03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائیداد پر تنازع سے متعلق چندسؤالات کے جوابات
87792میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس بارے میں کہ  میرے والد نور محمد کی تین شادیاں ہیں ،پہلی شادی میری والدہ کے ساتھ ہے، جس سے ہم چار بھائی اور ایک بہن ہیں، دوسری گھر والی سے دو بھائی، ایک بہن ہیں، تیسری گھر والی سے دو بھائی ،ایک بہن ہیں۔ جناب  والا! عرض یہ ہے کہ میرے والد صاحب کی اس وقت کم سے کم چار سے پانچ کروڑروپے کی ملکیت ہے اور ایک سال پہلے میرے والد صاحب کو دماغ کا فالج ہوا ہے، جس کی وجہ سے میرے والد نور محمد کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہتا اور فالج کی وجہ سے کام وغیرہ بھی نہیں کر پاتے ، اپنی دوسری زوجہ کے پاس ہی رہتے ہیں، تقریبا 14 سال سے میری والدہ کو خرچہ نہیں دے رہے اور نہ رہنے کے لیے آتے ہیں، جو دوسری گھر والی ہے وہ تمام پراپرٹی پر قابض ہے ،میرے والد کی تمام پراپرٹی پر اپنےبھائی اور بیٹے کو کار و بار پر بٹھا رکھا ہے اور وہ  میری والدہ کو کچھ نہیں دے رہی ہے ،جبکہ تیسری گھر والی  کوماہانہ مبلغ 45,000 (پینتالیس ہزار روپے) بطور خرچہ دیتی ہے ، اسے اپنا گھر بھی نہیں دیا ،وہ اپنے والدین کے گھر میں رہتی ہے، میرے والد نے اپنی دوسری بیوی کی اولاد کو بہت اعلی تعلیم دلوائی ہے اور ہمیں تعلیم سے محروم رکھا ، تیسری بیوی کی اولاد کے ساتھ بھی ہمارا والا رویہ رکھا ،یعنی تعلیم سے محروم  رکھا، تیسری کو بھی جو ماہانہ خرچہ دیا جاتا ہے( دوسری بیوی کی طرف سے)اس میں سے وہ اپنے گھر کے تمام اخراجات اور بچوں کی ادویات اور اسکول کے اخراجات پورے کرتی ہے۔

 جناب  والا!میری والدہ تقریباً 14 برس سے میرے ساتھ رہتی ہیں ، ہم تین بھائی شادی شدہ ہیں اور ہم کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، میں اپنے ذاتی پیسوں سے اپنے دو بھائیوں کی شادی کروا چکا ہوں،  میری بہن کو ابو کی طرف سے ماہانہ صرف 5000 روپے دیئےجاتے تھے، وہ بھی کبھی دیے اور کبھی نہیں دیے۔

گاؤں میں میرے والد کی 5 عدد دکانیں اور ایک عدد پلاٹ جو دکانوں کے ساتھ ہے، جس میں سے 3 دکا نیں 5000 رینٹ پر دی ہوئی ہیں اور ان کا کرایہ میرے دادا لیتے ہیں اور وہ بھی میرے والد کی دوسری زوجہ کے ساتھ مل کر یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ پانچوں دکانیں اور پلاٹ میری ملکیت ہے۔ (جب کہ یہ میرے والد کی ملکیت ہے۔)

آپ سے گزارش ہے ہمارے وراثتی مسئلہ کو شرعی طور پر حل کیا جائے اور ہمارا اور ابو کی تیسری زوجہ اور اسکے بچوں کا جو شرعی حصہ بنتا ہے ہمیں بتایا جائے ، دوسری گھر والی نے فراڈ کے طور پر میرے والد سے کچھ پراپرٹی اپنے نام پر اور اپنے بھائی کے نام پر کروار کھی ہے اور اسکے بھائی اور 4 بچوں اور گھر کے تمام اخراجات میرے والد کے کاروبار سے پورے کیے جاتے ہیں، اس کا دعوی ہے کہ آپ کے ابو نے یہ پراپر ٹی مجھے گفٹ دی ہے اور سیل کر کے دی ہے ،حالانکہ  دوسری گھر والی کی نہ کوئی سائٹ بزنس ہے اور نہ اسکے بھائی کا کوئی سائٹ بزنس ہے، نہ ہی ماں باپ کی طرف سے کوئی ذاتی ملکیت ملی، تمام جائیداد میرے والد کی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ  اگرواقعۃ  آپ کے والد کی دوسری بیوی  اور اس کے بھائی اور بیٹے اور آپ کے دادا  آپ کی والد کی مملوکہ جائیدادوں (پراپر ٹی اور کاروبار) پر ناجائزقبضہ کرچکے ہیں تو یہ  سب کچھ شرعا غصب کے زمرےمیں داخل   ہونے کی بناء پرظلم اورحرام ہے،جس کاوبال آخرت کے علاوہ دنیا      میں بھی آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو کسی  کی  ایک بالشت زمین پر بھی ناحق قبضہ کرے گا،زمین کےاس ٹکڑے کو قیامت کے دن اس کےگلے میں طوق بناکر ڈالا جائے گا (مشکوۃشریف)اوربعض روایات میں آتا ہے کہ ایسے ظالم غاصب سےاس کی نیکیاں مظلوم کو دلائی جائیں گی اور نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ اس پر لادے جائیں گے۔لہذا ان سب  پر ایسی صورت میں شرعا لازم ہے کہ وہ فوری طور پر اس عمل سے توبہ تائب ہوکر  اس قبضہ سے دستبردار ہوجائیں اور ان میں جملہ اہل حقوق ( تمام بیویوں  اور ان کی نرینہ  نابالغ  اولاد اور غیر شادی شدہ لڑکیوں  کو ان کی حیثیت کا نان نفقہ وغیرہ خرچہ دیں ،بلکہ اب تک انہوں نے ان پراپر ٹیز اور کاروبار سے جو کچھ منافع حاصل کئے ہیں ان میں  سے بھی  اہل حقوق کے حصوں کےوہ   دیانۃ ضامن بنیں گے، ورنہ وہ سخت گناہ گار ہونگے۔البتہ اگر  ان حضرات( دوسری بیوی اور آپ کے دادا وغیرہ) کا یہ مالکانہ قبضہ     غصب کی بناء پر نہ ہو ،بلکہ انہوں نے واقعۃ یہ چیزیں آپ کےوالدسے خریدی ہوں یاانہیں آپ کے والد نے گفٹ  کی ہوں تو ایسی صورت میں ان کےلیے ان چیزوں سے  منافع حاصل کرنا جائز ہوگا،البتہ اگر آپ کے والد نے یہ سب کچھ کرتے وقت اہل حقوق کی حقوق کی ادائیگی کا بندوبست نہ کیا ہو تو وہ سخت گناہ گار ہونگےا لا یہ کہ وہ ان کی ادائیگی کا بندوبست کردیں۔

آپ  کے استفتاء میں   آپ کے والد کی جائیداد کی تقسیم اور اہل حقوق(بیوی، بچوں   )کےحقوق کے بارے میں دوسؤال قابل جواب ہیں جودرج ذیل ہیں:

۱۔کسی کی میراث  اس  کی زندگی میں نہیں،بلکہ اس کی وفات کے بعدبوقت وفات موجود ورثہ  میں تقسیم ہوتی ہے،لہذاآپ کے والد  کا ترکہ بطور میراث ان کی وفات  کے وقت    موجود  ورثہ میں ان کے شرعی حصص کے مطابق  تقسیم ہوگا،لہذا فی الحال ان کے ورثہ کے حصص متعین نہیں کئے جاسکتے ،البتہ زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کو ہبہ یعنی عطیہ کہاجاتا ہے اور یہ عمل چونکہ  جائیداد کے مالک سے وابستہ ہے،لہذا اس بارے میں وہ از خود معلوم کرنے  کاشرعا پابند ہے، البتہ اولاد کو زندگی میں جائیداد ہبہ کرنے کی صورت میں سب میں برابری ضروری ہے،لیکن تمام بیویوں  کاتاحیات اور اپنے زیر کفالت اولاد میں سے لڑکیوں کا   ان کی شادی  اور رخصتی ہونے تک اور نابالغ  لڑکوں کابالغ ہونے تک نان نفقہ کا ذمہ دار والد رہے گا، اگرچہ اپنی زندگی میں انہیں کتنا کچھ ہی کیوں نہ ہبہ کرچکا ہو۔

رد المحتار - (ج 29 / ص 351)

وشروطه : ثلاثة : موت مورث حقيقة،أو حكما كمفقود ، أو تقديرا كجنين فيه غرة ،ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه ،

رد المحتار - (ج 18 / ص 8)

 أقول : حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: { سووا بين أولادكم في العطية، ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال } رواه سعيد في سننه، وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: " { اتقوا الله واعدلوا في أولادكم } " فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى ، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة .وفي الخانية ،ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة ، وأراد تفضيل البعض على البعض، روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين، وإن كانوا سواء يكره ،وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، وقال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى ، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال : ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف ، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث ، وتبعه أعيان المجتهدين ، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل ،

۲۔آپ کی والدہ اگر کسی شرعی اور معقول عذر کے بغیر اپنے شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے بڑے بیٹے (آپ)کے گھر رہ رہی ہےتوایسی صورت میں اس کاخرچہ اس کے شوہر کے ذمہ شرعاواجب نہیں، البتہ   اگرشوہر کی اجازت اور حکم سے رہ رہی ہے توایسی صورت میں وہ خرچہ کی مستحق ہے،لیکن ایسی صورت میں گزشتہ زمانے کاخرچ  نہیں لے سکتی الا یہ کہ پہلے سے ہی شوہر نے  آپس کی رضامندی سےسالانہ یا ماہانہ وغیرہ  کوئی مقدار متعین کی ہو یا عدالت نے کوئی مقدار متعین کی ہو تو اس کے گزشتہ زمانے کا مطالبہ بھی کرسکتی ہے۔( احسن الفتاوی:ج۵،ص،۵۶۳)

رد المحتار - (ج 10 / ص 129)

( و ) لها ( النفقة ) بعد المنع ( و ) لها ( السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة ؛ و ) لها ( زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه ) أي المعجل ، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة ، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك ، وإن أذن كانا عاصيين، والمعتمد جواز الحمام بلا تزين، أشباه وسيجيء في النفقة

( قوله ولها النفقة بعد المنع ) أي المنع لأجل قبض المهر ، ويشمل المنع من الوطء، وهي في بيته وهو ظاهر ، وكذا لو امتنعت من النقلة إلى بيته فلها النفقة كما يأتي في بابها ، وكذا لو سافرت .

رد المحتار - (ج 13 / ص 141)

( والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا ) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم ، فقبل ذلك لا يلزم شيء ، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض .

ولو اختلفا في المدة - فالقول له والبينة عليها .

مطلب لا تصير النفقة دينا إلا بالقضاء أو الرضا ( قوله والنفقة لا تصير دينا إلخ ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها، بل تسقط بمضي المدة .

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۷ذی الحجۃ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب