03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثہ میں  صرف دوبیٹی  ہوں تو وراثت  دونوں میں برابرتقسیم ہوگی
87760میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

وراثت کے حوالے سے درج ذیل معاملے میں آپ کی معاونت اور شرعی حل درکار ہے: میرے والد (مرحوم) نے اپنی زندگی میں میری والدہ کو ان کے ہی نام سے گھر خرید کر دیا تھا، گھر کے کاغذات بھی میری والدہ کے نام پرہی  ہیں، والد کے وصال کے بعد والدہ کا بھی انتقال ہو چکا ہے، میری والدہ کی اولاد میں ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں، گزشتہ رمضان کے اوائل میں ہی میرے بھائی کا بھی رضائے الہی سے انتقال ہو گیا ہے، میرا بھائی غیر شادی شدہ تھا، اب ہم صرف دو بہنیں باقی رہ گئی ہیں۔

 سوال یہ ہے کہ میری والدہ کے اس گھر میں ہم دونوں بہنیں برابر کی حصے دار ہیں یا کوئی اور رشتہ دار بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے؟براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل شرعی جواب مرحمت فرمائیں تاکہ ہم صحیح فیصلہ کر سکیں۔

دیگرورثۃ میں ان کےماموں ،خالہ اورسوتیلےچچاہیں،ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں والدہ کےانتقال کےوقت بھائی بھی زندہ تھے،میراث میں ان کابھی حصہ تھا،لیکن چونکہ ان کی وفات کےوقت بہنوں کےعلاوہ ان کاکوئی اوروارث(بیوی،بچے) نہیں ،لہذااب جتنی بھی میراث ہے،اس میں دونوں بہنیں برابرکی حصہ دار ہونگی ،بہنوں کےعلاوہ دیگرورثہ (ماموں،خالہ  اورسوتیلےچچا وغیرہ )کامیراث میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

03/ذی الحجہ   1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب