| 87839 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں نے اپنی بیوی کو خط میں لکھا کہ "آج میں آپ کو اپنے نکاح سے آزاد کرتا ہوں"،میری نیت ایک طلاق بائن کی تھی ،یعنی فوری نکاح ختم کرنے کی،میں نے یہ طلاق تحریری طور پر دی ہےاور طلاق کے لئے "آزاد" کا لفظ استعمال کیا ہے،اس بارے میں وضاحت درکار ہے کہ اس سے کون سی طلاق واقع ہوئی ہے؟نیز رجوع کا طریقہ بھی بتادیں۔
نوٹ :میں نے ابھی تک کوئی لفظ زبان سے ادا نہیں کیا،صرف تحریرمیں یہ جملہ لکھا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ اس جملے میں طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کا کوئی احتمال نہیں ہے،اس لئے اس کے ذریعے ایک رجعی طلاق واقع ہوئی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ آپ عدت اندر اندر بیوی سے زبانی یا عملی طور پر رجوع کرسکتے ہیں،نئے نکاح کی ضرورت نہیں،البتہ اگر عدت گزرنے سے پہلے آپ نے رجوع نہیں کیا تو پھر باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔
نیز طلاق کے واقع ہونے کے لئے زبان سے طلاق کے الفاظ بولنا ضروری نہیں،بلکہ تحریری طور پر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار"(3/ 299):
"ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت".
"بدائع الصنائع " (3/ 100):
"وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارة".
"الدر المختار " (3/ 246):
كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة".
قال ابن عابدین رحمہ اللہ: "(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
29/ذی الحجہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


