| 87882 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
میری بیٹی کا رشتہ طے ہوا ہے ،لڑکا اچھا ہے ، البتہ اس کے گھر والے سونا مانگ رہے ہیں کہ دولھا کی چین اور انگوٹھی، سسر کی انگوٹھی اور ساس کی چین دی جائے ۔ ہم کیا کریں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ نکاح اور شادی ایک سنت عمل ہے جس کے ذریعے اگرچہ لڑکا اور لڑکی دونوں کے خاندان مل کر ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں ، تاہم اس لحاظ سے لڑکی والے زیادہ قربانی دیتے ہیں کہ ان کی بچی اپنا گھر بار ،والدین اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر لڑکے والوں کے گھر آتی ہے ، گویا لڑکی کے والدین اپنا گوشہ جگر لڑکے اور اس کے خاندان کے حوالہ کرتے ہیں ، ایسے میں لڑکے والوں کا دینی ،اخلاقی اور معاشرتی فرض یہ بنتا ہے کہ اگر وہ لڑکی والوں سے کسی قسم کا مالی تعاون نہیں کرسکتے تو کم ازکم ان سے کسی اور چیز کا مطالبہ نہ کریں ۔ یہ انتہائی بری اور بے مروتی کی بات ہے بلکہ اگر اس پر اصرار کرکے جبراً کچھ لیا جائے تو یہ رشوت اور ناجائز ہے ۔
حوالہ جات
مشكاة المصابيح،باب الغصب والعارية، (2611/1) :
قال رسول الله صلی الله عليه وسلم:ألا لاتظلمواألالايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
02/محرم الحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


