| 87760 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
وراثت کے حوالے سے درج ذیل معاملے میں آپ کی معاونت اور شرعی حل درکار ہے: میرے والد (مرحوم) نے اپنی زندگی میں میری والدہ کو ان کے ہی نام سے گھر خرید کر دیا تھا، گھر کے کاغذات بھی میری والدہ کے نام پرہی ہیں، والد کے وصال کے بعد والدہ کا بھی انتقال ہو چکا ہے، میری والدہ کی اولاد میں ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں، گزشتہ رمضان کے اوائل میں ہی میرے بھائی کا بھی رضائے الہی سے انتقال ہو گیا ہے، میرا بھائی غیر شادی شدہ تھا، اب ہم صرف دو بہنیں باقی رہ گئی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ میری والدہ کے اس گھر میں ہم دونوں بہنیں برابر کی حصے دار ہیں یا کوئی اور رشتہ دار بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے؟براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل شرعی جواب مرحمت فرمائیں تاکہ ہم صحیح فیصلہ کر سکیں۔
دیگرورثۃ میں ان کےماموں ،خالہ اورسوتیلےچچاہیں،ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں والدہ کےانتقال کےوقت بھائی بھی زندہ تھے،میراث میں ان کابھی حصہ تھا،لیکن چونکہ ان کی وفات کےوقت بہنوں کےعلاوہ ان کاکوئی اوروارث(بیوی،بچے) نہیں ،لہذااب جتنی بھی میراث ہے،اس میں دونوں بہنیں برابرکی حصہ دار ہونگی ،بہنوں کےعلاوہ دیگرورثہ (ماموں،خالہ اورسوتیلےچچا وغیرہ )کامیراث میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
03/ذی الحجہ 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


