03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثتی جائیدادسے دستبرداری کا حکم (میں اپنا حصہ معاف کرتی ہوں)
87742میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب کا انتقال ہوئے تین سال ہو چکے ہیں۔ ہم تین بہن بھائی ہیں ) دو بھائی اور ایک بہن(والد صاحب نے وراثت میں ایک مکان چھوڑا ہے جس کا رقبہ 68 گز ہے۔ اس گھر میں ہم دونوں بھائی مل کر رہائش پذیر ہیں۔

والد صاحب کے انتقال کے بعد، اس مکان میں ہماری بہن کا بھی شرعی حصہ بنتا ہے، میں نے اپنی بہن سے بات کی کہ وہ اپنا حصہ لے لے اور اس مقصد کے لیے ہم مکان کو فروخت کر لیں ،مگر بہن نے اپنا حصہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مکان فروخت نہ کیا جائے۔اب اسلامی نقطۂ نظر سے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟اگر بہن اپنے حصے کو معاف کر دے تو کیا شرعی طور پر وہ معافی درست ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 بطور تمہید واضح ہو کہ کسی وارث کی جانب سے  اپنا حصہ میراث معاف کرکے دوسرے ورثاء کے لیے چھوڑ دینے  سے وہ معاف نہیں ہوتا ،بلکہ اس کا حصہ برقرار رہتاہے ، سوائے اس کے کہ اس کا حصہ الگ کرکے اسے  دےدیا جائے، پھر وہ اپنی مرضی اور خوشی سے بغیر کسی دباؤ کے اپنا  حصہ دوسرے ورثاء  کو ہبہ کردے تو یہ جائز ہے ۔

     صورت مسئولہ میں اگر  آپ کی بہن اپنا حصہ نہیں لینا چاہتی تو درج ذیل دو طریقوں میں سے کوئی ایک طریقہ اختیار کر لیا جائے:

1۔ بھائی اپنی  بہن کو کوئی چیز  یا  اتنی رقم دیں، جس   کے عوض بہن اپنا حصہ میراث  بھائیوں کو فروخت کرنے پر رضامند ہو   جائے تو یہ  بھی درست ہے ،اس لیے کہ یہ بیع ہے اور مشاع چیز کی بیع جائز ہے۔

2۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بہن کا حصہ الگ کیا جائے اوراسے اپنے حصہ کا قبضہ اور مکمل اختیار دیا جائے ، اس کے بعد بہن اپنی خوشی و رضامندی سے اپنا حصہ بھائیوں کو ہبہ (گفٹ)کر دے ، تویہ     ہبہ درست ہے۔

البتہ اگر گھر ناقابل تقسیم ہو ،یعنی اس کو تقسیم کر کے اس سے نفع حاصل کرنا ممکن نہ ہو، تو   بغیر تقسیم کے بھی بہن اپنا حصہ بھائیوں کو ہبہ کر سکتی ہے، تاہم اس صورت اس بات کا خوب خیال رکھنا چاہیے کہ بہن یہ ہبہ اپنی  دلی رضامندی اور خوشی سے  کر رہی ہے،  اگر  بہن یہ ہبہ(گفٹ) معاشرتی دباؤکی وجہ سے دے  رہی ہو جیسا کہ ہمارے معاشرے میں  عام طور پر رائج ہے، تو بھائیوں کے لئے  یہ تحفہ  لینا درست نہیں۔

حوالہ جات

سورة النساء (الاية ١١)

{‌يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}

مشكاة المصابيح(2/ 926):

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ‌ميراث ‌وارثه ‌قطع ‌الله ‌ميراثه من الجنة يوم القيامة۔

الأشباه والنظائر - ابن نجيم (ص272):

لو قال الوارث: ‌تركت ‌حقي ‌لم ‌يبطل ‌حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك۔

الفتاوى العالمكيرية (4/ 384):

قال رضي الله عنه: وهبة حصته ‌من ‌العين ‌لوارث أو غيره تصح فيما لا يحتمل القسمة ولا تصح فيما يحتملها، كذا في القنية.

وهبة المشاع فيما لا يحتمل القسمة تجوز من الشريك ومن الأجنبي، كذا في الفصول العمادية.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (5/ 49):

قال رحمه الله (‌وإن ‌أخرجت ‌الورثة أحدهم عن عرض أو عقار بمال، أو عن ذهب بفضة، أو بالعكس) أي عن فضة بذهب (صح قل، أو كثر) يعني قل ما أعطوه أو كثر؛ لأنه يحمل على المبادلة؛ لأنه صلح عن عين ولا يمكن حمله على الإبراء إذ لا دين عليهم ولا يتصور الإبراء عن العين.

الموسوعة الفقهية الكويتية (32/ 259):

اتفق الفقهاء على أن قبض العقار يكون بالتخلية والتمكين من اليد والتصرف. فإن لم يتمكن منه بأن منعه شخص آخر من وضع يده عليه، فلا تعتبر التخلية قبضا۔

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

26/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب