| 87758 | حج کے احکام ومسائل | احرام اور اس کے ممنوعات کا بیان |
سوال
عرض یہ ہے کہ حالتِ احرام میں خوشبو کے استعمال کی ممانعت معلوم ہے، تاہم ایک عملی مسئلہ درپیش ہے جو عام طور پر مشروبات اور دوائیوں کے استعمال سے متعلق ہے۔ اس بارے میں درج ذیل امور پر راہنمائی درکار ہے:
(1) فلیور اور ایسنس والے مشروبات کا استعمال:
احرام کی حالت میں بعض مشروبات مثلاً ORS پاوڈر، فلیور شربت، یا دیگر فلیورنگ ایجنٹس ملے مشروبات استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ان میں شامل "flavor essence" عام طور پر ذائقہ کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ خوشبو کے لیےلیکن اکثر فتاویٰ میں flavor اور fragrance کے درمیان فرق نہیں کیا جاتا، اور دونوں کو "خوشبو" کے زمرے میں شمار کر لیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا مقصد اور استعمال مختلف ہوتا ہے،لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا حالتِ احرام میں ایسی فلیورڈ چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں؟ جن کا مقصد صرف ذائقہ دینا ہو، خوشبو لینا نہ ہو۔کیا اس حوالے سے "flavor essence" اور "fragrance" خوشبو کے درمیان شرعی لحاظ سے کوئی اصولی فرق موجود ہے؟ اگر ہے تو براہ کرم وہ فرق واضح فرما دیں تاکہ اس کے مطابق عمل کیا جا سکے، خصوصاً جب یہ چیزیں مشروبات میں شامل ہوں۔
(2) دوا میں خوشبو کی آمیزش:
بعض دوائیں، مرہم یا پاؤڈر میں معمولی خوشبو شامل ہوتی ہے، مگر اس کا استعمال علاج یا طبی ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے، نہ کہ خوشبو کے طور پر۔ایسے میں سوال ہے کہ کیا حالتِ احرام میں ایسی دوا یا مرہم یا پاؤڈر استعمال کرنا جائز ہے؟جس میں خوشبو ہو، مگر وہ خوشبو غالب نہ ہو اور صرف علاج کی نیت سے استعمال ہو رہی ہو۔اس بارے میں شرعی اصول کیا ہیں؟ کیا "خوشبو مغلوب ہونے" کی بنیاد پر اس کا استعمال جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟مندرجہ بالا امور کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ایسے مشروبات، دوائیں یا مرہم جن میں "flavor" یا "معمولی خوشبو" شامل ہو، ان کا استعمال حالتِ احرام میں شرعاً جائز ہے یا نہیں؟نیز flavor اور fragrance میں فرق کرنے کا شرعی معیار کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
احرام کی حالت میں خوشبو کا استعمال
احرام کی حالت میں جو خوشبو(Fragrance) کا استعمال منع ہے، اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس میں اچھی بو آتی ہو،اس کو خوشبو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہواور اس سے خوشبو تیار کی جاتی ہو،اور اہل عقل اس کو خوشبو شمار کرتے ہوں،جیسے مشک،کافور،صندل،عنبر،گلاب وغیرہ(معلم الحجاج،ص:۲۳۲)
خوشبو ملی ہوئی اشیائے خور و نوش کا حکم
حالت احرام میں ایسی چیزوں کا کھانا پینا ،جن میں کوئی خوشبو دار چیز ملی ہوئی ہو،کے حوالے سے شرعی احکامات کی تفصیل درج ذیل ہے؛
خوشبو ملی ہوئی کھانے کی اشیاء
(1)اگر کسی کھانے میں زعفران، الائچی، کیوڑا، دارچینی یا کوئی خوشبودار عنصر شامل کیا گیا ہو، اور وہ کھانا آگ پر پکایا گیا ہو، تو محرم کے لیے اس کا استعمال بالاتفاق جائز ہے، چاہے اس میں سے خوشبو محسوس ہو رہی ہو، لہٰذا خوشبو دار بسکٹ، کیک وغیرہ کھانے کی اجازت ہے۔
(2)اگر خوشبو دار اجزاء شامل کیے گئے ہوں اور وہ کھانا پکایا نہ گیا ہو، تو :
- اگر خوشبو دار عنصر کی مقدار غالب ہو اور زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو دم واجب ہوگا؛
- اگر خوشبو دار عنصر کی مقدار غالب ہولیکن کم مقدار میں کھایا جائے تو صدقہ لازم ہوگا؛
- اگر خوشبو دار چیز مغلوب ہو تو کوئی کفارہ واجب نہیں ہوگا، البتہ خوشبو آنے کی صورت میں اس کا کھانا مکروہ ہوگا۔
خوشبو ملی ہوئی پینے کی اشیاء
اگر خوشبو دار چیز مثلاً زعفران،الائچی،کیوڑا، وغیرہ پینے کی چیز میں ملائی گئی ہو تو اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ جس مشروب میں کوئی خوشبودارچیز ملی ہوئی ہو حالت ِ احرام میں اس کے استعمال کے متعلق حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ کے دوقسم کےاقوال ملتے ہیں :
پہلا قول
ایسا مشروب خواہ پکا یاگیاہو یا پکایا نہ گیا ہو،دونوں صورتوں میں قلیل استعمال کی صورت میں صدقہ اور کثیر کی صورت میں دم واجب ہوگا۔فتح القدیر،مناسکِ ملاعلی قاری ؒ،رد المحتار،غنیۃ الناسک ،درر الحکام اور الفتای الہندیۃ میں اسی قول کو اختیار کیا ہے ۔
اردو میں مناسک کے موضوع پر لکھی گئی مستند کتب میں بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے ،چنانچہ "زبدۃ المناسک" میں ہے :
مسئلہ ۔اگر خوشبو پینے کی چیز میں ملائی، اگر (خوشبو) غالب ہے تو دم دے اور اگر مغلوب ہے تو صدقہ دے ۔مگر جو مغلوب کو مکرر استعمال کرے تو دم واجب ہے۔(زبدہ)جیسے خشک خوشبو زعفران،الائچی ،قرنفل ،لونگ چائے وغیرہ میں ڈالے جائیں یا خود دونوں پتلی ہوں جیسے عرق گلاب شربت وغیرہ میں ملاکر پیتے ہیں پس اگر بہت پیا ہےتو دم اور تھوڑا پیا ہےتوصدقہ اور اگر تھوڑاتھوڑا دوبارہ پیا ہے تو دم لازم ہے ...( ص:۳۵۷)
"معلم الحجاج" میں ہے :
اور پینے کی چیز میں خوشبو ملا کر پکانے کی وجہ سے کچھ فرق نہیں آتا،پینے کی چیز میں خوشبو ڈال کر خواہ پکایاجائے یا نہ پکایا جائے بہر صورت جزاء ہے (ص:۲۳۱)
دوسرا قول
اس قول کے مطابق مشروب میں بھی وہی تفصیل ہے جو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے کھانے کی چیز وں کے سلسلے میں بیان کی ہے کہ؛
(الف) اگر مشروب میں خوشبوکو پکا لیاجاتا ہو تو محرم پراس کے استعمال کی وجہ سےکچھ واجب نہیں ہوگا۔
(ب) اور اگر پکایا نہ جائے تو اس صورت میں اعتبار غلبہ کا ہوگا ، اگر وہ خوشبودار چیز مشروب پر غالب ہو تو کم استعمال کرنے کی صورت میں صدقہ اور زیادہ استعمال کی صورت میں دم واجب ہوگا۔ اگر خوشبودار چیز مغلوب ہو تو اس صورت میں اس کے استعمال سے کچھ واجب نہیں ہوگا ۔تا ہم اگر اس سے خوشبو آتی ہو تو پھر اس کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے ۔(علامہ زیلعی اور علامہ ابن نجیم رحمہما اللہ نے یہ قول اختیار کیا ہے) ۔
ان دونوں اقوال میں سے پہلے قول کے مطابق ہی اکثر کتابوں میں مسئلہ لکھا گیا ہے ،اور اسی قول کو ہمارے اکابرین نے بھی اختیار فرمایا ہے، لہذا مشروب میں اگرکوئی خوشبودار چیز ملائی گئی ہو مثلا زعفران،الائچی،کیوڑا وغیرہ تو احرام کی حالت میں اس مشروب کا استعمال ممنوع ہوگا،اس کے پینے اور کپڑے پر گرنے کی صورت میں جزاء واجب ہوگی ،البتہ اگر کسی مشروب میں الگ سے کوئی خوشبودار چیز نہیں ملائی گئی ہو تو اس کاپیناجائز ہوگا۔
راہ اعتدال
حج کا تعلق چونکہ عبادات سے ہے اور عبادات میں احتیاط کے پہلو پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے، لہذا عام حالات میں تو جمہور کے موقف پر ہی عمل کیا جائے، البتہ جہاں جمہور کے موقف پر عمل کرنے سے شدید حرج لازم آرہا ہو،مثلامالی حالت مضبوط نہ ہو اور خوشبو سے پاک خالص متبادل اشیاء کی دستیابی میں مشکلات ہوں اور ان چیزوں کے استعمال میں ابتلاءعام ہو تو محققین کی رائے پر بھی عمل کی گنجائش ہے،اس لیے کہ جمہور کا قول ،اگرچہ احوط (زیادہ احتیاط کا حامل ہے )لیکن محققین کا قول اوفق بالقیاس ( فقہی قواعدو اصول کے زیادہ موافق )ہونے کے علاوہ،ایسرللناس ( عامۃ الناس کی سہولت اور آسانی کا پہلو لئے ہوئے)بھی ہے۔
مروجہ فلیور ایسنس(flavor essence) والے مشروبات کا حکم
واضح رہے کہ یہ ساری تفصیل ان مشروبات کے بارے میں ہے جن میں باقاعدہ کوئی خوشبودار چیز(مثلاًعرقِ گلاب،زعفران،کیوڑہ وغیرہ) ڈالی جائے،آج کل مشروبات میں خوشبو پیدا کرنے کےلیے جو فلیور ایسنس(flavor essence) وغیرہ ڈالے جاتے ہیں،انہیں نہ عرفاً خوشبو سمجھا جاتا ہے،اور نہ ہی ان کے استعمال کے وقت خوشبو کے طورپروہ خوشبو محسوس ہوتی ہے،اور نہ خوشبو کے حصول کے لیے یہ چیزیں استعمال کی جاتی ہیں،بلکہ ذائقے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں،لہٰذا احرام کی حالت میں ایسے مشروبات کا پینا جائز ہے،جیسے کولڈڈرنکس)پیپسی،فانٹا وغیرہ)،مختلف پھلوں کے جوس اور اوآرایس (ORS) وغیرہ ،کیونکہ ان میں وہ خوشبو نہیں ہوتی جو ممنوع ہے۔
خوشبو ملی ہوئی دوا اورمرہم وغیرہ کا حکم
کسی بیماری میں مبتلا شخص دوا کے طور پر کوئی مرہم یا کریم وغیرہ استعمال کرتا ہے،نیز اس میں خوشبو مغلوب ہو(یعنی خوشبو کی مقدار کم ہو اور اس کے مقابلے میں مرہم وغیرہ کے اجزاء زیادہ ہوں،جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے)،اور خوشبو بھی پکی ہوئی ہو جیسا کہ عام طور پر دوا وغیرہ میں خوشبو اور دوا کے اجزاء کو مختلف مراحل سے گزار کر دوا تیار کی جاتی ہے تو ایسی دوا یا مرہم وغیرہ لگانے سے کوئی دم یا صدقہ واجب نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 27)
ثم الأكل الموجب أن يأكله كما هو، فإن جعله في طعام قد طبخ كالزعفران والأفاويه من الزنجبيل والدارصيني يجعل في الطعام فلا شيء عليه، فعن ابن عمر أنه كان يأكل السكباج الأصفر وهو محرم، وإن لم يطبخ بل خلطه بما يؤكل بلا طبخ كالملح وغيره، فإن كانت رائحته موجودة كره، ولا شيء عليه إذا كان مغلوبا فإنه كالمستهلك، أما إذا كان غالبا فهو كالزعفران الخالص؛ لأن اعتبار الغالب عدما عكس الأصول والمعقول فيجب الجزاء، وإن لم تظهر رائحته. ولو خلطه بمشروب وهو غالب ففيه الدم، وإن كان مغلوبا فصدقة إلا أن يشرب مرارا فدم.
مناسک الملا علی القاری )ص:۳۱۸،ط: قدیمی کتب خانہ )
(ولو خلطه بمشروب )کخلط الزعفران أو القرنفل بالقهوۃ (فإن کان الطیب غالبا ) أی باعتبار أجزائه )ففيه الدم ،وإن کان مغلوبا ففيه الصدقة،إلا أن یشرب مرارا ففيه الدم.(
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 547)
اعلم أن خلط الطيب بغيره على وجوه لأنه إما أن يخلط بطعام مطبوخ أو لا ففي الأول لا حكم للطيب سواء كان غالبا أم مغلوبا، وفي الثاني الحكم للغلبة إن غلب الطيب وجب الدم، وإن لم تظهر رائحته كما في الفتح، وإلا فلا شيء عليه غير أنه إذا وجدت معه الرائحة كره، وإن خلط بمشروب فالحكم فيه للطيب سواء غلب غيره أم لا غير أنه في غلبة الطيب يجب الدم، وفي غلبة الغير تجب الصدقة إلا أن يشرب مرارا فيجب الدم. وبحث في البحر أنه ينبغي التسوية بين المأكول والمشروب المخلوط كل منهما بطيب مغلوب. إما بعدم وجوب شيء أصلا أو بوجوب الصدقة فيهما، وتمامه فيه.
(غنیۃ الناسک،ص:247)
ومن خلطه بمشروب کالهیل والقرنفل بالقهوۃ،فالحکم للطیب مائعا کان أوجامدا ،فإن کان الطیب غالبا یجب دم إن شرب کثیرا وإلا فصدقة…
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 240)
ولو خلطه بمشروب وهو غالب ففيه الدم وإن كان مغلوبا فصدقة إلا أن يشرب مرارا فدم فإن كان الشرب تداويا يخير في خصال الكفارة من الفتح والتبيين ولم يذكر الفرق بين الأكل والشرب اهـ. ولم يذكر بماذا تعتبر الغلبة.
الفتاوى الهندية (6/ 173)
ولو كان الطيب في طعام طبخ وتغير فلا شيء على المحرم في أكله سواء كان توجد رائحته أو لا ، كذا في البدائع .وإن خلطه بما يؤكل بلا طبخ فإن كان مغلوبا فلا شيء عليه غير أنه إن وجدت معه الرائحة كره، وإن كان غالبا وجب الجزاء ولو خلطه بما يشرب فإن كان غالبا فدم ، وإلا فصدقة إلا أن يشرب مرارا فيجب دم هكذا في النهر الفائق .
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 53)
حتى لو أكل زعفرانا مخلوطا بطعام أو طيب آخر ولم تمسه النار يلزمه دم، وإن مسته فلا شيء عليه؛ لأنه صار مستهلكا، وعلى هذا التفاصيل في المشروب.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 6)
وقالوا: ولو خلطه بمشروب، وهو غالب ففيه الدم، وإن كان مغلوبا فصدقة إلا أن يشرب مرارا فدم فإن كان للتداوي خير وينبغي أن يسوي بين المأكول والمشروب المخلوط كل منهما بطيب مغلوب أما بعدم شيء أصلا كما هو الحكم في المأكول أو بوجوب الصدقة فيهما كما هو الحكم في المشروب، وما فرق به في المحيط من أن الطيب مما يقصد شربه فإذا خلطه بمشروب لم يصر تبعا لمشروب مثله إلا أن يكون المشروب غالبا كما لو خلط اللبن بالماء فشربه الصبي تثبت حرمة الرضاع إلا أن يكون الماء غالبا بخلاف أكله فإنه ليس مما يقصد عادة فإذا خلط بالطعام صار تبعا للطعام وسقط حكمه ففيه نظر من وجهين. الأول: أن من الطيب ما يقصد أكلا إذا كان من المأكولات للمعنى القائم به، وهو الطيبية إما مداواة أو تنعما منفردا أو مخلوطا كما يقصد شربا الثاني أن القصد من هذا الباب ليس بشرط؛ لأن الناسي والعامد والجاهل سواء.
(ماخوذ ازفتوی دارالعلوم کراچی و فتوی دارالافتاء جامعۃ الرشید)
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
04.ذوالحج1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


