| 87821 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ذہنی طور پر سخت بیمار ہےاورزیر علاج ہے۔ جب کسی دن دوا کا ناغہ ہوجائے تو ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ بیماری اتنی ہے کہ کبھی کہتا ہے کہ میرا اللہ سے خاص تعلق ہے ،کبھی کہتا ہے کہ میں اللہ سے باتیں کرتا ہوں، کبھی کہتا ہے کہ مجھے کشف ہوتا ہے، کبھی کہتا ہے کہ میں نے نعوذ باللہ اللہ کو گالیاں دی۔ ایک بار زہر کی گولیاں کھائی تھی، جب ہسپتال میں وفات پانے سے بچ گیا تو کہنے لگا کہ مجھے اللہ نے کہا تھا کہ یہ گولیاں کھالو۔ بار بار اسمان کے طرف دیکھتا رہتا ہے۔ البتہ جب دوا لیتا ہے تو پنج وقتہ نمازیں ادا کرتا ہے،دینی باتیں کرتا ہے۔ اب حال ہی میں اس نے غصے میں آکر اپنی بیوی کو کہا کہ " طلاق طلاق طلاق"۔اب وہ کہتا ہے کہ میں نے غلطی میں دی ہے میرا ارادہ نہیں تھا۔ گھر والے کہتے ہیں کہ طلاق دینے کے وقت اس نے اپنی گولیاں نہیں کھائی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جس شخص پر کبھی کبھار جنون کی حالت طاری ہو اس کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صراحت کی ہے کہ حالتِ صحت میں اس کے تمام افعال اور تصرفات معتبر شمار ہوتے ہیں اور حالتِ جنون میں اس کے اقوال وافعال شرعاً معتبر نہیں ہوتے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتا شخصِ مذکور نے دوا کا ناغہ کرنےسے جو جنون کی حالت پیدا ہوتی ہے، اس میں طلاق دی ہے، تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگراس کی بیوی کو اس کی ایسی حالت کا یقین یا ظنِ غالب ہو تو ان پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور اگر بالفرض اس کی ایسی حالت پر اطمینان نہ ہو تو اس سے حلفیہ بیان لے لیا جائے کہ واقعتاً اس نے مخصوص دماغی کیفیت میں یہ الفاظ ادا کئے ہیں، پھر اگر بیوی کو اس کے بیان پریقین ہو جائے تو بھی اس پر ان الفاظ سے طلاق کے وقوع کا حکم نہیں لگے گا ۔(ماخوذ از تبویب جامعۃ الرشید:87589)
حوالہ جات
الاختيار لتعليل المختار (4/ 149) الناشر: مطبعة الحلبي – القاهرة:
ومن يجن ويفيق ففي حال جنونه له أحكام المجانين، وفي حال إفاقته أحكام العقلاء، وردة السكران ليست بشيء استحسانا، وإسلامه صحيح لأنه يحتمل أن يكون عن اعتقاد أو لا.
الأصل للشيباني ط قطر (4/ 553) الناشر: دار ابن حزم، بيروت:
وإذا خلع المعتوه امرأته أو طلقها فذلك باطل لا يجوز، وهو بمنزلة الصبي في ذلك، وهي امرأته. وكذلك المجنون الذي يجن ويفيق إذا فعل ذلك في حال جنونه. وإذا فعل ذلك في حال إفاقته فهو جائز عليه. وكذلك المغمى عليه من مرض أو ذهاب عقل من مرض أو غيره فإنه لا يجوز عليه خلع ولا طلاق.
المبسوط للسرخسي (9/ 98) الناشر: دار المعرفة – بيروت:
والذي يجن ويفيق في حال إفاقته كغيره من الأصحاء يلزمه الحد بالزنا في هذه الحالة سواء أقر به أو شهد عليه الشهود.
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
28 /ذی الحج/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


