03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے سرٹیفیکیٹ کے حصول کےلئے فرضی طلاق نامے پر دستخط کرنے کا حکم
87883طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرا تعلق لاہور سے ہے اور میں پیشے کے لحاظ سے ایک سافٹ ویئر انجینئر ہوں۔ میں آپ کی خدمت میں طلاق کے ایک مسئلے کے سلسلے میں شرعی رہنمائی کا طلب گار ہوں۔میرا نکاح زنیرا فاطمہ سے سن 2021 میں ہوا۔ چند سال بعد معاملات بہتر نہ چل سکے تو اکتوبر 2023 میں میں نے اپنی اہلیہ کو پہلی طلاق دی، جو کہ یونین کونسل میں باقاعدہ رجسٹر بھی کروائی گئی۔ اس کے بعد ہم نے رجوع کر لیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد حالات پھر سے خراب ہو گئے اور ہمارے اختلافات مزید بڑھ گئے۔ میری نیت اپنی اہلیہ کو تین طلاقیں کبھی بھی دینے کی نہیں تھی، بلکہ صرف دوسری طلاق دینا چاہتا تھا۔ ہمارا ایک بیٹا بھی ہے۔ چنانچہ میں نے دوبارہ یونین کونسل سے رجوع کیا اور ان سے گزارش کی کہ مجھے طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری کریں ،کیونکہ پہلی طلاق کی مہر شدہ کاپی میں پہلے ہی انہیں دے چکا تھا۔ یونین کونسل کا عملہ مجھ پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہا کہ میں مزید دو نوٹس بھی جمع کرواؤں، لیکن میں اس پر راضی نہ ہوا۔ میں روزانہ یونین کونسل جا کر ان سے کہتا رہا کہ ایک ہی طلاق کے نوٹس پر سرٹیفکیٹ جاری کریں، لیکن انہوں نے انکار کیا۔ میں نے ایک وکیل بھی مقرر کیا اور اسے یونین کونسل بھیجا، لیکن اس کی بھی کوئی بات نہیں سنی گئی۔ میں نے اب تک اضافی نوٹسوں پر مہر نہیں لگائی اور نہ ہی جمع کروائے، کیونکہ میری نیت مزید طلاقیں دینے کی نہیں تھی۔ بعد ازاں، میں نے اپنی اہلیہ سے خود رابطہ کیا اور انہیں صاف الفاظ میں بتایا کہ میں آپ کو تین طلاقیں کبھی نہیں دوں گا، اور اگر سرٹیفکیٹ کے لیے کوئی کارروائی کی گئی تو وہ صرف کاغذی یا رسمی (فارمل) کارروائی ہوگی، جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ میں نے اپنی اہلیہ کو فون پر دوسری طلاق دی اور انہیں دوبارہ وضاحت کی کہ قانونی یا ریاستی سطح پر جو کچھ ہوگا، وہ محض سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ہوگا، نہ کہ حقیقتاً تیسری طلاق۔ یونین کونسل کی کارروائی کے دوران میرے والد اور وکیل دونوں موجود تھے اور وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ میں یونین کونسل کو صاف صاف بتا چکا تھا کہ جو نوٹس دیے جا رہے ہیں وہ جعلی اور فرضی ہیں۔ نہ وہ نوٹس کبھی بھیجے گئے، نہ ہی میری اہلیہ کو ان کے متعلق کوئی اطلاع دی گئی۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شرعی اعتبار سے کیا صرف دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اور کیا یونین کونسل کی یہ جعلی یا فرضی کارروائی شرعی طور پر کوئی حیثیت رکھتی ہے؟

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ سرٹیفیکیٹ کے حصول کے لئے میں نے بہت کوشش کی کہ ایک طلاق کی درخواست پر مل جائے ،مگر عملہ کی نا اہلی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا، اس لئے مجبورا مجھے  تین طلاقوں کا اسٹامپ یونین کونسل میں جمع کروانا پڑا۔ اسٹامپ دیتے وقت میں نے اہلیہ اور گھر کے افراد کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ جعلی اور فرضی ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح ہو کہ  زبانی یا  پھر لکھ کر دونوں طریقوں سے  طلاق دینےسے شرعاً  طلاق واقع  ہو  جاتی ہے،  صورت مسئولہ اگر حقیقت پر مبنی ہے تو جب آپ نے پہلی مرتبہ اہلیہ کو طلاق دی اور پھر رجوع کر لیا تھا تو آپ کے پاس دو طلاقیں دینے کا اختیار تھا، اس کے بعد جب فون پر آپ نے دوسری طلاق دے دی تو آپ کی اہلیہ پر دوسری طلاق واقع ہو چکی ہے اور آپ کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ۔اب آپ کے پاس صرف ایک طلاق دینے  کا  حق باقی ہے۔

 فرضی طلاق نامہ بناتے وقت اگر گواہوں کے روبرو اس بات کی صراحت کی جائے کہ یہ طلاق نامہ محض فرضی اور جعلی ہے،تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، لہذامسئولہ صورت میں اگر آپ نے بھی کم از کم دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے یہ بات واضح کی تھی تو ایسے میں  یونین کونسل کی طرف سے کی گئی کاروائی کی حیثیت طلاق کی  نہیں ہو گی۔

حوالہ جات

العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي (4/ 3):

(الطلاق على ضربين: صريح، وكناية. ‌فالصريح ‌قوله: أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي)

الدر المختار )293/3🙁

 قال: أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة شرح وهبانية.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 238):

‌لو ‌أراد ‌به ‌الخبر ‌عن ‌الماضي ‌كذبا ‌لا ‌يقع ‌ديانة، ‌وإن ‌أشهد ‌قبل ‌ذلك ‌لا ‌يقع ‌قضاء ‌أيضا. اهـ

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 254):

‌وإذا ‌طلق ‌الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231]

       ارسلان نصیر

    دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

      02 /محرم/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب