعليها الفتوى، كما يذكره الشارح عن المجتبى. وكأنهم اختاروها؛ لأن المتبادر من قول الإمام السابق هو الرجوع عما هو ظاهر الرواية عنه إلى قولهما، والله تعالى أعلم.
العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي» (9/ 514):
قال: (ولا يضحي بالعمياء والعوراء والعرجاء التي لا تمشي إلى المنسك ولا العجفاء) لقوله عليه الصلاة والسلام: لا تجزئ في الضحايا أربعة: العوراء البين عورها والعرجاء البين عرجها والمريضة البين مرضها، والعجفاء التي لا تنقي قال (ولا تجزئ مقطوعة الأذن والذنب). أما الأذن فلقوله عليه الصلاة والسلام :استشرفوا العين والأذن أي: اطلبوا سلامتهما. وأما الذنب فلأنه عضو كامل مقصود فصار كالأذن. قال :(ولا التي ذهب أكثر أذنها وذنبها، وإن بقي أكثر الأذن والذنب جاز)؛لأن للأكثر حكم الكل بقاء وذهابا .ولأن العيب اليسير لا يمكن التحرز عنه فجعل عفوا. وقال أبو يوسف ومحمد: إذا بقي الأكثر من النصف أجزأه اعتبارا للحقيقة على ما تقدم في الصلاة وهو اختيار الفقيه أبي الليث.
[شرح العناية، على الهداية]:
وقال أبو يوسف: أخبرت بقولي أبا حنيفة، فقال :قولي هو قولك. قيل :هو رجوع منه إلى قول أبي يوسف، وقيل: معناه قولي قريب من قولك. وفي كون النصف مانعا روايتان عنهما كما في انكشاف العضو عن أبي يوسف، ثم معرفة المقدار في غير العين متيسر، وفي العين قالوا: تشد العين المعيبة بعد أن لا تعتلف الشاة يوما أو يومين ثم يقرب العلف إليها قليلا قليلا، فإذا رأته من موضع أعلم على ذلك المكان ثم تشد عينها الصحيحة وقرب إليها العلف قليلا قليلا حتى إذا رأته من مكان أعلم عليه. ثم ينظر إلى تفاوت ما بينهما، فإن كان ثلثا فالذاهب الثلث، وإن كان نصفا فالنصف.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 323):
ويضحي بالجماء والخصي والثولاء) أي: المجنونة (إذا لم يمنعها من السوم والرعي) (، وإن منعها لاتجوز التضحية بها .(والجرباء السمينة) فلو مهزولة لم يجز، لأن الجرب في اللحم نقص.(لا) (بالعمياء والعوراء والعجفاء) المهزولة التي لا مخ في عظامها، (والعرجاء التي لا تمشي إلى المنسك) أي :المذبح، والمريضة البين مرضها (ومقطوع أكثر الأذن أو الذنب أو العين) أي :التي ذهب أكثر نور عينها فأطلق القطع على الذهاب مجازا، وإنما يعرف بتقريب العلف (أو أكثر الألية) ؛لأن للأكثر حكم الكل بقاء وذهابا فيكفي بقاء الأكثر، وعليه الفتوى مجتبى.
) الهداية 85/6 ):
وقال أبو يوسف ومحمد :إذا بقى الأكثر من النصف أجزأه اعتبارا للحقيقة ،علي ماتقدم في الصلاة وهو اختيار فقيه أبي الليث ،وإليه رجع الإمام ، وعليه الفتوي؛ لأن الكثير من كل شيء أكثره.
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
3/ذی الحج/6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


