03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
HBL بینک سے گاڑی خریدنے کا شرعی حکم
87810سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

میرا تنخواہ کا اکاؤنٹ "ایچ بی ایل" (HBL) بینک میں ہے، اور میں اسی بینک سے گاڑی قسطوں پر خریدنے کا خواہش مند ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ HBL ایک روایتی بینک ہے، اور عام طور پر اس کی گاڑی کی قسطوں کی اسکیم میں سود شامل ہوتا ہے۔ خصوصاً اگر مقررہ وقت پر قسط جمع نہ کروائی جائے تو تاخیر کی صورت میں جرمانہ (Late Payment Charges) وصول کیا جاتا ہے، جو میرے نزدیک سود کے دائرے میں آتا ہے۔

اس کے برعکس، میرا دوسرا آپشن "میزان بینک" جیسے اسلامی بینک کا ہے، جو یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ اگر قسط تاخیر سے ادا کی جائے تو جو جرمانہ لیا جاتا ہے، وہ بینک اپنے پاس نہیں رکھتا بلکہ اسے کسی خیراتی کام میں خرچ کرتا ہے، اسی بنیاد پر وہ اسے شرعاً جائز قرار دیتے ہیں۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ میری تنخواہ HBL میں آتی ہے، اور وہاں سے اگر میں گاڑی خریدوں تو قسط کی رقم میری تنخواہ سے خود بخود منہا ہو جاتی ہے، لہٰذا قسط تاخیر سے ادا ہونے کا امکان نہیں رہتا، اور اس اعتبار سے جرمانے یا سود کی نوبت ہی نہیں آتی۔ نیز، میزان بینک سے گاڑی خریدنا میرے لیے مشکل ہے کیونکہ وہاں نہ میرا اکاؤنٹ ہے، نہ ہی میرا کوئی سابقہ لین دین رہا ہے، اور اس کا پراسیس بھی میرے لیے پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ HBL میں میرا اکاؤنٹ 1997 سے جاری ہے، اور یہی بینک ہمارے دفتر کے تمام ملازمین کا تنخواہی بینک بھی ہے، لہٰذا وہیں سے گاڑی خریدنا میرے لیے سب سے آسان اور سہولت والا راستہ ہے۔

 اس پس منظر میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ کیا شرعاً HBL سے گاڑی قسطوں پر خریدنا جائز ہوگا؟ جبکہ قسط تاخیر سے ادا ہونے کا کوئی امکان نہیں، اور نتیجتاً جرمانہ یا سود کی نوبت نہیں آتی۔

اگر شرعاً یہ معاملہ درست نہیں، تو براہِ کرم یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ ایسی کون سی شرائط یا صورتیں اختیار کی جائیں جن کی بناء پر یہ معاملہ شریعت کے دائرے میں آ جائے اور اس کے جواز کی صورت پیدا ہو سکے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سودی قسطوں پر گاڑی لینا کسی بھی صورت جائز نہیں،حرام ہے۔البتہ ہماری معلومات کے مطابق" HBLاسلامک بینکنگ ونڈو بھی موجودہےجو مستند اور ماہر مفتیان کرام کی زیر نگرانی کام کررہا ہے ،لہٰذا آپ  HBL"اسلامک بینکنگ ونڈو یا کسی بھی دوسری اسلامک بینک   کےذریعےسے قسطوں پر   گاڑی لے سکتے ہیں ۔

نیز، اسلامی بینکوں میں بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں صارف سے جو رقم لی جاتی ہے، وہ سود یا مالی جرمانے کے طور پر نہیں لی جاتی، بلکہ "التزامِ تصدق" (یعنی کسی شخص کا یوں  کہنا کہ اگر میں فلاں عمل نہ کر سکا، مثلاً مقررہ وقت پر ادائیگی نہ ہوئی، تو اتنی رقم صدقہ کروں گا) کی بنیاد پر لی جاتی ہے، جو شرعاً جائز ہے۔یہ رقم بینک خود استعمال نہیں کرتا، بلکہ اسے صدقہ کے مصارف میں خرچ کرتاہے۔

حوالہ جات

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرةآیت نمبر 275 :

«‌الَّذِينَ ‌يَأْكُلُونَ ‌الرِّبا لا يَقُومُونَ إِلَاّ كَما يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطانُ مِنَ الْمَسِّ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا فَمَنْ جاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عادَ فَأُولئِكَ أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ (275).

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

28/ ذو الحجہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب