03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچیوں کی تعلیم کے لیے مسجدکے نیچے درسگاہ بنانے کا حکم
87737وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ہمارے گاؤں میں 1901ء (جب سے یہ گاؤں آباد ہے) میں گورنمنٹ نے ایک احاطہ مسجد کے لیے وقف کیا تھا ،وہاں وقتا فوقتا مسجد میں توسیع ہوتی رہی، آخری توسیع2010ء میں  ہوئی، اس وقت کمیٹی نے دو تہہ خانے بنوائے، ایک بچوں کی تعلیم کے لئے مسجدو صحن مسجد کے نیچے  اوردوسرا  تہ خانہ احاطہ مسجد(احاطہ مسجد کی جگہ  2010ء کی تعمیر سے پہلےوہاں پر دکانیں تھیں جو کرایہ پر دی گئی تھیں، جنریٹر روم، دفتر،جوتے اتارنے کی جگہ اور واش رومزو، باتھ رومز برائے اہلیانِ دیہہ کے لئے استعمال ہو رہی تھی) کی جگہ پر بچیوں کی تعلیم کے لیے بنایا، البتہ جو بچوں کی تعلیم کے لیے تہ خانہ بنوایا وہ مسجد کے حال اور برآمدے کے نیچے ہے اور جو بچیوں کی تعلیم کے لیے تہ خانہ بنوایا وہ مسجد کے حال کے نیچے نہیں ہے، بلکہ اس سے ہٹ کر ہے، البتہ اسی احاطہٴ مسجد یعنی مسجد کے لیے وقف جگہ کی حدود  میں ہے، اب بعض حضراتِ مفتیان کرام سے مسئلہ پوچھا کہ یہاں بچیوں کی تعلیم جاری کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ تو ہمارے قریب جامعہ ربانیہ کے مفتیان کرام نے پہلے تو اس کی اجازت دی کہ یہاں بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ مسجد کے نیچے نہیں ہے، بلکہ مسجد سے ہٹ کر ہے، لیکن احاطہٴ مسجد میں ہے اور اس کا راستہ دروازہ بھی الگ ہے اور بعد میں انہوں نے پھر کسی اور جگہ سے بھی اس کی تحقیق کی تو انہوں نے منع کر دیا کہ بچیوں کی تعلیم وہاں مسجد کے احاطہ میں جاری نہیں کی جا سکتی، کیونکہ بچیوں کی تعلیم مسجد کی ضروریات میں سے نہیں ہے، البتہ بچوں کی تعلیم مسجد میں یا مسجد کے احاطہ میں کی جا سکتی ہے، کیونکہ بچوں کی تعلیم مسجد کی ضروریات میں سے ہے اور پھر ہم نے ایک اور جگہ سے بھی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ بچیوں کی تعلیم وہاں جاری کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ مسجد کے حال اوربرآمدے کے نیچے نہیں ہے، بلکہ اس سے ہٹ کر ہے،اگرچہ احاطہ مسجد میں ہے اور اس کا راستہ دروازہ بھی الگ ہے، مسجد کا دروازہ اور گلی میں ہے اس کا دروازہ اور گلی میں ہے تو اب آپ ذرا اس میں تحقیق کر کے ہمیں بتا دیں کہ کیا ہم وہاں مسجد کے احاطہ میں مسجد سے ہٹ کر جو جگہ ہے اس میں بچیوں کی تعلیم جاری کر سکتے ہیں یا نہیں؟  ایک بات اور بتانے کی یہ ہے کہ جب یہ تہ خانہ بچیوں کی تعلیم کے لیے بنایا تو اس وقت کمیٹی کی نیت یہی تھی کہ یہاں بچیوں کا مدرسہ بنائیں گے، البتہ جو اس کی چھت ہے وہ مسجد کے صحن میں شامل ہے یعنی اس پر لوگ نماز پڑھتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید  جاننا چاہیے کہ مسجد اور مدرسہ دونوں علیحدہ علیحدہ وقف ہیں اور دونوں کے مقصد بھی جدا جدا ہیں، مدرسہ کا اصل مقصد علومِ دینیہ کی اشاعت ہے، جبکہ مسجد کا اصل مقصد نمازکاقیام اور اعتکاف وغیرہ کا اہتمام ہے، اور عام حالات میں ایک وقف کو مستقل طور پر دوسرے وقف میں تبدیل کرنا شرعاً درست نہیں، لہذا مسجد کی وقف جگہ پر مستقل طور پر بچوں یا بچیوں کا مدرسہ بنانا درست نہیں۔البتہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق چونکہ لوگوں (خواہ وہ بچے ہوں یا بچیاں) کو دینی تعلیم دینا بھی مصالح مسجد میں شامل ہےاورفقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ مسجد بنانے سے پہلے اگر مسجد کے نیچے یا اوپر مصالح مسجد میں سے کوئی چیز بنانے کی نیت کر لی جائے تو یہ نیت شرعاً معتبر ہے اور شرعاً اس  میں کوئی حرج نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  2010ء میں مسجد کی تعمیر کے وقت اگر متولیٴ مسجد نے وقف جگہ پر واقع دکانوں کو مسجد میں شامل کرتے وقت نیچے بچیوں کے لیے درسگاہ بنانے کی نیت کر لی تھی تو یہ نیت شرعاً معتبر ہے اور اس صورت میں مسجد کے صحن کے نیچے واقع درسگاہ میں فی نفسہ بچیوں کو دینی تعلیم دینا صحیح ہے، نیز اس درسگاہ پر مسجد کے احکام جاری نہیں ہوں گے، بلکہ یہ درسگاہ مصالحِ مسجد میں سے شمار ہو گی اور اس جگہ کا احترام مسجد کی طرح نہیں ہو گا، لہذا  اس جگہ خواتین کے لیے ناپاکی کے ایام میں آنا شرعاً منع نہیں ہو گا، البتہ اس میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:

  1. یہ جگہ مستقل طور پر مسجد کے لیے ہی وقف رہے گی، لہذا متولیٴ مسجد کو مستقبل میں مصالحِ مسجد کے پیش نظر اس درسگاہ کو ختم کرنے کا اختیار ہو گا۔
  2. بچیوں  کےآنے جانے کے راستے مردوں سے بالکل علیحدہ اور جدا  ہوں، تاکہ اختلاط کی وجہ سے کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
  3. بچیوں کی آواز مسجد میں مردوں تک نہ پہنچے، کیونکہ بلاضرورت عورت کی آواز کا مردوں کے سامنے ظاہر ہونا بھی فتنہ کا باعث ہے۔
  4. اگر بستی والوں كو آئندہ مالی استطاعت حاصل ہو جائے تو فتنہ سے بچنے کے لیے بالغ بچیوں کی تعلیم کے لیے مسجد سے علیحدہ جگہ لی جائے اور وہاں ان کی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔
حوالہ جات

الفتاوى البزازیة ( کتاب الکراهیة، الفصل الأول، نوع في المسجد،3/201، وعلی هامش الهندیة، 6/357، زکریا جدید):

"وتعلیم الصبیان فیه بلاأجر و بالأجر یجوز".

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 36) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

قال الله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] وما تلوناه من الآية السابقة فلا يجوز لأحد مطلقا أن يمنع مؤمنا من عبادة يأتي بها في المسجد لأن المسجد ما بني إلا لها من صلاة واعتكاف وذكر شرعي وتعليم علم وتعلمه وقراءة قرآن ولا يتعين مكان مخصوص لأحد حتى لو كان للمدرس موضع من المسجد يدرس فيه فسبقه غيره إليه ليس له إزعاجه وإقامته منه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (6/ 428) الناشر: دار الفكر-بيروت:

قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة وفي الخلاصة تعليم الصبيان في المسجد لا بأس به اهـ

البحر الرائق(271/5)،  کتاب الوقف، فصل فی احکام المسجد، ط: دارالکتاب الاسلامی، بیروت):

حاصله: أن شرط كونه مسجداً أن يكون سفله وعلوه مسجداً؛ لينقطع حق العبد عنه؛ لقوله وتعالى: ﴿وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ﴾ [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفاً لمصالح المسجد، فإنه يجوز؛ إذ لا ملك فيه لأحد، بل هو من تتميم مصالح المسجد، فهو كسرداب مسجد بيت المقدس، هذا هو ظاهر المذهب، وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية، وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتاً على سطح المسجد لسكنى الإمام، فإنه لا يضر في كونه مسجداً؛ لأنه من المصالح، فإن قلت: لو جعل مسجداً ثم أراد أن يبني فوقه بيتاً للإمام أو غيره، هل له ذلك؟ قلت: قال في التتارخانية: إذا بنى مسجداً، وبنى غرفةً وهو في يده، فله ذلك، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس، ثم جاء بعد ذلك يبني، لا يتركه. وفي جامع الفتوى: إذا قال: عنيت ذلك، فإنه لا يصدق". اهـ

رد المحتار(4/ 357، کتاب الوقف، ط: ايچ، ايم،سعید):

"(وإذا جعل تحته سرداباً لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس، (ولو جعل لغيرها  أو) جعل (فوقه بيتاً وجعل باب المسجد إلى طريق وعزله عن ملكه لا) يكون مسجداً.

(قوله: وإذا جعل تحته سرداباً) جمعه سراديب، بيت يتخذ تحت الأرض؛ لغرض تبريد الماء وغيره، كذا في الفتح، وشرط في المصباح: أن يكون ضيقاً، نهر، (قوله: أو جعل

فوقه بيتاً إلخ) ظاهره أنه لا فرق بين أن يكون البيت للمسجد أو لا، إلا أنه يؤخذ من التعليل أن محل عدم كونه مسجداً فيما إذا لم يكن وقفاً على مصالح المسجد، وبه صرح في الإسعاف فقال: وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجداً. اهـ. شرنبلالية".

رد المحتار(4/ 358، کتاب الوقف، فرع، ط: سعید):

"لو بنى فوقه بيتاً للإمام لا يضر؛ لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع، ولو قال: عنيت ذلك لم يصدق، التتارخانية".

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

4/ذوالحجة 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب