03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دباؤ میں آکر اسٹامپ پیپر پر تین طلاق کے دستخط کا حکم
87845طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میں محمد جاوید اقبال یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ میں ایک مریض ہوں، مجھے ہائی بلڈ پریشر، ڈپریشن اور نفسیاتی مسائل لاحق ہیں، جن کا باقاعدہ علاج جاری ہے۔ جب مجھے غصہ آتا ہے تو میں اپنے حواس میں نہیں رہتا۔ مجھے نہ اپنی باتوں کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے افعال کا۔ اس کیفیت میں مجھے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں یا کیا کر رہا ہوں۔

میرے گھر والے، سسرال والے اور میری اہلیہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ میں نفسیاتی مریض ہوں اور غصے کی حالت میں مکمل طور پر بے قابو ہو جاتا ہوں۔ اسی حالت میں ایک مرتبہ غصے میں میں نے اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہے، کہ میں تمھیں طلاق دیتاہوں  جن کا مجھے بعد میں علم ہوا  جب میری بیوی نے مجھے بتایا کہ میں نے یہ الفاظ کہے تھے۔

بعد ازاں  اپنے والد صاحب کے سخت ذہنی دباؤ میں آکر میں نے اسٹامپ پیپر پر تین طلاقیں تحریر کر دیں، حالانکہ میری طرف سے طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میرے والد صاحب نے مجھے کہا تھا کہ اگر تم نے طلاق نہیں دی تو تمہیں گھر سے نکال دیا جائے گا اور جائیداد سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ اس دباؤ کی حالت میں بغیر رضامندی کےمیں نے یہ طلاق تحریر کی۔میرا سوال یہ ہے کہ ایسی حالت میں جب انسان نفسیاتی مریض ہو، یا غصے کی حالت میں ہوش و حواس میں نہ ہو، یا دباؤ میں طلاق دے تو کیا شریعت محمدی کی رو سے طلاق واقع ہوتی ہےیانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ  مسئولہ  میں بیوی کو ایک بار یہ الفاظ کہنا کہ میں تمھیں طلاق دیتا ہوں  ،کاحکم یہ ہے کہ   اگر واقعتًا آپ اس وقت   انتہائی غصے کی حالت  میں تھے اور ہوش و حواس برقرار نہیں تھےکہ منہ  سے نکلنے  والے الفاظ پر  کنٹرول باقی رہتا،جبکہ   اس سے پہلے بھی اس طرح کا واقعہ پیش آچکا ہو، یعنی انتہائی غصے میں ہوش و حواس کھودینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تو  اس کیفیت میں طلاق دینے  سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

البتہ   والد  کے گھر سے نکال دینے اور جائیداد سے محروم کردینے کی  دھمکی  کے ساتھ  طلاق کا کہنے پر سخت ذہنی دباؤ میں آکر آپ  نےجو  اسٹامپ پیپر پر تین طلاق کے دستخط  کیے، تو اس صورت کے حکم  میں شرعی اصول یہ ہے کہ جب   ایسی دھمکی کے ذریعےکسی کو   طلاق پر مجبورکردیا جائے کہ وہ دھمکی دینے والا اس  کے واقع کرنےپر قادر ہو اور یہ مجبور شخص اس   دھمکی سے اس طرح  خوف زدہ ہوکہ اس کو دھمکی دینے والے کی بات نہ ماننے کی صورت میں اس کےدھمکی کو واقع کردینے کا غالب گمان ہو،پھر یہ طلاق کی نیت کے بغیر صرف دستخط کردے تو طلاق واقع نہ ہوگی،لیکن طلاق کی نیت ہوتو پھر دستخط کرتے ہی طلاق واقع ہوجائے گی، لہذا اگر آپ کا غالب گمان یہی تھاکہ  میرا باپ  میرے ساتھ ایسا  کرگزرےگا ،اور اسی  کے نتیجے میں واقعتا طلاق کی نیت کے بغیرصرف والد کی دھمکی سے بچنے کے لیے  آپ نے دستخط   کیے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ،کیونکہ   احناف کے نزدیک حالتِ اکراہ میں  بغیر نیت کےتحریری طلاق واقع نہیں ہوتی۔

 فتاوى  قاضي خان(1/ 416) مكتبة رشيدية، كوئٹة:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.

تبویب: 86451

ہمارے اکابر کے بعض فتاوی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کتابتِ طلاق بغیر آدمی کی رضامندی کے معتبر نہیں، چنانچہ  فتاوی رحيمیہ میں حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ  کا ایک فتوی نقل کیا گیا ہے، جس میں محض والد کی ناراضگی کو عدمِ رضامندی کی وجہ سے تحریراً طلاق کےوقوع سے مانع قرار دیا ہے:"(سوال ۸۸۹/۱۶۳ ) مسماۃ بیگم جو کہ بندہ کےنکاح میں تھی ،والد صاحب کو چند آدمی نے کہا کہ اس کو (اپنے لڑکے کو) اس سے ( اس کی بیوی سے ) علیحدہ کرا دیجئے، بندہ نے با ادب والد صاحب کو یہ جواب دیا کہ میری حالت اس کوترک کرنے سے ابتر ہو جائے گی ، والد نے کہا تجھ سے کبھی نہ بولوں گا ،اس پر بندہ نے دو روپیہ کے کاغذ کا اسٹامپ خرید کر ایک پر طلاق نامہ لکھا گیا اور دوسرے پر مہر نامہ، اس وقت میری حالت ابتر اور خراب تھی مجھ کو خبر  نہ تھی کہ کس حالت میں ہوں،مجھ پر صدمہ پڑا ہوا تھا،کبھی روتا تھا، کبھی خاموش ہو جاتا تھا، یہ بات قسمیہ عرض ہے ،جہاں تک مجھ کو خیال ہے اس حالت میں مجھ سے لفظ طلاق دو مربتہ نکل گیا تو یہ جائز ہے یا نہیں؟(الجواب) کاغذ کی لکھی ہوئی طلاق تو اس حالتِ عدمِ رضا میں نہیں واقع ہوئی، مگر زبان سے دو مرتبہ طلاق کا لفظ نکلا اس سے دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ، عدت کے اندر رجوع کرنا درست ہے" ۔ فقط واللہ اعلم(فتاوی رحیمیہ:ج: 8ص:273بحوالہ فتاوی دارالعلوم دیوبندج3،4،ص242)                                                                              

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ 229،223:

{‌الطَّلاقُ ‌مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} ۔۔۔فإن طلقہافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ۔

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 80) دار الكتاب الإسلامي:

وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان. وفي الخانية، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 128)

الإكراه. (هو لغة حمل الإنسان على) شيء يكرهه وشرعا (فعل يوجد من المكره فيحدث في المحل معنى يصير به مدفوعا إلى الفعل الذي طلب منه) وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 746):

«قوله بالضرب) الظاهر أنه أراد به المبرح ط (قوله على الخلع) أي على المخالعة معه بمال (قوله لأن ‌طلاق ‌المكره واقع) كذا علل الزيلعي وغيره وتعقبه الشلبي بأنه إذا كان الزوج، هو الذي أكرهها لا يصح هذا التعليل إلا إذا قرئ وإن أكرهها أي الزوج والمرأة أي أكرههما إنسان اهـ أبو السعود: أقول: أو يقرأ المكره بالكسر اسم فاعل (قوله ولا يلزم المال) أي بدل الخلع ولما كان ذلك البدل تارة يكون ما في ذمة الزوج من المهر وتارة يكون غيره وقد عبر المصنف بما يناسب الأول، وهو السقوط عبر الشارح بما يناسب الثاني جمعا بينهما»

الموسوعة الفقهية الكويتية (7/ 126، بترقيم الشاملة آليا)

ولخصّ ذلك كلّه فقهاؤنا إذ قالوا : الإكراه لغةً : حمل الإنسان على شيءٍ يكرهه ، يقال : أكرهت فلاناً إكراهاً : حملته على أمرٍ يكرهه . والكَرْه " بالفتح " اسم منه ( أي اسم مصدرٍ ) . أمّا الإكراه في اصطلاح الفقهاء فهو : فعل يفعله المرء بغيره ، فينتفي به رضاه ، أو يفسد به اختياره . وعرّفه البزدويّ بأنّه : حمل الغير على أمرٍ يمتنع عنه بتخويفٍ يقدر الحامل على إيقاعه ويصير الغير خائفاً به .

محمد ابرہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی

4/محرم الحرام/7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب